سیدہ خدیجۃ الکبری ٰ رضی اللہ عنہا

تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن


نبی کریمﷺ کی سب سے پہلی مونس و مددگار

تاریخ کا رخ بدلنے میں جن خواتین نے اہم کردارسرانجام دیا ہے ان میں سرفہرست اور سنہری حروف سے لکھا گیا مقدس اسم گرامی اُم المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کابھی ہے۔ اُم المومنین سیدہ خدیجۃ الکبری عرب کی معزز ترین اور دولت مند خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ علم و فضل اور ایمان و ایقان میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہیں۔

آپ کا نام خدیجہ تھا سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے خدیجہ بنت خویلدبن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی بن کلاب، آپ رضی اللہ عنہا کا نسب چوتھی پشت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جاتاہے۔ آپ کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنو اسدسے تھا،بنو اسد اپنی شرافت، ایمانداری اورکاروباری معاملات کی وجہ سے لوگوں کی نگاہ میں قابل عزت و احترام تھا۔ ذیل میں حضرت ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی چند امتیازی خصوصیات کا تذکرہ کیا جاتا ہے ۔

کڑے حالات میں تسلی

نکاح کے تقریباً 15برس بعد اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو شرف ختم نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور آپﷺ پر شدید حالات آئے تو اس کڑے وقت آپﷺ کو جس طرح کی دانش مندانہ و ہمدردانہ تسلی کی ضرورت تھی وہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و توفیق سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہی سے ملی۔آپ ﷺ اعلان نبوت سے پہلے تنہائی میں عبادت کرنے کیلئے غار حرا میں تشریف لے جایا کرتے تھے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺکیلئے کھانے پینے کا سامان تیار کر کے دے دیا کرتی تھیں۔ آپ ﷺ حرا میں کئی کئی راتیں ٹھہرتے، اللہ کی یاد میں مصروف رہتے، کچھ دنوں بعد تشریف لاتے اور سامان لے کر واپس چلے جاتے۔ایک دن حسب معمول آپ ﷺ غار حرا میں مشغول عبادت تھے کہ جبرئیل امینؑ تشریف لائے اور فرمایا کہ اِقرا یعنی پڑھئے! آپ ﷺنے فرمایا: مَا اَنَا بِقَارِی میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ جبرائیل امین ؑنے آپ ﷺکو پکڑ کر اپنے سے چمٹا کر خوب زور سے بھینچ کر چھوڑ ا اور عرض کی اِقرا (پڑھئے) آپﷺ نے پھر وہی جواب دیا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔

جبرائیل امین ؑنے دوبارہ آپﷺ کو اپنے سے چمٹا کر خوب زور سے دبا کر چھوڑا اور پھر پڑھنے کو کہا۔ آپ ﷺنے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہو ا نہیں ہوں فرشتے نے پھر تیسری مرتبہ آپﷺ کو پکڑ کر اپنے سے چمٹایا اور خوب زور سے دبا کر چھوڑ دیا اور خود پڑھنے لگے:اِقرا بِاسمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ o خَلَقَ الاِنسَانَ مِن عَلَقٍ o اِقرا وَرَبّْکَ الاَکرَمْ o الَّذِی عَلَّمَ بِالقَلَمِ o عَلَّمَ الاِنسَانَ مَالَم یَعلَم oیہ آیات مبارکہ سن کر آپﷺ نے یاد فرما لیں اور ڈرتے ہوئے گھر تشریف لائے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ''زملونی زملونی‘‘ مجھے کپڑا اوڑھا دو مجھے کپڑا اوڑھا دو۔انہوں نے آپﷺ کو کپڑا اوڑھا دیا اور کچھ دیر بعد وہ خوف کی کیفیت ختم ہوئی، آپﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو واقعہ سنایا،فرمایا:مجھے اپنی جان کا خوف محسوس ہو رہا ہے۔عموماً خواتین ایسے حالات میں گھبرا جاتی ہیں اورتسلی دینے کے بجائے پریشان کن باتیں شروع کر دیتی ہیں لیکن آپ رضی اللہ عنہا ذرہ برابر بھی نہ گھبرائیں اور تسلی دیتے ہوئے فرمایا:خدا کی قسم!اللہ تعالیٰ آپ ﷺکو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپﷺ توصلہ رحمی کرتے ہیں،بے کس و ناتواں لوگوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں، دوسروں کو مال واخلاق سے نوازتے ہیں۔ مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق بجانب امور میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔

اسلام کی خاتونِ اوّل ہونے کا اعزاز

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نزول وحی کے ابتدائی ایام میں آپﷺ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو مکہ کی پوری آبادی میں موحد صحیح العقیدہ نصرانی اور توریت و انجیل کے بڑے عالم و عامل تھے، انہوں نے آپ ﷺ سے غارحرا میں جبرائیلؑ اور نزول وحی کی سرگزشت سن کر پختہ یقین کے ساتھ آپ ﷺکے نبی ہونے کی بات کہی توآپ ؓنے فوراً اسلام قبول کر لیا۔ پوری امت میں سیدہ خدیجہ ؓ سب سے پہلے آپ ﷺکے برحق نبی ہونے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔

اپنی دولت رسول اللہ پر لٹا دی

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اللہ کریم نے دولت مندی کی نعمت سے بھی خوب نوازا تھا،آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی پوری دولت اور اپنے غلام زید کو آپﷺ کے قدموں میں ڈال دیا اور آپﷺ کودین اسلام کی اشاعت کے مقدس مشن میں گھریلو معاشی افکار سے بے نیاز کر دیا۔

بت پرستی سے بیزاری

اہل مکہ بت پرستی کے شرک میں مبتلا تھے،لیکن جاہلیت کے اس دور میں گنتی کے دوچار آدمی ایسے بھی تھے جن کو فطری طور پر بت پرستی سے نفرت تھی، ان میں ایک اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔

شِعبِ ابی طالب میں تین سالہ محصوری

مشرکین مکہ نے نبی کریم ﷺ کی دعوت اسلام کو روکنے کے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے یہاں تک کہ انہوں نے آپﷺ کا ا ور آپﷺ کے خاندان بنو ہاشم کے ان تمام لوگوں کا بھی جو آپﷺ کی نسبی اور قرابتی تعلق کی وجہ سے آپﷺ کی کسی درجہ میں حمایت کرتے تھے کا سوشل بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور آپﷺ کے قریبی رشتہ دار بھی شعب ابی طالب میں محصور کر دیے گئے۔ انہیں کھانے پینے اور بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا گیا اور یہ بائیکاٹ تین سال کے عرصہ تک محیط رہا، یہاں تک کہ ان لوگوں کو کبھی کبھی درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرنا پڑا۔ ایام محصوری کے اس تین سالہ دور میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺکے ہمراہ رہیں۔

آپؓ کے ہوتے ہوئے دوسرا نکاح نہیں کیا

نبی کریم ﷺ نے جب اُم المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی کی اس کے بعد تقریباً 24 سال تک آپ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں، اس پورے 24 سالہ دور میں رسول اللہ ﷺنے کوئی دوسرا نکاح نہیں فرمایا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

اُم المومنین حضرت سیدہ خدیجۃرضی اللہ عنہا

ہرمشکل گھڑی میں حضور نبی کریم ﷺ کی رفیق:اسلام کی خاتون اوّل، مومنہ اوّل اور رسول خدا ﷺ کی منکوحہ اوّل نے ہر موقع پر ایک وفا شعار زوجہ ہونے کا حق ادا کیا

خلاصہ قرآن(پارہ 11)

ناپاک لوگ:اس پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو مطلع فرمایا کہ جب آپ سفرِ جہاد سے واپس مدینہ طیبہ پہنچیں گے تو بغیر کسی عذر کے جہاد سے پیچھے رہ جانے والے منافقین جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے عذر پیش کریں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 11)

صحابہ کرامؓ کیلئے انعام:گیارہویں پارے کا آغاز سورۂ توبہ سے ہوتا ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے مہاجر اور انصار صحابہ کرامؓ میں سے ایمان پر سبقت لے جانے والے صحابہ کرامؓ کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو ااور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کیلئے اپنی جنتوں کو تیار کر دیا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور یہ بہت بڑا اجر ہے۔

ادائیگی زکو ٰۃ:فرائض، شرائط اور اہم فقہی نکات

’’اور نماز پڑھا کرو،اور زکوٰۃ دیاکرو‘‘(سورۃ النور) معدنیات پر 1/5، بارانی زمین پر 1/10، غیر بارانی زمین پر 1/20، سونا،چاندی اور مال تجارت پر 1/40 زکوٰۃ کی شرح مقرر ہے

رمضان المبارک: تقویٰ اور اصلاح باطن کا مہینہ

روزہ انسانی نفس کی تربیت اور روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے

مسائل اور ان کا حل

اذان کے اختتام تک سحری کھانا : سوال: ایک شخص سحری کر رہا تھا کہ اسی دوران اذان فجر شروع ہو گئی لیکن یہ شخص اذان کے اختتام تک کھانا کھاتا رہا تو اس کے روزے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا کوئی ایسی روایت موجود ہے کہ جس میں یہ فرمایا گیا ہو سحری کا وقت ختم ہونے کے باوجود کسی آدمی نے ہاتھ میں کوئی لقمہ کھانے کی نیت سے اٹھایا ہوا تھا اور اذان شروع ہو گئی تو اس کو کھا لینے کے باوجود بھی اس کا روزہ صحیح ہو جائے گا۔(طاہر علی، شیخوپورہ)