خلاصہ قرآن(پارہ 07)

تحریر : مفتی منیب الرحمن


ساتویں پارے کا آغاز سورۃ المائدہ کی جس آیت سے ہوتا ہے اس میں نجاشی کے دربار میں موجود علماء اور راہبوں کی قرآن پاک سننے کے بعد ہونے والی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے کہ

 ’’اور جب وہ اس (قرآن کو سنتے ہیں) جو رسول کی طرف نازل کیا گیاتو حق کو پہچاننے کی وجہ سے اصحابہ کرامؓ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کو بہتا ہوا دیکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے‘ تو ہمیں (حق کی) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے‘‘۔ اس کے بعد ان کیلئے اجر آخرت اور دخول ِجنت کی نعمتوں کا ذکر ہے۔ 

قسم کا حکم وکفارہ

آیت 89 میں قسم کا بیان ہے‘ یعنی کوئی شخص مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائے‘ اگر وہ اس قسم پر قائم رہتا ہے‘ تو فقہی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ وہ قسم میں بری ہے اور اگر وہ قسم کو توڑ دیتا ہے‘ یعنی جو کہا ہے‘ اس کے برعکس کرتا ہے‘ تو فقہی اعتبار سے اسے ’’حانث‘‘ ہونا کہتے ہیں۔ اس آیت میں قسم کا کفارہ بیان ہوا ہے‘ جو دس مسکینوں کو اپنے اوسط معیار کے مطابق دو وقت کا کھانا کھلانا یا ان کو لباس دینا یا غلام آزاد کرنا ہے (آج کل غلامی کا رواج نہیں)۔ اگر کوئی ان چیزوں پر قادر نہ ہو تو کفارہ تین دن کے روزے رکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو تاکہ کفارے کی نوبت نہ آئے۔

ناپاک کاموں سے ممانعت

 آیت 90 اور 91 میں فرمایا: ’’اے مومنو! شراب‘ جوا‘ بتوں کے پاس (قربانی کیلئے) نصب شدہ پتھر اور فال کے تیر محض ناپاک شیطانی کاموں سے ہیں۔ سو‘ تم ان سے اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو بس یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان بغض اور عداوت پیدا کرے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے‘ تو کیا تم باز آنے والے ہو؟‘‘۔

 غیر ضروری سوالات

 آیت 101 میں رسول کریمﷺ سے غیر ضروری سوالات کرنے سے منع فرمایا گیا کہ اگر بہت سی باتیں تم پر ظاہر ہو جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔ آیت 103 : زمانۂ جاہلیت میں مشرکوں نے بعض حلال جانوروں کو بتوں کے نام پر وقف کرکے ان کا دودھ دوہنا‘ ان پر سامان لادنا اور ان کا گوشت کھانا ممنوع قرار دے رکھا تھا۔ 

 وصیت کیلئے گواہ مقرر کرنا

آیت 106 میں وصیت کیلئے دو عادل گواہ مقرر کرنے کا حکم دیا تاکہ بعد میں تنازع پیدا نہ ہو اور یہ بھی حکم دیا کہ حق کی گواہی کو چھپانا نہیں چاہیے۔ ابتدائے اسلام میں وصیت کو فرض قرار دیا گیا تھا لیکن احکامِ وراثت نازل ہونے کے بعد صرف اس کی اِباحت اور خیر کے کاموں کیلئے استحباب باقی ہے۔

حضرت عیسیٰ  ؑپر نعمتیں

 آیت 110 اور 111 میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی نعمتیں بیان کیں: روح القدس سے مدد کرنا، گہوارے میں لوگوں سے کلام کرنا ، کتاب و حکمت‘ تورات اور انجیل کی تعلیم،عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات‘ مثلاً: اذنِ الٰہی سے مٹی سے پرندہ بنا کرجان ڈالنا‘ مادر زاد اندھے اور برص کے مریض کو شفایاب کرنا‘ مردے کو زندہ کرنا‘ بنی اسرائیل کی ایذا رسانی سے بچانا‘ وغیرہ۔ 

خوان نعمت

آیت 112 عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کا اُن سے استدعا کرنا کہ اللہ آسمان سے ہمارے لیے تیار خوانِ نعمت نازل کرے‘ اس سے ہم کھائیں اور قلبی اطمینان پائیں۔ اس پر اللہ نے فرمایا ’’میں یہ نعمت نازل تو کر دوں گا‘ مگر پھر جو شخص کفر کرے گا تو اسے ایسا عذاب دوں گا‘ جو جہان والوں میں سے کسی کو بھی نہ دوں گا‘‘۔ اس کے بعد کی آیات میں نصاریٰ پر حجت قائم کرنے کیلئے فرمایا کہ ’’اے عیسیٰ! کیا آپ نے لوگوں کو یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا خدا بنا لو‘‘۔ ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے برأت کا اظہار کیا۔

 ہر خیر کا مالک

آیت 14 میں رسولﷺ کو حکم ہوا کہ آپ کافروں اور مشرکوں کو بتائیں کہ کیا میں زمین و آسمان کے خالق اور سب کے روزی رساں کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا کارساز مان لوں؟ آپ کہہ دیں کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں۔ اللہ جس کوضرر پہنچائے‘ اس کے سوا کوئی نجات دینے والا نہیں‘ وہ ہر خیر کا مالک ہے۔ مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں ہر مخاطَب کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤں اور اس کی توحیدکی دعوت دوں۔

روزِ قیامت

 آیت 22 میں فرمایا کہ قیامت کے دن ہم سب مشرکوں کو جمع کریں گے اور پوچھیں گے کہ تمہارے باطل معبود اب کہاں ہیں‘ تو وہ اپنے ماضی کو جھٹلائیں گے۔ 

منکرین

آیت 25 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ منکرین آپ کی بات کو توجہ سے سنتے ہیں لیکن ان کی بداعمالیوں کے سبب ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ آخرت میں وہ تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں واپس دنیا میں بھیج دیا جائے اور ہم ایمان لانے والوں میں سے ہو جائیں۔ 

رسول اللہ  ؐ کو تسلی

آیت 31  میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے اللہ کے حضور پیش ہونے کی حقیقت کو جھٹلایا‘ وہ اپنی بداعمالیوں کا بوجھ اپنی پشت پر اٹھائے ہوئے ہیں اور جب قیامت آ پہنچے گی تو وہ اپنی کوتاہی پر افسوس کریں گے۔ رسول اللہﷺ کو تسلی دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ غمگین نہ ہوں‘ یہ آپ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ درحقیقت آیاتِ الٰہی کا انکار کر رہے ہیں اور آپ سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو جبراً ہدایت پر جمع فرما دیتا‘ لیکن بندے کو اختیار دے کر آزمانا اور جزا و سزا کا نظام قائم کرنا‘ اس کی حکمت کا تقاضا تھا۔

مشرکین کے مطالبات

 آیت 46 میں فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری سننے اور دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو سَلب فرما لے‘ تو کون ہے جو تمہیں نعمتیں عطا کر سکتا ہے۔ مشرک آپﷺ سے طرح طرح کے مطالبات کرتے تھے‘ تو اللہ نے فرمایا: آپ کہہ دیں میں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں از خود غیب جانتا ہوں اور نہ میں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں فرشتہ ہوں‘ میں تو فقط اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں‘ جس کی مجھے وحی کی جاتی ہے۔

غیب کی کنجیاں

 آیت 59 میں فرمایا: ’’اور غیب کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں‘ اِس کے سوا (از خود) ان کو کوئی نہیں جانتا‘ وہ ہر اُس چیز کو جانتا ہے‘ جو خشکی اور سمندر میں ہے‘ وہ درخت سے گرنے والے ہر پتے کو جانتا ہے اور زمین کی تاریکیوں میں ہر دانہ کو جانتا ہے اور تر اور خشک ہر چیز لوحِ محفوظ میں لکھی ہوئی ہے‘‘۔ 

 نگرانی والے فرشتے 

آیت 61 میں فرمایا ’’اللہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ اُن پر نگرانی کرنے والے فرشتے بھیجتا ہے اور جب کسی کی موت کا وقت آ جائے‘ تو وہ فرشتے کسی کوتاہی کے بغیر اُس کی رُوح کو قبض کر لیتے ہیں‘‘۔

 نجات دینے والا کون

 آیت 63 میں فرمایا کہ بَر و بحر کی ظلمتوں میں کون تمہیں نجات دیتا ہے‘ جس کو تم عاجزی سے اور چپکے چپکے پکارتے ہو کہ اگر وہ ہمیں اِس مصیبت سے بچا لے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں ہو جائیں گے‘ اے رسول! کہہ دیجئے اللہ ہی تم کو اس مصیبت اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے‘ پھر بھی تم اُس کے ساتھ شرک کرتے ہو۔ آیت 64 میں فرمایا: اللہ اِس پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے اور تمہارے پاؤں کے نیچے سے تم پر عذاب بھیجے اور تمہیں ایک دوسرے سے بھڑا دے اور تمہیں ایک دوسرے سے لڑائی کا مزہ چکھا دے۔  

سورۃ الانعام

 اس سورت کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بیان ہے کہ اس نے آسمانوں‘ زمین‘ ظلمت اور نور کو پیدا کیا‘ اسی نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا‘ پھر اس کیلئے ایک مدتِ حیات اور قیامت کا وقت مقرر فرمایا‘ لیکن کافر پھر بھی اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کی قدرت کے بارے میں شک میں مبتلا ہوتے ہیں حالانکہ وہ ظاہر و باطن اور انسان کے ہر عمل کو جانتا ہے۔ منکروں کا ایک شعار یہ ہے کہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں آنے کے باوجود ان میں غور نہیں کرتے۔ آیت 7 میں فرمایا کہ کافروں کا حال تو یہ ہے کہ اگر لکھی ہوئی کتاب ان کے پاس اتار دی جائے‘ جسے وہ اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھ لیں‘ تو پھر بھی ایمان نہ لائیں‘ بلکہ اسے جادو قرار دیں‘ اسی طرح اگر ان کے پاس فرشتہ اتر کر آ جائے‘ ملکوتی شکل میں‘ تو وہ دیکھ نہ پائیں اور اگر بشری لباس میں آئے‘ تو پھر وہ کہیں گے کہ یہ تو ہم جیسا بشر ہے۔ 

اتباع رسول کا حکم

آیت 104میں بتایا گیاہے کہ جب اہلِ کتاب اور دین سے انحراف کرنے والوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کے نازل کردہ دین اور رسول کی طرف اتباع کیلئے چلے آؤ‘ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو اسی روش پر پایا ہے اور ہم اپنے آبائو اجداد کے شِعار کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں‘ خواہ ان کے آبائو اجداد جاہل اور راہِ ہدایت سے بھٹکے ہوئے ہوں۔ ظاہر ہے کہ رسولﷺ کو اس رویے سے تکلیف پہنچتی تھی تو اللہ نے اہل ایمان کی تسلی کیلئے فرمایاکہ جب تک تم خود ہدایت پر ہو کسی کی گمراہی تمہارے لیے نقصان دہ نہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 07)

قرآنِ مجید فرقانِ حمید کے ساتویں پارے کے شروع میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے نرم دل اور ایمان شناس عیسائیوں کی جماعت کا ذکر کیا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے کلام کی تلاوت کی جاتی ہے تو حقیقت کو پہچاننے کی وجہ سے ایسے لوگوں کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑیاں لگ جاتی ہیں اور وہ لوگ حق کو پہچاننے کے بعد اس کو قبول کر لیتے ہیں‘ وہ کہتے ہیں:

خلاصہ قرآن(پارہ 06)

اللہ اور رسولوں پر ایمان :سورۃ النساء کی آیت 150 میں بتایا کہ جو لوگ ایمان لانے میں اللہ اور اُس کے رسولوں کے درمیان فرق کریں یا بعض رسولوں پر ایمان لائیں اور بعض کا انکار کریں یا ایمان اور کفر کے مابین کوئی درمیانی راستہ تلاش کریں‘ یہ سب لوگ پکے کافر ہیں۔ مومن صرف وہی ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں اور بلا تفریق اُس کے سارے رسولوں پر بھی ایمان لائیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 06)

قرآن پاک کے چھٹے پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ سورۃ النساء میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ غلط بات کو پسند نہیں کرتا‘ مگر یہ کہ اگر کوئی مظلوم شخص اپنے اوپر کیے جانے والے ظلم کیخلاف آواز اٹھائے تو اسے ایسا کرنے کی اجازت ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 05): محرماتِ قطعیہ

پانچویں پارے کے شروع میں محرماتِ قطعیہ کے تسلسل میں بتایا گیا ہے کہ جب تک کوئی عورت کسی دوسرے شخص کے نکاح میں ہے‘ اس سے نکاح حرام ہے،

خلاصہ قرآن(پارہ 05):نکاح

چوتھے پارے کے آخر میں ان رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے‘ جن سے نکاح کرنا حرام ہے۔

سپر ایٹ :نئی گروپ بندی، نیاامتحان

آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء:پاکستان نے ٹی 20 ورلڈکپ 2028 ء کیلئے براہ راست کوالیفائی کر لیا:سپرایٹ میں پاکستان اپنا پہلا میچ نیوزی لینڈ کے خلاف کھیل چکا،انگلینڈ اورسری لنکا کیخلاف امتحان باقی، سیمی فائنل میں رسائی کیلئے سپرایٹ کے دو میچز جیتنا لازمی