خلاصہ قرآن(پارہ 08)

تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر


کفار کے بہانے:آٹھویں پارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے بات کرنے لگتے اور ہر چیز کو ان کے سامنے لا کھڑا کر دیتے تو بھی وہ ایمان لانے والے نہیں تھے، سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔

 یہ آیت اس وقت نازل ہوئی، جب مشرکین مکہ اور کفارِ عرب نے رسول کریمﷺ سے مختلف طرح کی نشانیوں کو طلب کرنا شروع کیا۔ کبھی وہ کہتے کہ ہمارے اوپر فرشتے اترنے چاہئیں، کبھی وہ کہتے کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو ہم اپنے پروردگار کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ کبھی وہ کہتے کہ ہمارے آبائو اجداد جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں ان کو دوبارہ زندہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو کافروں کی سرشت سے آگاہ کیا کہ ان کافروں کی نشانیاں طلب کرنے والی بات کوئی حق پرستی پر مبنی نہیں بلکہ یہ تو صرف اور صرف حق سے فرار حاصل کرنے کیلئے اس قسم کے مطالبات کر رہے ہیں۔ 

حرام اشیاء

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ زمین پر رہنے والوں کی اکثریت کی پیروی کرنے سے انسان گمراہ ہو جاتا ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں جس چیز پر غیر اللہ کا نام لیا جائے، اُسے کھانا جائز نہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا ہے کہ اللہ نے یہودیوں پر ان کی بغاوت اور سرکشی کی وجہ سے ہر ناخن والا جانور حرام کر دیا تھا اور گائے اور بکری کی پیٹھ پر لگی چربی کے علاوہ باقی چربی کو بھی ان پر حرام کر دیا تھا لیکن یہودیوں کی سرکشی کا عالم یہ تھا کہ وہ چربی بیچ کر کھانا شروع ہو گئے۔ بخاری و مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اس روایت کو نقل کیا ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی مار ہو یہود پر، جب چربی ان کیلئے حرام کر دی گئی تو اسے پگھلا کر (تیل بنا کر) بیچ دیا اور اس کی قیمت کھا گئے‘‘۔

قتل ِ اولاد کی مذمت

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ لوگ گھاٹے میں ہیں،جنہوں نے اپنی اولادوں کو بے وقوفی کے ساتھ قتل کر دیا اور اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کے جائز کیے ہو ئے رزق کو حرام قرار دیا۔

فصلوں کی کٹائی

 اس پارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ جب فصلوں کی کٹائی کا دن آئے، اس دن اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا کرو۔ جب اللہ تعالیٰ ہر چیز عطا فرماتے ہیں تو اس کا حق بھی بروقت ادا ہونا چاہیے۔ 

مشرکین کے عذر

اس پارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کے اس غلط عذر کو بھی رد کیا کہ وہ اپنے اور اپنے آبائو اجداد کے بارے میں کہیں گے، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اور ہمارے آبائو اجداد ہرگز شرک نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ اور ان سے پہلے لوگ بھی اسی طرح جھوٹ تراشتے رہے۔ اللہ تعالیٰ مزید کہتے ہیں کہ اے نبی! آپ ان کو کہہ دیجئے کہ (جو اللہ نے تحریر کیا ہے) کیا تم اس کو جانتے ہو؟ اگر جانتے ہو تو اس کو ہمارے سامنے پیش کرو۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ لوگ غلطی تو خود کرتے ہیں، لیکن خو اہ مخواہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔

 نبی کریمؐ  کو حکم

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺکو حکم دیا ہے کہ وہ اعلان فرمائیں کہ بے شک میری نمازیں، میری قربانیاں، میرا جینا اور میرا مرنا، سبھی کچھ اللہ رب العالمین کیلئے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا اور میں سب سے پہلے اپنے آپ کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے سپرد کرنے والا ہوں۔

سورۃ الاعراف

 سورۂ انعام کے بعد سورۂ اعراف ہے۔ اس سورت کے آغاز میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ پیارے حبیب علیہ الصلوٰۃ والسلام جو قرآنِ مجید آپ پر نازل کیا گیا ہے، یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو (اللہ کے عذاب) سے ڈرائیں اور اس میں مومنوں کیلئے نصیحت ہے۔ یہ وحی اس لیے نازل کی گئی ہے کہ آپ اس کی پیروی کریں۔ 

اگلی قوموں کا ذکر

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اگلی قوموں کا ذکر فرمایا کہ جب ان پر عذاب آیا تو وہ ایسی گھڑی میں نازل ہوا جب وہ قومیں سو رہی تھیں، یا رات کو اللہ کا عذاب نازل ہوا یا دن کے وقت جب وہ قیلولہ کر رہی ہوتی تھیں، یعنی اللہ کے عذاب نے انہیں غفلت میں آن پکڑا۔ 

اعمال کا وزن

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے وزن کا ذکر کیا ہے کہ کل قیامت کو وزن حق اور انصاف کے ساتھ ہو گا تو جس کا پلڑا بھاری ہو گا وہ کامیاب ہو گا اور جس کا پلڑا ہلکا ہو گا، تو یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے ہماری آیات کو رد کر کے اپنی ہی جانوں کا نقصان کیا۔ 

اللہ تعالیٰ کا انعام

اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ایک بہت بڑے انعام کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو زمین پر ٹھہرایا اور ان کیلئے مختلف طرح کے پیشے بنائے اور پھر بھی کم ہی انسان ہیں جو شکر گزار ہیں۔ 

مسجد کے آداب

اس پارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسجدوں میں آنے کے آداب کا بھی ذکر کیا کہ مسجد میں آتے ہوئے انسانوں کو اپنی زینت کو اختیار کرنا چاہیے اور اچھا لباس پہن کر مسجد میں آنا چاہیے۔

جہنم کے مناظر

اسی سورت میں اللہ تعالیٰ نے جہنم کے مناظر کا بھی ذکر کیا ہے کہ اہلِ جنت جہنمیوں سے مخاطب ہو کر کہیں گے: ہم پا چکے ہیں، جس کا وعدہ ہمارے رب نے کیا تھا، کیا تم کو بھی وہ کچھ مل گیا، جس کا تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا؟ تو وہ جواب میں کہیں گے: ہاں! اس پر ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا: اللہ کی لعنت ہو ظالموں پر، اسی طرح اہلِ نار جنتیوں سے تقاضا کریں گے کہ اللہ نے ان کو جو پانی اور رزق عطا کیا ہے، اس میں سے ان کو بھی دیا جائے تو اہلِ جنت کہیں گے: اللہ نے اس کھانے اور پینے کو اہل نار پر حرام کر دیا ہے۔

 اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، آمین!

 کبیرہ گناہوں کا ذکر

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے بعض کبیرہ گناہوں کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شرک نہیں کرنا چاہیے، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا چاہیے، اپنی اولاد کو بھوک کے خوف سے قتل نہیں کرنا چاہیے، فحاشی چاہے چھپی ہوئی ہو، چاہے علانیہ ہو، اس کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے، کسی کو ناحق قتل نہیں کرنا چاہیے، یتیم کے مال کو نا جائز طریقے سے استعمال نہیں کرنا چاہیے، ترازو کو صحیح طریقے سے پکڑنا چاہیے، جب بھی بات کی جائے عدل سے کرنی چاہیے، چاہے قریبی عزیز ہی اس کی زد میں آئیں، اللہ تعالیٰ سے کیے گئے یا اس کے نام پر کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے اور ان تمام نصیحتوں کا بنیا دی مقصد انسانوں میں عقل اور تقویٰ کو پیدا کرنا ہے۔ اس پارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کی بھی بڑی شدت سے مذمت کی ہے، جو اپنے دین میں تفرقہ پیدا کرتے اور گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ان کے کیے سے آگاہ کرے گا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پایاں رحمت کا بھی ذکر کیا ہے کہ جو ایک بُرائی کرے گا، اس کو ایک ہی کا بدلہ ملے گا، لیکن جو ایک نیکی کرے گا، اُسے اس جیسی دس نیکیاں ملیں گی اور انسانوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

اصحابِ اعراف 

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پارے میں اصحابِ اعراف کا بھی ذکر کیا ہے۔ اصحاب اعراف ایسے لوگ ہوں گے، جو جہنم کے عذاب سے محفوظ ہوں گے، لیکن اعمال میں کمزوری کی وجہ سے جنت حاصل کرنے میں ناکام ہو جائیں گے۔ ایک مخصوص مدت گزارنے کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل فرما دے گا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ خوف اور طمع کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کو پکارتے رہنا چاہیے۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہے۔ اس پارے کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کا ذکر کیا ہے،جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئیں، ان کا تفصیلی ذکر سورۂ ہود میں ہو گا۔

حرام چیزیں

اس پارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے رزق کی ان چار بڑی اقسام کا بھی ذکر کیا، جو انسانوں پر حرام ہیں۔ پہلا رزق جو انسانوں پر حرام ہے وہ مردار ہے۔ اسی طرح بہتا ہوا خون انسانوں پر حرام ہے، خنزیر کا گوشت بھی انسانوں پر حرام ہے اور اسی طرح غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ بھی انسانوں پر حرام ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 08)

کفار کی بہانے بازیاں:رسول کریمﷺ سے کفار طرح طرح کے مطالبے کرتے تھے کہ ہم اس وقت ایمان لائیں گے، جب فرشتے ہمارے پاس اتر کر آئیں یا برزخ و آخرت کے بارے میں آپ جو باتیں ہمیں بتاتے ہیں،

خلاصہ قرآن(پارہ 07)

ساتویں پارے کا آغاز سورۃ المائدہ کی جس آیت سے ہوتا ہے اس میں نجاشی کے دربار میں موجود علماء اور راہبوں کی قرآن پاک سننے کے بعد ہونے والی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے کہ

خلاصہ قرآن(پارہ 07)

قرآنِ مجید فرقانِ حمید کے ساتویں پارے کے شروع میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے نرم دل اور ایمان شناس عیسائیوں کی جماعت کا ذکر کیا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے کلام کی تلاوت کی جاتی ہے تو حقیقت کو پہچاننے کی وجہ سے ایسے لوگوں کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑیاں لگ جاتی ہیں اور وہ لوگ حق کو پہچاننے کے بعد اس کو قبول کر لیتے ہیں‘ وہ کہتے ہیں:

خلاصہ قرآن(پارہ 06)

اللہ اور رسولوں پر ایمان :سورۃ النساء کی آیت 150 میں بتایا کہ جو لوگ ایمان لانے میں اللہ اور اُس کے رسولوں کے درمیان فرق کریں یا بعض رسولوں پر ایمان لائیں اور بعض کا انکار کریں یا ایمان اور کفر کے مابین کوئی درمیانی راستہ تلاش کریں‘ یہ سب لوگ پکے کافر ہیں۔ مومن صرف وہی ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں اور بلا تفریق اُس کے سارے رسولوں پر بھی ایمان لائیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 06)

قرآن پاک کے چھٹے پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ سورۃ النساء میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ غلط بات کو پسند نہیں کرتا‘ مگر یہ کہ اگر کوئی مظلوم شخص اپنے اوپر کیے جانے والے ظلم کیخلاف آواز اٹھائے تو اسے ایسا کرنے کی اجازت ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 05): محرماتِ قطعیہ

پانچویں پارے کے شروع میں محرماتِ قطعیہ کے تسلسل میں بتایا گیا ہے کہ جب تک کوئی عورت کسی دوسرے شخص کے نکاح میں ہے‘ اس سے نکاح حرام ہے،