ہیرا ( ازبک لوک کہانی)

تحریر : دانیال حسن چغتائی


ایک کسان کو کھیت میں ہل چلاتے ہوئے ایک قیمتی ہیرا مل گیا۔ وہ سب کی نظروں سے بچا کر اسے گھر لے آیا اور اپنے گھر کی پچھلی دیوار کے ساتھ دفنا دیا۔ جب بھی اسے فرصت کے لمحے ملتے وہ زمین کھودتا ، ہیرے کو گھما گھما کے دیکھتا اور جب جی بھر جاتا تو پھر وہیں دفنا کر چلا جاتا۔

 اسی طرح وقت گزرتا رہا اور کئی سال بیت گئے۔ چونکہ وہ ہیرے کی قیمت سے نابلد تھا تو اس لیے وہ اس سے کوئی بھی خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھا سکا۔ اْس کے نزدیک تو وہ محض ایک شیشے کا ٹکڑا تھا جس میں سے روشنی مختلف زاویوں سے گزرتی اور رنگ تبدیل کرتی تھی۔ وہ تو بس گھما گھما کر ان گزرتی روشنیوں کے بدلتے رنگوں کا مزے لیتا۔

 ایک دن جب وہ ارد گرد سے بے خبر ہیرے کو دیکھنے میں مشغول تھا تو ایک چور کی اس پر نظر پڑ گئی۔ وہ اْدھر ہی گھات لگا کر بیٹھ گیا اور جیسے ہی کسان ہیرے کو دفنا کر چلا گیا تو چور جھٹ سے آیا اور ہیرے کو نکال کر لے گیا۔

کچھ دنوں بعد کسان حسب معمول ہیرے کو دیکھنے آیا لیکن وہاں ہیرے کو نہ پا کر وہ تھوڑا سا سوچ میں لازمی پڑ گیا لیکن اسے افسوس بالکل نہیں ہوا۔ سوچ میں وہ صرف اس لیے پڑا کہ یہ جگہ تو سب سے محفوظ تھی تو پھر یہاں سے وہ روشنیاں دیکھنے والا شیشے کا ٹکڑا کون لے گیا؟ اور افسوس اسے اس لیے نہیں ہوا کہ اسے کونسی اس ہیرے کی قیمت کا اندازہ تھا۔ 

تو پیارے بچو! حاصل تحریر یہ ہے کہ آئیے ہم بھی اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائیں۔ یقین کریں ہمیں بھی بہت سے قیمتی ہیرے نظر آئیں گے لیکن صرف قدر نہ ہونے کے باعث ہمیں ان کی قیمت کا اندازہ نہیں ہے۔

 وہ قیمتی ہیرے آپ کے والدین اور بہن بھائی بھی ہو سکتے ہیں، آپ کا پیارا وطن پاکستان بھی ہو سکتا ہے، آپ کا وقت بھی ہو سکتا ہے، آپ کے گھر کا پر سکون ماحول بھی ہو سکتا ہے، آپ کے خاندان میں سب کا ایک دوسرے سے پیار اور آپ کی اچھی صحت بھی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے چیزوں کو ظاہری طور پر دیکھیں کہ بجائے ان کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 12)

رزق اللہ کے ذمہ:آغازِ پارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے‘ وہ، اُس کے قیام کی جگہ (اس سے مراد باپ کی پُشت یا ماں کا رَحم یا زمین پر جائے سکونت ہے) اور سپردگی کی جگہ (اس سے مراد مکان یا قبر ہے)، سب کچھ روشن کتاب میں مذکور ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 12)

رزق منجانب اللہ:اس پارے کا آغاز سورۂ ہود سے ہوتا ہے۔ سورہ ہود کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا ذکر کیا ہے کہ زمین پر چلنے والا کوئی چوپایہ ایسا نہیں‘ جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اس کے ٹھکانے کو اور اس کے پلٹنے کی جگہ کو نہ جانتے ہوں اور یہ ساری تفصیل لوحِ محفوظ میں محفوظ ہے۔

پاکستان ہاکی میں انتظامی تبدیلیاں

قومی کھیل تنازعات کاشکار،وزیراعظم کابڑافیصلہ: محی الدین وانی کی تقرری کا خیرمقدم، خواجہ جنید کی تقرری پر سوالات اٹھ گئے: سابق صدرطارق بگٹی اور سیکرٹری رانا مجاہد طویل عرصے سے تنقید کی زد میں تھے،ان کے استعفوں کو ہاکی حلقوں میں’دیر آید درست آید‘قرار دیا جا رہا ہے

اُم المومنین حضرت سیدہ خدیجۃرضی اللہ عنہا

ہرمشکل گھڑی میں حضور نبی کریم ﷺ کی رفیق:اسلام کی خاتون اوّل، مومنہ اوّل اور رسول خدا ﷺ کی منکوحہ اوّل نے ہر موقع پر ایک وفا شعار زوجہ ہونے کا حق ادا کیا