خلاصہ قرآن(پارہ 09)

تحریر : مفتی منیب الرحمن


قومِ شعیب:نویں پارے کے شروع میں قومِ شعیب علیہ السلام کے سرکش سرداروں کی اس دھمکی کا ذکر ہے کہ اے شعیب! ہمارے دین کی طرف پلٹ آؤ‘ ورنہ ہم تمہیں اور تمہارے پیرو کاروں کو جلاوطن کر دیں گے۔

 شعیب علیہ السلام نے اللہ سے التجاکی کہ اے اللہ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے‘ پھر اُن پر قومِ ثمود کی طرح عذاب نازل ہوا اور وہ ایسے نیست و نابود ہوئے کہ جیسے کچھ تھاہی نہیں۔

 گزشتہ اُمتیں

 آیت 96 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ان بستیوں والے ایمان لائے ہوتے اور تقویٰ کو اختیار کیا ہوتا تو ہم انہیں زمین و آسمان کی نعمتیں فراوانی سے عطا کر دیتے‘ لیکن حق کو جھٹلانے کے سبب وہ انجامِ بد سے دوچار ہوئے۔ ان بستی والوں کو اس سے بے پروا نہیں ہونا چاہئے تھا کہ ان پر ہمارا عذاب سوتے میں یا دن چڑھے آ سکتا ہے۔ گزشتہ اُمتوں کے احوال سنا کر رسول اللہﷺ کو کفارمکہ کی ایذا رسانیوں پر تسلی دینا اور مشرکین مکہ کو عبرت دلانا مقصود ہے۔

بنی اسرائیل سے خیر کا وعدہ

اللہ تعالیٰ نے کمزور لوگوں کو مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا اور بنی اسرائیل سے جو خیر کا وعدہ تھا، وہ پورا ہوا۔ بنی اسرائیل سمندر پار  ایک ایسی قوم کے پاس پہنچے جو بتوں کی پرستش کرتی تھی۔ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے لیے بھی ایک خدا (بت) بنا دیجئے‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: بت پرستی کرنے والے جاہل ہیں اور اپنی جاہلیت کے باعث ہی ہلاک ہونے والے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔

بچھڑے کو معبود بنانا

پھر موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر قیام کے عرصے میں بنی اسرائیل کے زیورات سے بچھڑا بناکر اسے معبود بنانے کا ذکر ہے۔ چنانچہ جب موسیٰ علیہ السلام واپس آئے تو قوم پر غصے اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا: میرے پیچھے تم نے ایسا برا کام کیا‘ انہوں نے تورات کی تختیاں زمین پر ڈالیں اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کا سر پکڑ کر ان سے جواب طلبی کی۔ انہوں نے کہا: اے میرے بھائی قوم نے مجھے بے بس کر دیا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر دیں‘ اب آپ مجھ پر سختی کرکے دشمنوں کو ہنسی کا موقع نہ دیں۔ پھر آیت 151 میں موسیٰ علیہ السلام کی دعا اور کلماتِ استغفار کا ذکر ہے۔ آگے چل کر بتایا کہ غصہ ٹھنڈا ہونے پر موسیٰ علیہ السلام نے تورات کی تختیوں کو اٹھایا‘ جن کی تحریر میں اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے ہدایت اور رحمت کی نوید تھی۔ 

موسیٰ ؑ کی دعا کا ذکر

آیات 155 تا 158 میں موسیٰ علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے‘ جس میں انہوں نے اپنی قوم کیلئے اللہ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی مانگی۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کامل نعمت میں اُن لوگوں کو عطا کروںگا جو ایمان کے ساتھ تقویٰ اختیار کریں گے‘ زکوٰۃ دیں گے اور اس عظیم رسول نبی اُمی کی پیروی کریں گے‘ جس کا ذکر وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ یہ نبی ان کو نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا اور پاکیزہ چیزوں کو ان کیلئے حلال کرے گا اور ناپاک چیزوں کو حرام کرے گا اور بداعمالیوں کا بوجھ اور ان کے گلوں میں پڑے ہوئے طوق اتار دے گا‘ سو جو لوگ ان پر ایمان لائے‘ ان کی تعظیم اور نصرت کی اور اس نورِ (ہدایت) کی پیروی کی جو اُن کے ساتھ نازل کیا گیا ہے‘ وہی فلاح پانے والے ہیں۔ 

بارہ چشموں کا معجزہ

آیت 160 سے موسیٰ علیہ السلام کی پتھر پر ضرب سے ان کی قوم کے بارہ قبیلوں کیلئے بارہ چشمے جاری ہونے کے معجزے کا بیان ہے۔ 

نافرمانی کی سزا

اس کے بعد اس امر کا بیان ہے کہ بنی اسرائیل کو حکم ہوا کہ معافی مانگتے اور سجدہ کرتے ہوئے بیت المقدس میں داخل ہو جاؤ مگر انہوں نے اس مسئلے میں بھی تحریف کی‘ مزید بتایا کہ سمندر کے کنارے ایلا نامی بستی میں انہیں ہفتے کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا گیا‘ مگر انہوں نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی۔ ان نافرمانیوں کے باعث اُن کی صورتوں کو مسخ کرکے بندر بنا دیا گیا۔ 

ربوبیت کا اقرار

آیت 172 میں اس امر کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی ارواح کو جمع کیا اور ان سے اپنی ربوبیت کا اقرار کروایا‘ اس اقرار کو ’’عہدِ اَلَسْت‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ 

 نعمت عقل

آیت 179 میں اللہ تعالیٰ کی نعمت عقل کو قبول ہدایت کیلئے استعمال نہ کرنے والوں کو چوپایوں سے بدتر قرار دیتے ہوئے فرمایا: ان کے دل ہیں مگر وہ (حق کے دلائل کو) سمجھتے نہیں‘ ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ (آیاتِ الٰہی کو) دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں مگر وہ (دعوتِ حق کو) سنتے نہیں۔ رسول اللہﷺ کو بارگاہِ الوہیت میں عجز ونیاز کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: ’’کہو! میں اپنی ذات کیلئے کسی ونفع ونقصان کا مالک نہیں‘ مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب کو جانتا تو میں (از خود) خیر کثیر جمع کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی‘‘ یعنی غیب کے علوم اور ساری نعمتیں رب ہی کی عطا سے ہیں اور کبھی کوئی تکلیف پہنچے تو اس کی قضا وقدر سے پہنچتی ہے۔

بنی آدم کا ذکر

آیت 188 میں بتایا کہ تمام بنی آدم کو ایک جان (آدمؑ) سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بھی بنایا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے۔ 

معبودانِ باطلہ

آیت 184 سے مشرکوں کے معبودانِ باطلہ کے بارے میں بتایا کہ وہ تمہاری ہی طرح مخلوق ہیں اور آنکھ‘ کان‘ ہاتھ اور پاؤں کی نعمت سے بھی محروم ہیں‘ یعنی وہ خود ہی عاجز و بے بس ہیں۔

حضرت موسیٰ  ؑکی بعثت

آیت 103سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت اور فرعون اور اس کے پیروکاروں کا ذکر ہے۔ موسیٰ  ؑنے ان کو دعوتِ حق دی اور کہا کہ میں تمہارے پاس واضح نشانیاں لایا ہوں اور بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو‘ فرعون نے معجزات پیش کرنے کیلئے کہا جس پر حضرت موسیٰ  ؑنے اپنا عصا زمین پر ڈالا تو وہ اژدہا بن گیا‘ انہوں نے اپنا ہاتھ (گریبان سے) نکالا تو وہ دیکھنے والوں کیلئے روشن ہو گیا۔ فرعون کے سرداروں نے حق کو قبول کرنے کے بجائے اسے جادو قرار دیا اور کہا کہ یہ تمہیں اپنے ملک سے نکالنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو ذرا ڈھیل دو اور جادوگروں کو جمع کرو‘ جادوگر آئے اور انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم غالب آ گئے تو ہمارا انعام کیا ہو گا‘ اس نے کہا کہ تم ہمارے مقربین میں سے ہو جاؤ گے۔ جادوگروں نے موسیٰ  ؑ سے کہا کہ آپ پہلے کریں گے یا ہم کریں؟

موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ تم پہل کرو‘ جب جادوگروں نے اپنی (رسیاں) زمین پر ڈال دیں تو لوگوں کی نگاہوں کو سحرزدہ کر دیا اور انہیں ڈرا دیا اور (انہوں نے کہا یہ تو) بڑا جادو لے آئے۔ اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ اپنا عصا (زمین پر) ڈالیں‘ وہ عصا سانپ بنا اور جادوگروں کی چیزوں کو نگلنے لگا۔ اس طرح معجزے کی حقانیت اور جادو کا بُطلان ثابت ہوا اور فرعونی رسوا ہوئے۔ جادوگر سجدے میں گر پڑے‘ اللہ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے انہیں دھمکی دی کہ تم لوگ میری اجازت کے بغیر ایمان لے آئے ہو‘ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دوں گا اور تمہیں سولی چڑھاؤں گا‘ انہوں نے کہا کہ ایمان لانے کی پاداش میں تم ہمیں سزا دینا چاہتے ہو؟ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے صبر و استقامت کی دعا کی۔ اس کے بعد فرعون نے بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے اور بیٹیوں کو زندہ چھوڑنے کا حکم دیا۔ 

فرعونیوں پر عذاب 

آیت 130 میں بتایا کہ اللہ نے فرعونیوں پر قحط سالی کا عذاب نازل کیا۔ فرعونیوں کا طریقہ یہ تھا کہ اچھائی کو اپنا کمال گردانتے اور برائی کو بدشگونی کے طور پر موسیٰ  ؑکی طرف منسوب کرتے۔ پھر ان پر ٹڈیوں، جوؤں، مینڈکوں اور خون کا عذاب نازل کیا۔جب عذاب میں مبتلا ہوئے تو موسیٰ  ؑ سے کہا کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ ہم سے یہ عذاب ٹل جائے‘ ایسا ہوا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کر دیں گے‘ لیکن موسیٰ  ؑکی دعا کے نتیجے میں عذاب ٹل جانے کے بعد آل فرعون  وعدے سے پھر گئے تو اﷲ تعالیٰ نے اُنہیں سمندر میں غرق کر دیا۔

واقعہ کوہ طور

 موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم میں ہارون علیہ السلام کو اپنا جانشین بنایا اور کوہِ طور پر تشریف لے گئے اور یہ چالیس دن کا عرصہ تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اپنا جلوہ دکھانے کی دعا کی‘ لیکن جب اﷲتعالیٰ بالواسطہ جلوہ فرما ہوا تو موسیٰ علیہ السلام اس کی تاب نہ لا کر بیہوش ہو گئے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا۔ آیت 144 سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رسالت عطا کرنے‘ کلیم اللہ کا منصب عطا کرنے اور تورات عطا کرنے کا ذکر ہے۔ آگے چل کر بتایا کہ متکبر آیاتِ الٰہی سے اعراض کریں گے اور جو لوگ اللہ کی آیات اور قیامت کو جھٹلاتے ہیں‘ ان کے اعمال باطل ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 09)

حضرت شعیبؑ کا واقعہ:نویں پارے کا آغاز بھی سورۃ الاعراف سے ہوتا ہے۔ آغاز میں حضرت شعیب علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ اُن کی قوم کے لوگ مال کی محبت میں اندھے ہو کر حرام و حلال کی تمیز بھلا چکے تھے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 08)

کفار کی بہانے بازیاں:رسول کریمﷺ سے کفار طرح طرح کے مطالبے کرتے تھے کہ ہم اس وقت ایمان لائیں گے، جب فرشتے ہمارے پاس اتر کر آئیں یا برزخ و آخرت کے بارے میں آپ جو باتیں ہمیں بتاتے ہیں،

خلاصہ قرآن(پارہ 08)

کفار کے بہانے:آٹھویں پارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے بات کرنے لگتے اور ہر چیز کو ان کے سامنے لا کھڑا کر دیتے تو بھی وہ ایمان لانے والے نہیں تھے، سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 07)

ساتویں پارے کا آغاز سورۃ المائدہ کی جس آیت سے ہوتا ہے اس میں نجاشی کے دربار میں موجود علماء اور راہبوں کی قرآن پاک سننے کے بعد ہونے والی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے کہ

خلاصہ قرآن(پارہ 07)

قرآنِ مجید فرقانِ حمید کے ساتویں پارے کے شروع میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے نرم دل اور ایمان شناس عیسائیوں کی جماعت کا ذکر کیا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے کلام کی تلاوت کی جاتی ہے تو حقیقت کو پہچاننے کی وجہ سے ایسے لوگوں کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑیاں لگ جاتی ہیں اور وہ لوگ حق کو پہچاننے کے بعد اس کو قبول کر لیتے ہیں‘ وہ کہتے ہیں:

خلاصہ قرآن(پارہ 06)

اللہ اور رسولوں پر ایمان :سورۃ النساء کی آیت 150 میں بتایا کہ جو لوگ ایمان لانے میں اللہ اور اُس کے رسولوں کے درمیان فرق کریں یا بعض رسولوں پر ایمان لائیں اور بعض کا انکار کریں یا ایمان اور کفر کے مابین کوئی درمیانی راستہ تلاش کریں‘ یہ سب لوگ پکے کافر ہیں۔ مومن صرف وہی ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں اور بلا تفریق اُس کے سارے رسولوں پر بھی ایمان لائیں۔