خلاصہ قرآن(پارہ 09)

تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر


حضرت شعیبؑ کا واقعہ:نویں پارے کا آغاز بھی سورۃ الاعراف سے ہوتا ہے۔ آغاز میں حضرت شعیب علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ اُن کی قوم کے لوگ مال کی محبت میں اندھے ہو کر حرام و حلال کی تمیز بھلا چکے تھے۔

 اللہ کے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب اُنہیں پورا تولنے اور پورا ماپنے کا حکم دیا تو انہوں نے ایک دوسرے کو مخاطب ہو کر کہا کہ اگر تم نے شعیب (علیہ السلام) کی پیرو ی کی تو گھاٹے میں پڑ جائو گے۔ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ حقیقی خسارہ اور گھاٹا تو شعیب علیہ السلام کو جھٹلانے والوں کیلئے تھا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا کہ اگر بستیوں کے رہنے والے ایمان اور تقویٰ کو اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ ان کیلئے آسمان اور زمین سے برکات کے دروازے کھول دیں گے‘ لیکن چونکہ وہ اللہ کے احکامات کو جھٹلاتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ ان پر گرفت کرتے ہیں۔

فرعونیوں پر عذاب

 اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اللہ نے فرعون اور اس کے قبیلے پر مختلف قسم کے عذاب مسلط کیے۔ اللہ تعالیٰ نے کبھی پھلوں کے نقصانات کے ذریعے‘ کبھی خون کی بارش کے ذریعے‘ کبھی جوئوں‘ مینڈکوں اور ٹڈیوں کی بارش کے ذریعے ان پر اپنے عذاب نازل کیے۔ ہر دفعہ آتے ہوئے عذاب کو دیکھ کر آلِ فرعون اپنی اصلاح کا وعدہ کرتے‘ لیکن جب وہ عذاب ٹل جاتا تو دوبارہ نافرمانی پر آمادہ ہو جاتے، یہاںتک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانیوں کی پاداش میں ان کو سمندر میں غرق کر دیا۔

موسیٰ  ؑ کا اللہ سے کلام

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو اپنے سے ہم کلام ہونے کا شرف عطا کیا اور چالیس روز تک آپ سے کلام کرتے رہے۔ اس کلام کے دوران جناب موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا: اے پروردگار! کیا میں تجھے دیکھ نہیں سکتا؟ تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ نہیں! ایک دفعہ کوہِ طور پر نظر کریں‘ اگر یہ پہاڑ اپنی جگہ جما رہا تو آپ مجھے دیکھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب اپنی تجلیات کو کوہِ طور پر گرایا تو طور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا اور جناب موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو گئے۔ جب جناب موسیٰ علیہ السلام ہوش میں آئے تو انہوں نے کہا: اے پروردگار! آپ کی ذات پاک ہے اس بات سے کہ ان آنکھوں سے آپ کو دیکھا جا سکے۔

بچھڑے کی پوجا

موسیٰ علیہ السلام جب کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کیلئے گئے تو آپ اپنی عدم موجودگی میں جناب ہارون علیہ السلام کو اپنی قوم کے نگران کے طور پر مقرر کر کے گئے تھے۔ جناب موسیٰ علیہ السلام کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سامری جادوگر نے سونے اور چاندی کا ایک بچھڑا بنا کر اس میں جبرائیل علیہ السلام کے قدموں سے چھونے والی راکھ کو ڈال کر جادو پھونکا تو اس میں سے حقیقی بچھڑے کی طرح آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ جناب موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے اُسے پوجنا شروع کر دیا۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنی قوم کے لوگوں کو بہت سمجھایا کہ یہ شرک ہے اور اس سے بچنا چاہیے‘ لیکن ان نادانوں نے جناب ہارون علیہ السلام کی نصیحت کو پسِ پشت ڈال دیا۔ 

ہفتے کے دن کی آزمائش

اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ہفتے کے دن والی آزمائش کا بھی ذکر کیا ہے کہ سمندر کے کنارے ایک بستی کے رہنے والے یہودیوں کو اللہ تعالیٰ نے ہفتے کو مچھلیوں کے شکار سے منع فرما دیا تھا۔ وہ ہفتے کے دن جال لگا لیتے اور اتوار کو مچھلیاں پکڑ لیتے۔ ان نافرمانوں کو اس بستی کے ایک گروہ نے نیکی کی نصیحت کی جبکہ ایک گروہ غیر جانبدار تھا۔ غیر جانبدار گروہ نے نصیحت کرنے والے گروہ کو کہا: تم ان لوگوں کو سمجھا کر کیا کر لو گے جو ہلاکت یا اللہ کے عذاب کا نشانہ بننے والے ہیں؟ اس پر نصیحت کرنے والی جماعت نے کہا: اس کارِ خیر سے ہمارا عذر ثابت ہو جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ بھی راہِ راست پر آ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی نافرمانی کرنے والوں کو عذا ب کا نشانہ بنا دیا اور ان کے چہرے اور جسم مسخ کر کے انہیں بندروں کی مانند کر دیا۔

 رسول اللہؐ کی عظیم خصوصیات

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺکی دو عظیم خصوصیات کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کا ذکر تورات اور انجیل میں بھی مذکور تھا۔ اللہ تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا ہے اور آپﷺ کی رسالت زمانوں اور علاقوں کی حدود سے بالاتر ہے۔

 اللہ کے خوبصورت نام 

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ کے خوبصورت نام ہیں اور ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ کو ان ناموں کے ساتھ پکارنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آ کر ان سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی؟ اللہ نے کہا کہ آپﷺ ان کو فرما د یجیے کے اللہ کے سوا اس کے وقت کو کوئی نہیں جانتا۔ اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جب قرآنِ مجید کی تلاوت ہو رہی ہو تو اس کو توجہ سے سننا چاہیے اور خاموشی کو اختیار کرناچاہیے۔ اللہ تعالیٰ توجہ سے قرآن پاک سننے کی وجہ سے انسانوں پر رحم فرمائے گا۔

فرشتوں کی مدد 

یہ بھی ارشاد فرمایا کہ فرشتوں کی مدد تو درحقیقت مومنوں کیلئے ایک بشارت ہے‘ اصل مدد تو اللہ تعالیٰ کی نصرت ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اہلِ ایمان کو جب اللہ اور اس کے رسول بلائیں تو ان کو فوراً ان کی پکارکا جواب دینا چاہیے‘ اس لیے کہ ایمان والوں کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی پکار پر عمل پیرا ہو کر ہی زندگی ملتی ہے۔

استغفار کا ہتھیار

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکرکیا کہ جس جگہ پر رسول اللہﷺ موجود ہوں یا جس قوم کے لوگ استغفار کرنے والے ہوں ان پر اللہ کا عذاب نہیں آ سکتا‘ یعنی رسولﷺکے وصال کے بعد امت مسلمہ کے پاس عذاب سے بچنے کیلئے آج بھی استغفار کا ہتھیار موجود ہے۔

موسیٰ  ؑ کی کوہ طور سے واپسی

جناب موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے بعد جب تورات کو لیے ہوئے پلٹے تو اپنی قوم کے لوگوں کو شرک کی دلدل میں دھنسے ہوئے پایا۔ آپ اس منظر کو دیکھ کر اتنا غضبناک ہوئے کہ آپ نے جنابِ ہارون کی داڑھی کے بالوں کو پکڑ لیا۔ جنابِ ہارون علیہ السلام نے جناب ِموسیٰ علیہ السلا م سے کہا کہ اے برادرِ عزیز! میں نے ان کو بہتیرا سمجھایا‘ لیکن انہوں نے میری کسی نصیحت کو قبول نہ کیا۔ میں نے اس لیے زیادہ اصرار نہیں کیا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ میں نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا ہے۔ جناب موسیٰ علیہ السلام کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو آپ نے اپنے اور حضرت ہارون کے لیے اللہ کی بارگاہ میں دعا مانگی کہ پروردگار! ان کے اور فاسقوں کے درمیان تفریق پیدا فرما دے۔

سورۃ الانفال

سورۃ الاعراف کے بعد سورۃالانفال ہے۔ سورہ انفال میں اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے بدر کے معرکے میں مسلمانوں کی قلیل تعداد کے باوجود ان کو کافروں پر غالب کیا اور ان کی مدد کیلئے ایک ہزار فرشتے اتارے۔ سورۃ آل عمران میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ نے تین ہزار اور اس کے بعد صبر و استقامت کے مظاہرے کی صورت میں پانچ ہزار فرشتوں کے نزول کا وعدہ فرمایا۔ 

فرعون کو دعوت ِ توحید

 اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ ؑکی فرعون کے دربار میں آمد کا ذکر کیا اور بتایا کہ جب موسیٰ علیہ السلام فرعون کو توحید کی دعوت دینے آئے اور فرعون نے سر کشی کا مظاہرہ کیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اللہ کی عطا کردہ نشانیوں کو ظاہر فرمایا۔ آپ علیہ السلام نے اپنے عصا کو زمین پر گرایا تو وہ بہت بڑا اژدہا بن گیا‘ آپ نے اپنے ہاتھ کو اپنی بغل میں ڈال کر باہر نکالا تو وہ روشن ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کی اتنی واضح نشانیوں کو دیکھ کر بھی فرعون اور اس کے مصاحب سرکشی پر تلے رہے اور جناب موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو جادوگر قرار دے دیا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ مجید پڑھنے‘ سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین! 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 09)

قومِ شعیب:نویں پارے کے شروع میں قومِ شعیب علیہ السلام کے سرکش سرداروں کی اس دھمکی کا ذکر ہے کہ اے شعیب! ہمارے دین کی طرف پلٹ آؤ‘ ورنہ ہم تمہیں اور تمہارے پیرو کاروں کو جلاوطن کر دیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 08)

کفار کی بہانے بازیاں:رسول کریمﷺ سے کفار طرح طرح کے مطالبے کرتے تھے کہ ہم اس وقت ایمان لائیں گے، جب فرشتے ہمارے پاس اتر کر آئیں یا برزخ و آخرت کے بارے میں آپ جو باتیں ہمیں بتاتے ہیں،

خلاصہ قرآن(پارہ 08)

کفار کے بہانے:آٹھویں پارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے بات کرنے لگتے اور ہر چیز کو ان کے سامنے لا کھڑا کر دیتے تو بھی وہ ایمان لانے والے نہیں تھے، سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 07)

ساتویں پارے کا آغاز سورۃ المائدہ کی جس آیت سے ہوتا ہے اس میں نجاشی کے دربار میں موجود علماء اور راہبوں کی قرآن پاک سننے کے بعد ہونے والی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے کہ

خلاصہ قرآن(پارہ 07)

قرآنِ مجید فرقانِ حمید کے ساتویں پارے کے شروع میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے نرم دل اور ایمان شناس عیسائیوں کی جماعت کا ذکر کیا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے کلام کی تلاوت کی جاتی ہے تو حقیقت کو پہچاننے کی وجہ سے ایسے لوگوں کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑیاں لگ جاتی ہیں اور وہ لوگ حق کو پہچاننے کے بعد اس کو قبول کر لیتے ہیں‘ وہ کہتے ہیں:

خلاصہ قرآن(پارہ 06)

اللہ اور رسولوں پر ایمان :سورۃ النساء کی آیت 150 میں بتایا کہ جو لوگ ایمان لانے میں اللہ اور اُس کے رسولوں کے درمیان فرق کریں یا بعض رسولوں پر ایمان لائیں اور بعض کا انکار کریں یا ایمان اور کفر کے مابین کوئی درمیانی راستہ تلاش کریں‘ یہ سب لوگ پکے کافر ہیں۔ مومن صرف وہی ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں اور بلا تفریق اُس کے سارے رسولوں پر بھی ایمان لائیں۔