خلاصہ قرآن(پارہ 08)

تحریر : مفتی منیب الرحمن


کفار کی بہانے بازیاں:رسول کریمﷺ سے کفار طرح طرح کے مطالبے کرتے تھے کہ ہم اس وقت ایمان لائیں گے، جب فرشتے ہمارے پاس اتر کر آئیں یا برزخ و آخرت کے بارے میں آپ جو باتیں ہمیں بتاتے ہیں،

 ہمارے جو لوگ مرچکے ہیں، وہ زندہ ہو کر آئیں اور آپ کے دعوؤں کی تصدیق کریں، قرآن مجید نے بتایاکہ اُن کی یہ ساری باتیں جہل پر مبنی اور انکارِ حق کیلئے محض بہانے بازی ہے۔ 

حلال جانور

سورۃ الانعام کی آیات 117 تا  118 میں فرمایاگیا ہے: جس (حلال جانور) پر ذِبح کے وقت اللہ کا نام لیاگیا ہو، اُسے کھاؤ، جو حرام چیزیں ہیں، انہیں تمہارے لیے تفصیل سے بیان کر دیا گیا، صرف حالت اضطرار میں اور وہ بھی بقدربقائے حیات کھانے کی اجازت ہے۔ مزید فرمایا: جس ذبیحے پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اُسے نہ کھاؤ۔ 

 فریب کا وبال

آیت 123 میں فرمایا: اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اُس کے مجرموں کو سردار بنایا تاکہ وہ وہاں فریب کاری کریں اور اُن کے دَجل و فریب کا وبال اُنہی پر آئے گا۔ آیات 130 تا 131 میں اتمامِ حجت کیلئے فرمایا: ’’اے جنّات اور انسانوں کے گروہ! کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے، جو تم پر میری آیات بیان کرتے تھے اور تمہیں اس (قیامت کے) دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں اور اُنہیں دنیاکی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ (یہ گواہی اس وجہ سے دی گئی کہ) آپ کا رب بستیوں کو ظلماً ہلاک کرنے والا نہیں ہے‘‘۔ 

 اللہ کی مشیت و رِضا

آیت 148 میں ہر دور کے منکرین کے ایک نفسیاتی حربے کو بیان کیا کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں، یہ اللہ کی مشیت ہے، اگر وہ نہ چاہتا تو ہم یہ سب کچھ نہ کرپاتے۔ درحقیقت بات یہ ہے کہ اللہ کی مشیت اور ہے اور اس کی رِضا اور ہے، مثلاً مجرم کو سزا دینا اس کی مشیت ہے، لیکن اس کی رضا اس میں ہے کہ کوئی اس کی نافرمانی نہ کرے۔ اگر سب کو جبری طور پر اطاعت کے راستے پر ڈالنا اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی، تو کسی کی مجال نہ تھی کہ اس کی حکم عدولی کرے۔

احکامِ شرعیہ

آیات 152 تا 154 میں فرمایا کہ (1) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو ،(2) والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، (3) تنگدستی کے خوف سے اولاد کو قتل نہ کرو، (4) ظاہر و مستور فحاشی سے اجتناب کرو ،(5) قتلِ ناحق نہ کرو (6) یتیم کا مال ناجائز طریقے سے نہ کھائو، (7)لین دین میں ناپ تول پورا کرو، (8) بلا تمیز سب کے ساتھ انصاف کرو، (9) اور اللہ سے کیے گئے عہد کی پاسداری کرو۔ یہ نو احکامِ شرعیہ ہی دین اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ اور لُبّ لباب ہیں اور باقی تمام شرعی احکام انہی پر منحصر ہیں، اسی لیے فرمایا: ’’یہی سیدھا راستہ ہے، فرقہ بندی چھوڑ کر اسی کی پیروی کرو اور کتابِ الٰہی کے احکام کو ملحوظ رکھو‘‘۔

 روحِ ایمان

 آیات 163 تا 164میں حقیقت ایمان اور روحِ ایمان اور مسلمان کے مقصدِ حیات کو بیان کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے: ’’(اے رسول) کہہ دیجئے کہ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت (سب کچھ) اللہ رب العالمین کیلئے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے یہی حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں‘‘۔

اعمال کا وزن

 آیت 8 میں بتایا کہ قیامت کے دن اعمال کا وزن کیا جانا حق ہے اور جن کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گا، وہی فلاح پانے والے اور کامیاب ہیں اور جن کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہو گا وہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

حضرت آدم ؑ کا واقعہ

 آیات 11 تا 27 میں حضرت آدمؑ اور ابلیس کا واقعہ بیان ہوا کہ جب ابلیس نے اللہ کے حکم پر آدم کو سجدہ نہ کیا تو رب ذوالجلال نے اس سے پوچھا کہ تو نے میرے حکم کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ اس نے اپنی سرکشی کا جواز عقلی دلیل سے پیش کیا کہ میں آدم سے بہتر ہوں، انہیں مٹی سے پیدا کیا گیا، میرا جوہرِ تخلیق آگ ہے اور آگ لطیف ہونے کی بنا پر مٹی سے افضل ہے۔ تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو رسوا کرکے مقامِ عزت سے نکال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم وحوا علیہما السلام کو جنت میں داخل کیا اور انہیں ایک خاص درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا۔ شیطان نے انہیں وسوسہ ڈالا اور خیر خواہ کا روپ اختیار کرکے کہا کہ آپ لوگوں کو اس درخت کے قریب جانے سے محض اس لیے منع کیا گیا ہے کہ اس کے قریب جاکر آپ لوگ فرشتے بن جائیں گے اور آپ کو ابدی زندگی مل جائے گی۔ اس نے قسمیں کھا کر اپنی خیرخواہی کا یقین دلایا، پھر ان سے اجتہادی خطا ہوئی اور اس درخت کو چکھنے سے ان کی شرمگاہیں ظاہر ہو گئیں اور وہ درختوں کے پتوں سے اپنے ستر کو ڈھانپنے لگے، یہاں قرآنِ مجید نے یہ بھی بتایا کہ شیطان کا مقصد ان کے ستر کو بے حجاب کرنا تھا۔ اپنی اجتہادی خطا کا احساس ہونے پر حضرت آدم علیہ السلام نے توبہ کی اور ان کی توبہ کے کلمات آیت 23 میں بیان ہوئے ہیں۔

 مقصدِ لباس

 آیت 26 تا 27 میں اللہ تعالیٰ نے مقصدِ لباس بیان فرمایا کہ ہم نے بنی آدم پر لباس اس لیے اتارا کہ ان کی ستر پوشی ہو اور سامانِ زینت ہو اور سب سے بہتر لباس تو تقویٰ ہے، پھر بنی آدم کو متنبہ کیا گیا کہ شیطان کے مکرو فریب میں نہ آنا۔ 

بارانِ رحمت کے نظام 

آیت 57 میں اللہ تعالیٰ نے بارانِ رحمت کے نظام کے بارے میں بتایا کہ اس کے حکم سے ہوائیں پانی سے بھرے بادلوں کو اُٹھا کر لے جاتی ہیں اور بنجر زمین پر برسا کر اس میں اللہ کی نعمتیں پیدا کر دیتی ہیں، پھر فرمایا کہ اچھی زمین اللہ تعالیٰ کے حکم سے سبزہ اگاتی ہے اور خراب زمین باغ و بہار نہیں لاتی۔ 

قوم نوح ؑ 

آیت 59 سے حضرت نوحؑ اور ان کی قوم کے حالات بیان کیے گئے ہیں کہ ان کی قوم کے سرداروں نے کہا: ’’(معاذ اﷲ) آپ کھلی گمراہی میں ہیں۔ حضرت نوحؑ نے فرمایا کہ میں تو اللہ کا رسول ہوں اور میرا کام تمہاری خیر خواہی اور تم تک دعوت حق کو پہچانا ہے‘‘۔ 

 قوم عاد کا ذکر

 اگلی آیات میں حضرت ہودؑ اور قوم عاد کا ذکر ہے کہ قومِ عاد نے بھی اللہ کے نبی پر طعن کیا کہ (معاذاللہ) آپ حماقت میں مبتلا ہیں، پھر ہودؑ نے اپنی قوم کو وہی جواب دیا، جو حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کو دیا تھا۔ حضرت ہودؑ نے قومِ عاد کو انعاماتِ الٰہیہ کا شکر اداکرنے کی تلقین کی، انکار کے سبب اُن پر اللہ کا عذاب اور غضب نازل ہوا، اللہ نے حضرتِ ہودؑ اور ان کے ساتھیوں کو نجات دی۔ 

 قوم لوط کا ذکر

 آیت 80 سے 84 تک حضرت لوطؑ اور ان کی قوم کا ذکر ہے کہ وہ بے حیائی میں سب پر سبقت لے گئے، وہ اپنی جنسی خواہش کو غیر فطری طریقے سے پورا کرتے اور جب اللہ کے نبی عذاب کا ڈر سناتے تو وہ اسے مذاق سمجھتے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا، آسمان سے پتھر برسائے اور ان کا نام ونشان مٹا دیا گیا، یہاں تک کہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی جو قومِ لوط کی ہم خیال تھی بھی عذاب سے نہ بچ سکی۔ صرف حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے ساتھ قبیلے کے چند نیکوکار لوگ ہی محفوظ رہے۔

 قومِ مدین کا ذکر 

 آیت 85 میں قومِ مدین کا ذکر ہے کہ وہ ناپ تول میں ڈنڈی مارتے اور دوسروں کو چیزیں کم تول کر دیتے تھے۔ انہیں بھی کہا گیا کہ فساد فی الارض سے باز آ جاؤ اور اپنے سے پہلی سرکش امتوں کا انجام دیکھ لو۔

سورۃ الاعراف

اعراف کے معنی بلندی کے ہیں اور اس کا معنی جاننا اور پہچاننا بھی ہے۔ ’’اصحابِ اعراف‘‘ کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ ان کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے اور ان کا مقام جنت اور دوزخ کے درمیان ہو گا یا یہ وہ لوگ ہیں جو اہل جنت اور اہل جہنم کو پہچاننے والے ہوں گے اور ایک قول کے مطابق یہ انبیاء ہیں یا ملائکہ ہیں۔

قوم ثمود کا ذکر

آیت 73 سے حضرت صالحؑ اور ان کی قوم ثمود کا ذکر ہے۔ قومِ ثمود کے لوگ پہاڑوں کو تراش کر ان میں گھر بناتے تھے، گویا ان کو اپنی طاقت پر ناز تھا، پھر قومِ ثمود نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور حضرت صالحؑ کو معجزے کے طور پر دی گئی اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی کی سزا اس طرح دی کہ ان پر رات کو زلزلے کا عذاب آیا اور صبح کو وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔

عُشرادا کرنے کا حکم

آیات 142 تا 146 میں اللہ تعالیٰ نے پھلوں، کھیتوں اور جانوروں کے ذریعے عطا کی جانے والی نعمتوں کا ذکر فرمایا کہ ’’اللہ کی ان نعمتوں کو کھاؤ، اسراف نہ کرو اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو، پھلوں اور کھیتوں کی پیداوار میں اللہ تعالیٰ کے حق (عُشر یا نصف عُشر) کو ادا کرو‘‘۔ پھر فرمایا کہ ’’یہود کی سرکشی کی وجہ سے ناخن والے جانوروں اور گائے اور بکری کی چربی کو ان پر حرام کر دیا گیا تھا، انہوں نے اسے پگھلایا اور فروخت کر دیا‘‘۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 08)

کفار کے بہانے:آٹھویں پارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے بات کرنے لگتے اور ہر چیز کو ان کے سامنے لا کھڑا کر دیتے تو بھی وہ ایمان لانے والے نہیں تھے، سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 07)

ساتویں پارے کا آغاز سورۃ المائدہ کی جس آیت سے ہوتا ہے اس میں نجاشی کے دربار میں موجود علماء اور راہبوں کی قرآن پاک سننے کے بعد ہونے والی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے کہ

خلاصہ قرآن(پارہ 07)

قرآنِ مجید فرقانِ حمید کے ساتویں پارے کے شروع میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے نرم دل اور ایمان شناس عیسائیوں کی جماعت کا ذکر کیا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے کلام کی تلاوت کی جاتی ہے تو حقیقت کو پہچاننے کی وجہ سے ایسے لوگوں کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑیاں لگ جاتی ہیں اور وہ لوگ حق کو پہچاننے کے بعد اس کو قبول کر لیتے ہیں‘ وہ کہتے ہیں:

خلاصہ قرآن(پارہ 06)

اللہ اور رسولوں پر ایمان :سورۃ النساء کی آیت 150 میں بتایا کہ جو لوگ ایمان لانے میں اللہ اور اُس کے رسولوں کے درمیان فرق کریں یا بعض رسولوں پر ایمان لائیں اور بعض کا انکار کریں یا ایمان اور کفر کے مابین کوئی درمیانی راستہ تلاش کریں‘ یہ سب لوگ پکے کافر ہیں۔ مومن صرف وہی ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں اور بلا تفریق اُس کے سارے رسولوں پر بھی ایمان لائیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 06)

قرآن پاک کے چھٹے پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ سورۃ النساء میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ غلط بات کو پسند نہیں کرتا‘ مگر یہ کہ اگر کوئی مظلوم شخص اپنے اوپر کیے جانے والے ظلم کیخلاف آواز اٹھائے تو اسے ایسا کرنے کی اجازت ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 05): محرماتِ قطعیہ

پانچویں پارے کے شروع میں محرماتِ قطعیہ کے تسلسل میں بتایا گیا ہے کہ جب تک کوئی عورت کسی دوسرے شخص کے نکاح میں ہے‘ اس سے نکاح حرام ہے،