خلاصہ قرآن(پارہ 23)

تحریر : مفتی منیب الرحمن


معبودِبرحق: اس پارے کی ابتدا میں بجائے اس کے کہ مشرکین کے باطل معبودوں کی مذمت کی جاتی‘ نہایت حکیمانہ انداز میں فرمایا: ’’میں اس معبود کی عبادت کیوں نہ کروں‘ جس نے مجھے پیدا کیا اور تم بھی اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘ کیا میں معبودبرحق کو چھوڑ کر ان (بتوں) کو معبود قرار دوں کہ اگر رحمن مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی شفاعت میرے کسی کام نہ آئے اور نہ ہی وہ مجھے نجات دے سکیں‘‘۔

قدرت و جلالت

 آیت 38 سے اللہ تعالیٰ کی قدرت وجلالت کو بیان کیا کہ سورج‘ چاند اور سیارے قادرِ مطلق کے نظم کے تابع چل رہے ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں کہ ان میں کوئی فساد یا ٹکراؤ ہو جائے۔ 

انسانی اعضاء سلطانی گواہ

آیت 65 سے بتایا کہ قیامت کے دن مجرموں کے مونہوں پر مہریں لگا دی جائیں گی اور ان کے ہاتھ اور پاؤں (اور دیگر اعضا) سلطانی گواہ بن کر اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ان کیخلاف گواہی دیں گے کہ ہم سے کیا کیا جرائم کرائے جاتے رہے۔

منکرین آخرت کو جواب

آیت 78 سے منکرین آخرت کے اس عقلی سوال کا ذکر فرمایا کہ جب انسان مر جائے گا اور ہڈیاں تک بوسیدہ ہو جائیں گی تو دوبارہ کون زندہ کرے گا؟ اور پھر جواب دیا کہ دوبارہ بھی وہی خالق تبارک وتعالیٰ زندہ کرے گا‘ جس نے بغیر کسی نام ونشان کے پہلے پیدا کیا تھا، حالانکہ اب تو ذرۂ خاک یا راکھ موجود ہے۔ مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا ارادہ فرماتاہے تو فرماتا ہے ’’کُن‘‘ (ہو جا)‘ تو وہ چیز وجود میں آ جاتی ہے۔ یہ واضح رہے کہ ’’کُن‘‘ کہنا بھی ضروری نہیں صرف اللہ تعالیٰ کا ارادہ کافی ہے۔

سورۃ الصّٰفٰت

 پہلے شیطان کا داخلہ عالَم بالا کی طرف ہوتا تھا مگر آیت 10 میں بتایا کہ اب اس کا داخلہ عالَم بالا میں بند ہے اور اگر وہ ادھر کا رخ کرے تو اس پر آگ کے کوڑے برسائے جاتے ہیں۔ 

آخرت کی نعمتیں

آیت 40 سے اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کو آخرت میں عطا کی جانے والی نعمتوں کا ذکر ہے کہ انہیں عمدہ میوے ملیں گے‘ وہ جنت میں اعزاز و اکرام کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل مسندوں پہ بیٹھے ہوئے ہوں گے‘ سفید اور لذیذ شرابِ طہور کے جام گردش میں ہوں گے کہ جن سے نہ دردِ سر ہو گا اور نہ ہوش اڑیں گے۔ پیکرِ شرم و حیا حوریں ہوں گی اور وہ بلند مقام سے جہنمیوں کا مشاہدہ کر رہے ہوں گے۔

جہنمیوں کی کیفیت

 آیت 62 سے جہنمیوں کی کیفیت کو بیان کیا کہ شیطان کے سروں کی طرح دوزخ کی جڑ سے پیدا ہونے والا ’’زقوم‘‘ کا درخت ان کی غذا ہوگا‘ پھر انہیں جہنم کا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔ 

حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ

آیت 83 سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ایک بار پھر مذکور ہوا کہ آپ قوم کے ساتھ میلے میں نہ گئے اور ان کے بڑے بت کو پاش پاش کر دیا اور پھر انہوں نے آگ کا ایک الاؤ تیار کرکے ابراہیم علیہ السلام کواس میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ان کی تدبیر کو ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد اسماعیل علیہ السلام کی ولادت کی بشارت‘ اپنے باپ کا ہاتھ بٹانے کی عمر کو پہنچنے کے بعد خواب میں ان کے ذبح کا حکم دیے جانے اور پھر باپ بیٹے دونوں کے حکم ربانی کے سامنے سرِ تسلیم خم کئے جانے کا ذکر ہے۔ 

 ’’ذبحِ عظیم‘‘ کا ذکر

آیت 105 میں فرمایا کہ ابراہیم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا اور اسماعیل علیہ السلام کے فدیے کے طور پر غیب سے نمودار ہونے والے ایک مینڈھے کے ذبح کئے جانے کا ذکر ہے‘ جسے قرآن نے ’’ذبحِ عظیم‘‘ قرار دیا ہے۔

واقعہ حضرت یونس ؑ

 اس کے بعد یونس علیہ السلام کے قوم سے بھاگ کر کشتی میں سوار ہونے‘ پھر قرعہ اندازی کے ذریعے ڈولتی ہوئی کشتی سے دریا میں ڈالے جانے اور پھر مچھلی کے انہیں نگل جانے کا ذکر ہے اور اللہ کی شان اعجاز کہ انہیں مچھلی کے پیٹ میں سلامت رکھا اور ان تمام مراحل میں وہ اپنی خطائے اجتہادی پر اپنے آپ کو ملامت کرتے رہے۔ پھر انہوں نے توبہ کے ارادے سے یہ تسبیح پڑھی: ’’لاالٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظٰلمین‘‘۔اللہ عزوجل نے فرمایا: اگر وہ تسبیح نہ پڑھتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے مچھلی نے انہیں ساحل پر اگل دیا۔ وہ بیمار تھے‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کیلئے لوکی کی ایک بیل کو اُگا کر ان پر سایہ فگن کر دیا۔ قرآن نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔

عجب فطرت

 آیت 149سے مشرکوں کی عجب فطرت کا ذکر ہے کہ اپنے لئے بیٹوں کی تمنا کرتے ہیں اور اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے ہیں، (وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے)۔ وہ اللہ کی طرف جھوٹ پر مبنی اولاد کی نسبت کرتے ہیں حالانکہ اللہ اس سے پاک ہے۔

سورہ صٓ

 اس سورہ میں ان مشرکین کو جنہیں اپنی طاقت پر ناز تھا اور جو خدائی کے دعوے کرتے تھے‘ فرمایا کہ اگر آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کی بادشاہت ان کی ہے تو پھر انہیں چاہئے کہ آسمانوں کی طرف چڑھیں اور ظاہر ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے‘ تو پھر انہیں اپنے عجز کا اعتراف کر لینا چاہیے۔ اس سورہ مبارکہ میں قومِ نوح‘ عاد و فرعون‘ ثمود‘ قومِ لوط اور اصحاب الایکہ کا ایک بار پھر ذکر ہے کہ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر اللہ کا عذاب سچا ثابت ہوا۔ 

معجزاتِ دائود ؑ

آیت 17سے داؤد علیہ السلام اور ان کے معجزات کا ذکر ہے کہ پرندے زبور کی تلاوت کرتے وقت جمع ہوتے تھے اور اللہ نے انہیں سلطنت‘ حکمت اور قولِ فیصل عطا کیااور ان کے پاس دائر ایک مقدمے کا ذکر آیا۔ ایک شخص نے کہا کہ میرے بھائی کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے اور وہ مجھ پر دباؤ ڈال رہا کہ میں وہ ایک بھی اسی کو دے دوں۔ داؤد علیہ السلام نے کہا کہ ایک دنبی کا مطالبہ کرکے اس نے ظلم کیا ہے اور اکثر شرکا ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں‘ سوائے ان کے جو ایمان لائے اور اعمالِ صالحہ کئے۔

سلیمان  ؑ کا ذکر

 قرآن سلیمان علیہ السلام کا ذکر فرماتا ہے کہ وہ اللہ کے بہت اچھے بندے اور اس کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے۔ آیت 31 سے سلیمان علیہ السلام کے سامنے سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کے پیش کئے جانے کا ذکر ہے، آپ علیہ السلام نے ان پر ہاتھ پھیرا، پھر ان کی آزمائش کا ذکر ہے جس کی تفصیل کو قرآن نے بیان نہیں کیا، تفاسیر میں مختلف روایات ہیں لیکن ہر ایسی روایت جو مقامِ نبوت کے خلاف ہو‘ اسے رد کر دینا چاہئے۔

مصائب ِ ایوب ؑکا ذکر

 آیت 41 سے حضرت ایوب علیہ السلام اور ان کے مصائب کا ذکر ہے ۔ اللہ نے انہیں حکم دیا: اپنا پاؤں زمین پر مارو‘ ان کے پاؤں کی ضرب سے غسل اور پینے کیلئے ٹھنڈا پانی نکل آیا اور مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ ان کیلئے وسیلۂ شفا بھی بنا‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے طور پر اہل ومال کی جونعمتیں ان سے سلب فرمائی تھیں وہ ان کو دگنی مقدار میں دوبارہ عطا فرما دیں۔ انہوں نے کسی وجہ سے اپنی بیوی کو سو کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی‘ اللہ تعالیٰ نے اس قسم سے بری ہونے کیلئے ان کو یہ تدبیر بتائی کہ سو تنکوں کا ایک جھاڑو بنا کر ایک ضرب لگائیں تو یہ قسم پوری ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایوب علیہ السلام صابر تھے‘ اللہ کے پیارے بندے تھے اور اس کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے۔

شیطان کا تکبر

آیت 71 سے آدم علیہ السلام کی تخلیق‘ تمام فرشتوں کے انہیں سجدہ کرنے اور تکبر کی بنا پر شیطان کی طرف سے سجدے سے انکار کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان سے جواب طلب فرمایا کہ آدم کو میں نے اپنے دستِ قدرت سے بنایا‘ تو تمہارے اس کو سجدہ کرنے سے کونسی چیز مانع ہوئی۔ شیطان نے کہا کہ میں آدم سے افضل ہوں‘ میرامادۂ تخلیق (آگ) آدم علیہ السلام کے مادۂ تخلیق (مٹی) سے افضل ہے۔ اللہ نے فرمایا: تُو مردود ہے‘ جنت سے نکل جا اور قیامت تک تجھ پر میری لعنت ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اپنی خطا (اجتہادی) کو تسلیم کرنا اور اس پر اللہ سے معافی مانگنا آدم علیہ السلام کی سنت ہے اور اپنی معصیت پر ڈٹ جانا اور اس کو درست ثابت کرنے کیلئے دلیل کا سہارا لینا‘ یہ ابلیس کا شعار ہے۔ پھر بتایا کہ شیطان کو قیامت تک کیلئے مہلت دے دی گئی اور اُس نے عہد کیا کہ میں اللہ کے مخلص بندوں کے سوا تمام اولادِ آدم کو گمراہ کروںگا۔

سورۃ الزمر

 اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کو جھٹلانے والے کو جہنمی قرار دیا گیا اور سچے دین کو لے کر آنے والے‘ یعنی رسول اللہﷺ اور ان کی تصدیق کرنے والے (مفسرین نے اس سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مراد لیا ہے) کو متقی قرار دیا گیا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

چھوٹا کاروبار، بڑی کامیابی

خواتین کے لیے ہوم بیسڈ بزنس آئیڈیاز

خوبصورتی کے راز جلد کی دیکھ بھال کے مؤثر طریقے

خوبصورت اور صحت مند جلد ہر خاتون کی خواہش ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں موسم کی شدت، دھوپ، آلودگی اور طرزِ زندگی کے مسائل جلد پر اثر انداز ہوتے ہیں وہاں جلد کی مناسب دیکھ بھال نہایت ضروری ہو جاتی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ چند سادہ اور مؤثر اصول اپنا کر آپ اپنی جلد کو تروتازہ، صاف اور چمکدار بنا سکتی ہیں۔

آج کا پکوان:گلاوٹی کباب

اجزا: گائے کا قیمہ:آدھا کلو،سبز الائچی:3،4،نمک: 1چائے کا چمچ یا حسب ذائقہ، ثابت کالی مرچ:8،10،پسی ہوئی لال مرچ:1 چائے کا چمچ، لونگ:4،ہلدی پائوڈر:

7ویں برسی:ڈاکٹر جمیل جالبی عظیم محقق،ادیب اور نقاد

علمی خدمات کا درخشاں باب، فکر و تحقیق کا معتبر حوالہ:انہیں ’’ تاریخ ادب اردو ‘‘لکھنے کا خیال5 196 ء کے آس پاس آیا تھا۔ اس کی پہلی جلد 1975ئمیں شائع ہوئی اس میں قدیم دور آغاز سے 1750ء تک کی داستان قلم بند ہے‘

مرزا غالب کی عصری معنویت

شاعری اپنے مزاج اور ماہیت کے اعتبار سے کسی مخصوص زمانے میں شاعر کے وجدان یا تجربات و مشاہدات کا عکس تو ضرور ہوتی ہے مگر معرضِ اظہار میں آتے ہی وہ لا زمانی بھی بن جاتی ہے۔

تماشائیوں کے بغیرپاکستان سپر لیگ

کرکٹ میلہ یا مجبوری کا سودا؟پی ایس ایل کا گیارہواں ایڈیشن کسی حد تک اداس کن منظرنامے کے ساتھ شروع ہوا، جس کی مثال ماضی میں صرف کورونا دور کی ملتی ہے:جنگ بندی اور کامیاب مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ سٹیڈیم کے دروازے تماشائیوں کیلئے مکمل طور پر کھول دئیے جائیں،تاکہ قومی لیگ روایتی جوش و خروش اورخوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو