اِنتظارکی گھڑیاں ختم،پاک بھارت ٹاکراآج

تحریر : زاہداعوان


بھارت نوازآئی سی سی گھٹنے ٹیکنے پرمجبور:ٹی 20ورلڈ کپ 2026ءکے گروپ مرحلہ میں دونوں ٹیمیں دو،دو میچ جیت چکی ہیں

انتظار کی گھڑیاں ختم، آئی سی سی مینزٹی 20 ورلڈ کپ2026ء کے سب سے بڑے اور اہم میچ میں دنیائے کرکٹ سے سب سے بڑے روایتی حریف پاکستان اور بھارت آج کولمبو میں ٹکرائیں گے۔ اس میچ کیلئے پاکستان نے میزبان ہمسایہ ملک کے ساتھ ساتھ بھارت نواز آئی سی سی کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ٹی 20 کرکٹ ورلڈکپ کے27ویں گروپ سٹیج میچ کا دنیا بھر کے شائقین کرکٹ کو شدت سے انتظار تھا۔ 

دونوں ٹیموں کی ماضی میں باہمی ٹی 20 انٹرنیشنل میچز میں کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اب تک دونوں روایتی حریفوں کے مابین کل 16ٹی 20 انٹرنیشنل میچ کھیلے جا چکے ہیں، جن میں سے13بھارت اور 3 پاکستان نے جیتے ہیں۔ ٹی20 ورلڈکپ میں اس سے قبل دونوں ٹیمیں 8بار مدمقابل آ چکی ہیں، جن میں سے بھارت نے7اور پاکستان نے 1میچ جیتا۔ کولمبو کے میدان میں دونوں ٹیموں نے اس سے قبل 2012ء میں واحد ٹی 20 انٹرنیشنل میچ کھیلا تھا جس میں روایتی حریف کامیاب رہا۔ آج کے میچ کیلئے گرین شرٹس ایک نئے جوش وجذبے کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔ قومی ٹیم اس ایونٹ کے آغاز سے کولمبو میں ہے اور ماحول سے ایڈجسٹ ہونے کا فائدہ پاکستان کو ہوگا۔

بنگلہ دیش کی جانب سے بھارت میں جاری ٹی 20 ورلڈکپ 2026 ء میں شرکت پر اپنی ٹیم کیلئے سکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے وینیوز کی تبدیلی کی درخواست کی تھی، جسے آئی سی سی نے مسترد کر دیا تھا۔آئی سی سی کے اس دوہرے معیار پر بنگلہ دیش نے احتجاجاً ایونٹ سے دستبرداری کا اعلان کیا تو آئی سی سی نے بنگلہ دیش سے بات کرنے کے بجائے ایونٹ سے اسے نکال دیا اور ان کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا۔پاکستان نے اپنے مشرقی بھائی بنگلہ دیش کے خلاف آئی سی سی کے متنازع اور جانبدارانہ فیصلے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اس اقدام کو دوہرا معیار قرار دیاتھا اور بنگلہ دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ٹی 20 ورلڈ کپ کے آج 15فروری کوبھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کرکے کرکٹ کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیاتھا۔جس  کے بعد پاکستان کو یہ میچ کھیلنے پر راضی کرنے کیلئے عالمی سطح پر کوششیں اور سفارتکاری شروع ہوئی کیونکہ یہی میچ ورلڈکپ کا سب سے اہم تھا اور پاکستان کے انکار سے آئی سی سی اور میزبان بھارت و سری لنکا کو بھاری مالی نقصان ہونا تھا۔ اس حوالے سے آئی سی سی، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی ہوئے جن کیلئے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ(بی سی بی) کے صدر امین الاسلام اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ نے لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی سے ملاقات کی جبکہ سری لنکن صدر نے بھی وزیراعظم پاکستان محمد شہبازشریف سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے گرین شرٹس کی انڈیا کیخلاف میچ کھیلنے کی درخواست کی۔ 

پی سی بی ہیڈ کوارٹر میں مذاکرات کئی گھنٹوں تک جاری رہے، محسن نقوی، عمران خواجہ اور بنگلہ دیش کرکٹ کے صدر امین الاسلام میٹنگ میں شریک تھے۔ملاقات کا ایجنڈا ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کو بھارت کے خلاف رانڈ میچ کھیلنے پر آمادہ کرنا تھا۔ پاکستا ن کی جانب سے بھارت کے خلاف آج کا میچ کھیلنے کیلئے کڑی شرائط رکھی گئیں جن کا اصل مقصد بنگلہ دیش سے ہونے والی زیادتی کا ازالہ تھا اور اس کیلئے پاکستان نے واضح ٹھوس اور دوٹوک موقف اپنایا جس پر آئی سی سی اور بھارت دونوں ڈھیر ہوگئے ۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 ء مس کرنے پر بنگلہ دیش پر کوئی جرمانہ عائد نہیں ہوگااور اسے آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی بھی دی جائے گی۔بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ 2028 ء سے 2031 ء کے درمیان ایک ایونٹ کی میزبانی کرے گا۔آئی سی سی کی جانب سے پی سی بی کی تمام شرائط تسلیم کرنے اور سری لنکن صدر انورا کمارا ڈسانائیکے کی درخواست پر وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے قومی ٹیم کوبھارت کے خلاف آج کا میچ کھیلنے کی ہدایت کی۔

ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچ کے انعقاد کے فیصلے سے آئی سی سی کے 174 ملین امریکی ڈالرز بچ گئے۔ خود  بھارتی میڈیا کے مطابق اندازاً نقصان کا تخمینہ براڈ کاسٹرز گیٹ منی اور دیگر سپانسر شپ کی مد میں لگایا گیا، پاک بھارت میچ کی بحالی کے فیصلے کے فوری بعد ممبئی اور کولمبو کے ایئر ٹکٹ میں اضافہ دیکھا گیا۔ ممبئی اور کولمبو کے ٹکٹ میں ابتدائی طور پر 10 سے 60 ہزار روپے تک کا اضافہ ہوا ہے اور پاک بھارت میچ کی وجہ سے کولمبو میں ہوٹل انڈسٹری نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔کئی کرکٹ شائقین نے پاکستان کے میچ کے بائیکاٹ کے بعد ہوٹل کی بکنگ منسوخ کرنے کیلئے رابطے بھی کیے تھے جبکہ بعض کرکٹ شائقین پاک بھارت میچ کے ٹکٹوں کی ری فنڈنگ کی پالیسی کے حوالے سے معلومات حاصل کر رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے انڈیا کیخلاف میچ کھیلنے سے انکار کے بعد ٹی 20 ورلڈ کپ کی اہمیت کم ہو گئی تھی۔پاکستانی فیصلے کے بعدبھارتی کرکٹ بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے کہا کہ آئی سی سی کے نمائندوں کے مذاکرات کے نتیجے سے خوش ہوں۔ مذاکرات کو آئی سی سی کے چیئرمین نے سپروائز کیا، کرکٹ کی اہمیت کو ترجیح دی گئی، باہمی رضا مندی سے فیصلہ ہوا جو کہ اچھی بات ہے، مسئلے کے حل کیلئے آئی سی سی نے اقدامات کیے، جہاں تک آئی سی سی کا تعلق ہے یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔بنگلہ دیش کیلئے بھی اچھا ہے کہ مذاکرات میں ان کے بورڈ کو بھی ریلیف دیا گیا، یہ سب کیلئے وِن وِن پوزیشن ہے، پاک بھارت میچ ورلڈ کپ ایک کامیاب ایونٹ ہو گا۔

گرین شرٹس کا مورال بلند ہے ، پاکستان نے ٹی 20 ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں نیدرلینڈز کو 3 وکٹ سے شکست دی، پاکستان نے امریکہ کو 32 رنز سے شکست دے کر ایونٹ میں مسلسل دوسری کامیابی حاصل کرلی۔اس فتح کے ساتھ ہی پاکستان کے چار پوائنٹس ہو گئے اور اس کے سپرایٹ مرحلے میں کوالیفائی کرنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ گرین شرٹس اپنا آخری گروپ سٹیج میچ 18فروری بروز بدھ اسی میدان پر نمیبیا کے خلاف کھیلیں گی۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق آج کھیلے جانے والے پاک بھارت میچ میں پاکستانی سپنر عثمان طارق اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جن کا خوف بھارتی بیٹرز پر طاری ہے۔ کولمبو میں موجود بھارت بیٹرز عثمان طارق کے منفرد بائولنگ ایکشن سے پریشان ہیں اور نیٹ سیشن کے دوران پاکستانی اسپنر کے بائولنگ ایکشن کے انداز کے باؤلرز کے سامنے پریکٹس کی۔ 28 سالہ عثمان طارق نے امریکا کے خلاف 27 رنز کے عوض 3 وکٹس لی تھیں، ان کے باؤلنگ ایکشن کو بھارتی میڈیا پر دلچسپ انداز میں زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ پاکستانی مسٹری اسپنر کے بولنگ ایکشن پر پہلے روی چندرن ایشون نے اس انداز میں گفتگو کی کہ وہ عثمان طارق کے باؤلنگ ایکشن کا توڑ نکال لائے ہیں۔ روی چندرن اشون نے عثمان طارق سے متعلق تاش کے گیم سے مثال دی اور انہیں ’’حکم کا اکا‘‘ قرار دیا تھا۔دوسری جانب پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارتی ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو نے کہا تھا کہ عثمان طارق مختلف کرکٹر ہیں لیکن ہتھیار نہیں ڈال سکتے۔  

پاکستانی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کا کہنا ہے کہ عثمان طارق ہمارے لیے ٹرمپ کارڈ ہیں۔ ہم کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہیں اور پچ کا بھی علم ہے، ہم تیار ہیں ہمیں آج اچھی کرکٹ کھیلنا ہے۔ بھارت کے خلاف پلیئنگ الیون کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ میرے لیے تمام 15کھلاڑی اہم ہیں،کوئی بھی کھیل سکتا ہے مگر کنڈیشنز کو دیکھ کر ہی اپنی پلیئنگ الیون بنائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

جنت کا متلاشی (چوتھی قسط )

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت متقی اور پرہیز گار تھے۔ ہمیشہ عبادت میں مصروف رہتے۔ دن میں روزہ رکھتے اور راتوں کو اپنے اللہ کے حضور عجزو انکسار کے ساتھ نوافل ادا کرتے۔

تحفہ

فیضان بہت ہی معصوم سا بچہ تھا۔ وہ گھر میں ہونے والی تیاریوں اور چہل پہل کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اور پھر اپنے مشاہدے کے بعد اپنی دادی سے پوچھنے لگا۔ ’’دادی یہ سب کیا ہے؟ کیا کوئی آنے والا ہے؟‘‘۔

ایفل ٹاور

ایفل ٹاور دنیا کی مشہور عمارتوں میں سے ایک ہے جو فرانس کے شہر پیرس میں واقع ہے۔

اقوال زریں

٭… کام سے غلطی، غلطی سے تجربہ، تجربے سے عقل، عقل سے خیال اور خیال سے نئی چیزیں وجود میں آتی ہیں۔

مکھن ٹیکس

ایک بادشاہ بہت سی جائیداد کا مالک تھا۔ ہر سال بادشاہ مقامی لوگوں سے مکھن کا ٹیکس وصول کرتا تھا۔ اگر وہ مکھن کا ٹیکس ادا نہ کرتے تو وہ انھیں سخت سزائیں دیتا تھا۔

ماں ہماری وقار ہستی ہے

ماں ہماری وقار ہستی ہےان کے دم سے بہارِ ہستی ہے