پاکستان ہاکی میں انتظامی تبدیلیاں
قومی کھیل تنازعات کاشکار،وزیراعظم کابڑافیصلہ: محی الدین وانی کی تقرری کا خیرمقدم، خواجہ جنید کی تقرری پر سوالات اٹھ گئے: سابق صدرطارق بگٹی اور سیکرٹری رانا مجاہد طویل عرصے سے تنقید کی زد میں تھے،ان کے استعفوں کو ہاکی حلقوں میں’دیر آید درست آید‘قرار دیا جا رہا ہے
پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ایک بار پھر تنازعات کا شکار ہے، لیکن بدقسمتی سے اس کی وجہ کوئی تمغہ یا جیت نہیں بلکہ وہ انتظامی ابتری ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر قومی ساکھ کو متاثرکیا۔ آسٹریلیا میں کھیلی گئی پرو لیگ کے دوران جو کچھ ہوا، اس نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ڈھانچے میں موجود دراڑوں کو واضح کر دیا ہے۔آسٹریلیا میں پرو لیگ کے دوران پاکستان ہاکی ٹیم کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا، وہ کسی بھی پیشہ ورانہ سپورٹس فیڈریشن کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ قومی ہیروز کو پردیس میں روز مرہ کے اخراجات(ڈیلی الائونسز)کیلئے تڑپایا گیا۔ ٹیم کو کٹس اور سفری سہولیات کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کا براہِ راست اثر کھلاڑیوں کی ذہنی حالت اور میدان میں ان کی کارکردگی پر پڑا۔ ایک ایسی ٹیم جو کبھی دنیا پر حکمرانی کرتی تھی، اسے انتظامی نااہلی کی وجہ سے عالمی میڈیا میں منفی کوریج کا سامنا کرنا پڑا۔ان تمام واقعات کے بعد پی ایچ ایف کے اندر چھپا ہوا لاوا پھٹ پڑا۔ سابق صدرطارق بگٹی اور سیکرٹری رانا مجاہد، جو طویل عرصے سے تنقید کی زد میں تھے، بالآخر اخلاقی اور حکومتی دبائو کے سامنے ڈھیر ہو گئے اور اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے۔ ان استعفوں کو ہاکی حلقوں میں ’’دیر آید درست آید‘‘قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ فیڈریشن کے اندر گروہ بندی اور مالی بے ضابطگیوں کی شکایات عام ہو چکی تھیں۔
صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سرپرستِ اعلیٰ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری محی الدین وانی کو پی ایچ ایف کا عبوری صدر مقرر کر دیا۔محی الدین وانی ایک منجھے ہوئے بیوروکریٹ ہیں اور اپنی انتظامی صلاحیتوں کے حوالے سے اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی تقرری کا مقصد فیڈریشن کو وقتی طور پر مستحکم کرنا اور ہاکی کے معاملات کو سیاسی و ذاتی مفادات سے پاک کر کے چلانا ہے۔نئے عبوری صدر کے سامنے کانٹوں کی سیج ہے، انہیں نہ صرف کھلاڑیوں کا اعتماد بحال کرنا ہے بلکہ کئی اہم امور بھی سرانجام دینے ہیں۔پچھلے دور میں ہونے والے اخراجات اور فنڈز کی بندر بانٹ کا حساب لینا تاکہ مالی نظم و ضبط قائم ہو سکے۔ فیڈریشن کو ایک جدید اور پیشہ ورانہ ادارے میں تبدیل کرنا جہاں میرٹ کو اوّلیت حاصل ہو۔ غیر جانبدارانہ طریقے سے نئے الیکشن کروا کر ہاکی کی باگ ڈور اصل سٹیک ہولڈرز (کھلاڑیوں اور سچے خیر خواہوں)کے حوالے کرنا۔
پی ایچ ایف کے عبوری صدر نے قومی کھیل کی بہتری کیلئے ٹیم مینجمنٹ کی تبدیلی سمیت کئی شارٹ ٹرم فیصلے کیے ،تاہم ایک طرف سٹیک ہولڈرز نے عبوری صدر کی تقرری کا خیرمقدم کیا ہے تو دوسری جانب نئے ہیڈکوچ کی تقرری پر سوالات اٹھ گئے ۔پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق منیجر اور اولمپیئن خواجہ جنید پر 2022 ء کے ایشیا کپ کے دوران پیش آنے والے ایک سنگین واقعے کی وجہ سے پابندی لگائی گئی تھی۔ایشیا کپ کے ایک اہم میچ میں پاکستان کا مقابلہ جاپان سے تھا۔ اس میچ میں پاکستان کو ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کرنے(سیمی فائنل میں پہنچنے) کیلئے صرف ایک ڈرا(برابر)کی ضرورت تھی۔ میچ کے دوران ایک موقع پر جب سکور 3-2 (جاپان کے حق میں)تھا، پاکستان کی جانب سے ایک گول کیا گیا جس سے سکور برابر ہو سکتا تھا۔لیکن امپائرز نے وہ گول منسوخ کر دیا کیونکہ اس وقت پاکستان کے 11 کے بجائے 12 کھلاڑی میدان میں موجود تھے۔اس فاش غلطی کی وجہ سے پاکستان وہ میچ3-2سے ہار کر 2023 ء کے ورلڈ کپ کی دوڑ سے باہر ہو گیا۔پی ایچ ایف نے اس شرمناک واقعے کی تحقیقات کیلئے ایک کمیٹی بنائی۔ میدان میں کھلاڑیوں کی تعداد اور تبدیلی کی نگرانی کرنا ٹیم منیجر کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔
اگرچہ اس وقت کے ہیڈ کوچ سیگفرائیڈ ایکمین نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن انکوائری کمیٹی نے خواجہ جنید کو بنیادی طور پر قصوروار ٹھہرایا۔ جنوری 2023 ء میں پاکستان ہاکی فیڈریشن نے انکوائری رپورٹ کی روشنی میں خواجہ جنید پر تاحیات پابندی عائد کر دی۔ان پر الزام تھا کہ ان کی لاپرواہی کی وجہ سے پاکستان کو نہ صرف میچ ہارنا پڑا بلکہ عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ فیڈریشن کے عبوری صدر نے خواجہ جنید کو دوبارہ مصر میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائرز کیلئے ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو ان کی پابندی ختم کر دی گئی ہے یا فیڈریشن کے نئے سیٹ اپ نے پرانے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ فیڈریشن کا ماننا ہے کہ ان کا وسیع تجربہ ٹیم کے کام آسکتا ہے۔
پاکستان ہاکی ٹیم اس وقت مصر میں ہونے والے کوالیفائنگ رائونڈکیلئے موجود ہے۔اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کے ساتھ مصر، جنوبی افریقہ، اور کچھ یورپی ٹیمیں شامل ہیں۔ پاکستان کو 2026 ء کے ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کرنے کیلئے ٹورنامنٹ کے ٹاپ 3 میں آنا ضروری ہے۔ پچھلے ایک سال میں پاکستان ہاکی میں بہتری کے کچھ آثار نظر آئے ہیں،پاکستان نے حالیہ اذلان شاہ کپ میں شاندار کارکردگی دکھائی، جہاں وہ فائنل تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔ پاکستان ہاکی اس وقت ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ بدانتظامی نے جہاں دل دکھائے ہیں، وہیں نئی قیادت کی آمد نے اصلاحات کی ایک موہوم سی امید بھی پیدا کی ہے۔ کیا محی الدین وانی قومی کھیل کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دے پائیں گے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، مگر فی الحال پاکستان ہاکی کو ’’سرجری‘‘کی سخت ضرورت ہے۔