خلاصہ قرآن(پارہ 10)

تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر


مالِ غنیمت کی تقسیم :دسویں پارے کا آغاز سورۂ انفال سے ہوتا ہے۔ اس پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے مالِ غنیمت کی تقسیم کا ذکر کیا ہے کہ اس مالِ غنیمت میں اللہ اور اس کے رسول کا صوابدیدی اختیار پانچویں حصے کا ہے، یعنی رسول اللہﷺ کو یہ اختیار حاصل تھا کہ آپ مالِ غنیمت کے پانچویں حصے کو اپنی مرضی کے ساتھ تقسیم کر سکتے تھے۔

معرکہ بدر

دسویں پارے میں اللہ تعالیٰ نے بدر کے معرکے کا ذکر کیا ہے کہ شیطان لعین اس معرکے میں انسانی شکل میں موجود تھا اور کافروں کو لڑائی کیلئے اُکسا رہا تھا۔ سراقہ بن مالک کے روپ میں موجود شیطان کافروں کو یقین دلا رہا تھا کہ مسلمان کافروں پر غلبہ نہیں پا سکتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین علیہ السلام کی قیادت میں فرشتوں کی جماعتوں کو اتارا تو شیطان فرشتوں کو دیکھ کر میدانِ بدر سے فرار ہو گیا۔ کفارِ مکہ نے اس سے پوچھا کہ سراقہ! تم تو ہمیں فتح کی نوید سنا رہے تھے‘ اب کہاں بھاگے جا رہے ہو‘ اس پر شیطان نے جواب دیا: میں وہ دیکھتا ہوں‘ جو تم نہیں دیکھتے‘ مجھے اللہ کا خوف دامن گیر ہے اور اللہ کی پکڑ بڑی شدید ہے۔

یہودیوں کی بد عہدیاں

اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی متواتر بدعہدیوں اور خیانت کے بعد اس آیت کا نزول فرمایا کہ اگر آپ کو کسی قوم کی جانب سے خیانت کا ڈر ہو تو اس کا معاہدہ لوٹا کر حساب برابر کر دیجئے، بے شک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

 مسلمان کی طاقت 

اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا ہے کہ مسلمان افرادی اعتبار سے کمزور بھی ہوں تو کفار پر غالب رہتے ہیں۔ ایک دور میں ایک مسلمان دس پر غالب آتا تھا۔ گزرتے دور میں مسلمان کی طاقت میں کمی آ گئی ہے‘ لیکن پھر بھی ایک مسلمان ہمیشہ دو کافروں پر بھاری رہے گا۔

سورۃ التوبہ

سورۃ الانفال کے بعد سورۂ توبہ ہے۔ سورۃالتوبہ قرآنِ مجید کی واحد سورت ہے‘ جس سے پہلے بسم اللہ مو جود نہیں ہے۔ اس کی دو وجوہ بیان کی گئی ہیں، اوّل تو یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورہ مبارکہ کو غضب میں نازل کیا اور دوسری یہ کہ یہ سورت گزشتہ سورت یعنی سورۃالانفال کا ہی حصہ ہے۔ سورۂ توبہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جو شخص نماز باقاعدگی سے ادا کرتا ہے اور زکوٰۃ صحیح طریقے سے دیتا ہے‘ ایسا شخص مسلمانوں کی جماعت سے منسلک ہے اور دینی اعتبار سے ان کا بھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ بعض کافر اس بات پر اتراتے تھے کہ ہم حرم کی صفائی کرتے ہیں اور حاجیوں کو ستو پلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حرم کعبہ اور حاجیوں کی خدمت سے کہیں زیادہ بہتر اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانا اور اس کی خوشنودی کیلئے جدوجہد کرنا ہے۔ 

معرکہ حنین کا ذکر

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے حنین کے معرکے کا بھی ذکر کیا ہے۔ مسلمانوں کا ہمیشہ یہ طرزِ عمل رہا کہ وہ قلتِ وسائل اور افرادی قوت میں کمی کے باوجود اللہ اور اس کے رسولﷺ کے حکم پر ثابت قدم اور اللہ کی غیبی نصرت و حمایت کے طلبگار رہے‘ لیکن حنین کا معرکہ ایسا تھا جس میں مسلمانوں کی تعداد اور افرادی قوت بہت زیادہ تھی۔ اس تعداد کی کثرت اور فراوانی نے مسلمانوں کے دلوں میں ایک فخر کی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ جب مسلمان کافروں کے آمنے سامنے ہوئے تو ہوازن کے تجربہ کار تیر اندازوں نے یک لخت مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے، تاہم نبی کریمﷺ پورے وقار اور شجاعت کے ساتھ میدانِ جنگ میں ڈٹے رہے۔ رسول کریمﷺ کی استقامت کی وجہ سے مسلمان بھی دوبارہ حوصلے میں آ گئے اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی۔ مالک کائنات نے مسلمانوں کو کفار پر غلبہ عطا فرما دیا اور مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات راسخ ہو گئی کہ جنگوں میں فتح وسائل کی کثرت اور فراوانی کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم اور اس کی مدد و نصرت کی وجہ سے ہوتی ہے۔

یہودیوں کے برے عقیدے

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں اور نصرانیوں کے برے عقیدے کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہودی ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ عزیرعلیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائی ہرزہ سرائی کرتے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: یہ باتیں انہوں نے اپنی طرف سے گھڑی ہیں اور اللہ کی ان پر مار ہو جو یہ جھوٹ بولتے ہیں۔

مال ذخیرہ کرنیوالے

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو وعید سنائی ہے جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں‘ مگر اس کو راہِ خدا میں خرچ نہیں کرتے۔ قیامت کے دن سونے اور چاندی کو آگ میں پگھلانے کے بعد ان کی پیشانیوں کو‘ پہلوئوں کو اور پشتوں کو داغا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ اس چیز کے سبب ہے جو تم اکٹھا کرتے تھے۔ پس اکٹھا کرنے کا مزا چکھ لو۔

مصارف زکوٰۃ

 اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے مصارفِ زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا کہ زکوٰۃ کے آٹھ مصارف ہیں۔ اس پر فقیروں کا حق ہے‘ مساکین کا حق ہے‘ زکوٰۃ اکٹھا کرنے والوں کا حق ہے‘ اسلام کے بارے میں نرم گوشہ رکھنے والوں کا حق ہے‘ قیدیوں کا حق ہے‘ تاوان کے تلے دبے ہوئے لوگوں کا حق ہے‘ مسافر کا حق ہے اور اللہ کے راستے میں اس کو خرچ کرنا چاہیے۔ 

منافقین

اللہ تعالیٰ نے کہا کہ منافق مرد اور عورت ایک دوسرے میں سے ہیں اور یہ بھی بتلایا کہ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں‘ یعنی غلط عقائد اور اعمال والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھی اور صحیح عقائد اور اعمال والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہوتے ہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پاکﷺ کو اس بات کی تلقین کی کہ انہیں کافروں اور منافقوں کے ساتھ جہاد کرنا چاہیے۔ کافروں کے ساتھ جہاد تلوار کے ذریعے اور منافقوں کے ساتھ دلائل کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے بعض منافقین کے اعمال کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے وعدہ کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں مال دے گا تو ہم اس کے راستے میں خرچ کریں گے‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو مال دے دیا تو وہ بخل کرنا شروع ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے ایسے لوگوں کے دلوں میں نفاق لکھ دیا‘ اس دن تک جب ان کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات ہو گی۔

دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں دسویں پارے میں بیان کردہ مضامین کو سمجھنے اور ان سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق دے، آمین!

 

مقابلے کیلئے تیاری کا حکم

 اس سورہ مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ کافروں سے مقابلے کیلئے ہر ممکن طاقت اور گھوڑوں (فوجی ساز و سامان) کو تیار رکھیں۔ اس تیاری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے دشمن اور مسلمانوں کے دشمن مرعوب ہوں گے اور وہ (پوشیدہ) دشمن بھی جن کو مسلمان نہیں جانتے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے راستے میں مسلمان جو خرچ کریں گے‘ ان کو اس کا پورا پورا اجر ملے گا۔

دنیاوی اشیاء سے محبت

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تمہارے باپ‘ تمہارے بیٹے‘ تمہارے بھائی‘ تمہاری بیویاں‘ تمہارے قبیلے‘ تمہارے مال جو تم اکٹھا کرتے ہو‘ تمہاری تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جن میں رہنا تمہیں مرغوب ہے‘ تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کے راستے میں کیے جانے والے جہاد سے زیادہ پسند ہیں تو انتظار کرو جب تک کہ اللہ کا عذاب نہیں آ جاتا۔

غزوہ تبوک

اس سورت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے غزوۂ تبوک کے موقع پر فتنے کا عذر پیش کر کے پیچھے رہ جانے والے اس منافق گروہ کا بھی ذکر کیا جس نے جہاد میں شرکت کرنے سے معذرت کی تو رسول کریمﷺ نے اس کو رکنے کی اجازت دے دی، اس پر اللہ  تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ درحقیقت بہانہ بنا کر پیچھے رہنے والے لوگ فتنے کا شکار ہو چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جہنم کو منکروں کیلئے تیار کر رکھا ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا: (یہ منافق آپ کے گستاخ ہیں)، اِن کے لیے آپ کا استغفار کرنا ان کے کسی کام نہ آئے گا کیونکہ اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں (تو ان کی شقاوتِ قلبی کی وجہ سے) اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

ادائیگی زکو ٰۃ:فرائض، شرائط اور اہم فقہی نکات

’’اور نماز پڑھا کرو،اور زکوٰۃ دیاکرو‘‘(سورۃ النور) معدنیات پر 1/5، بارانی زمین پر 1/10، غیر بارانی زمین پر 1/20، سونا،چاندی اور مال تجارت پر 1/40 زکوٰۃ کی شرح مقرر ہے

رمضان المبارک: تقویٰ اور اصلاح باطن کا مہینہ

روزہ انسانی نفس کی تربیت اور روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے

مسائل اور ان کا حل

اذان کے اختتام تک سحری کھانا : سوال: ایک شخص سحری کر رہا تھا کہ اسی دوران اذان فجر شروع ہو گئی لیکن یہ شخص اذان کے اختتام تک کھانا کھاتا رہا تو اس کے روزے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا کوئی ایسی روایت موجود ہے کہ جس میں یہ فرمایا گیا ہو سحری کا وقت ختم ہونے کے باوجود کسی آدمی نے ہاتھ میں کوئی لقمہ کھانے کی نیت سے اٹھایا ہوا تھا اور اذان شروع ہو گئی تو اس کو کھا لینے کے باوجود بھی اس کا روزہ صحیح ہو جائے گا۔(طاہر علی، شیخوپورہ)

خلاصہ قرآن(پارہ 10)

مالِ غنیمت کا حکم :دسویں پارے کے شروع میں کفار پر غلبے کی صورت میں حاصل شدہ مالِ غنیمت کا حکم بیان کیا گیا ہے کہ اس کے چار حصے مجاہدین کے درمیان تقسیم ہوں گے اور پانچواں حصہ اللہ اور رسولؐ اور (رسولؐ کے) قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہے‘ یعنی یہ اللہ کے رسولﷺ کی صوابدید پر ہو گا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 09)

قومِ شعیب:نویں پارے کے شروع میں قومِ شعیب علیہ السلام کے سرکش سرداروں کی اس دھمکی کا ذکر ہے کہ اے شعیب! ہمارے دین کی طرف پلٹ آؤ‘ ورنہ ہم تمہیں اور تمہارے پیرو کاروں کو جلاوطن کر دیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 09)

حضرت شعیبؑ کا واقعہ:نویں پارے کا آغاز بھی سورۃ الاعراف سے ہوتا ہے۔ آغاز میں حضرت شعیب علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ اُن کی قوم کے لوگ مال کی محبت میں اندھے ہو کر حرام و حلال کی تمیز بھلا چکے تھے۔