پشاورزلمی اور حیدرآباد کنگز مین آج مدمقابل

تحریر : زاہداعوان


پی ایس ایل11 کا فائنل معرکہ:زلمی پانچویں مرتبہ فائنل کھیل رہی ہے،کنگزمین پہلی بار ٹرافی کی جنگ کیلئے میدان میں اترے گی:اسلام آبادیونائیٹڈ اور لاہور قلندرز تین، تین جبکہ پشاورزلمی، کراچی کنگز، ملتان سلطانز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اب تک ایک، ایک ٹائٹل اپنے نام کرچکی ہیں:بابراعظم نے پی ایس ایل میں سب سے زیادہ 4سنچریوں کاعثمان خان اور ایک سیزن میں سب سے زیادہ 588رنزکا فخرزمان کا ریکارڈ برابر کردیا

پاکستان سپر لیگ کی گیارہویں ٹرافی کافیصلہ آج قذافی سٹیڈیم لاہور میں ہوگا، جہاں پاکستان کرکٹ کے سب سے بڑے ایونٹ کا فائنل پشاور زلمی اور حیدرآباد کنگزمین کے درمیان کھیلا جائے گا۔ 

پی ایس ایل11 کے کوالیفائر میں پشاور زلمی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 70 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دی اور پانچویں مرتبہ ایونٹ کے فائنل کیلئے کوالیفائی کیا۔ کراچی میں کھیلے گئے اس اہم میچ میں پشاور زلمی نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے حریف ٹیم کو 222 رنز کا ہدف دیا، جس کے تعاقب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور پوری ٹیم 151 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ اس فتح کے ساتھ ہی پشاور زلمی پی ایس ایل کی تاریخ میں سب سے زیادہ پانچ مرتبہ فائنل میں پہنچنے والی ٹیم بن گئی۔وہ اس سے قبل 2017ء، 2018ء،2019ء اور 2021ء میں بھی فائنل تک رسائی حاصل کر چکی ہے ۔

پشاور زلمی کی اس تاریخی کامیابی میں کپتان بابر اعظم نے کلیدی کردار ادا کیا اور انفرادی طور پر کئی بڑے ریکارڈز اپنے نام کیے۔ بابر اعظم نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف 103 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی جس میں 12 دلکش چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔ یہ بابر اعظم کی رواں سیزن میں دوسری اور مجموعی طور پر پی ایس ایل کی چوتھی سنچری ہے، جس کے بعد وہ لیگ میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں حیدرآباد کنگزمین کے عثمان خان کے ساتھ مشترکہ طور پر پہلے نمبر پر آ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بابر اعظم نے ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے فخر زمان کا ایک سیزن میں سب سے زیادہ 588 رنز بنانے کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا ہے، جبکہ وہ لیگ کی تاریخ میں چار مرتبہ 500 سے زائد رنز بنانے والے واحد بلے باز بن چکے ہیں۔

لیگ کے دیگر اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو پشاور زلمی اب فائنل کھیلنے کے اعتبار سے تمام ٹیموں سے آگے نکل چکی ہے، جبکہ لاہور قلندرز، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ملتان سلطانز کو 4، 4 مرتبہ فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے۔ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فاتحین کی دوڑ میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز تین تین ٹرافیوں کے ساتھ سب سے کامیاب ٹیمیں ہیں، جبکہ پشاور زلمی ، ملتان سلطانز، کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اب تک ایک ایک بار ٹائٹل جیتا ہے۔ 

پاکستان سپر لیگ کے اب تک کھیلے گئے دس سیزن کرکٹ کے سنسنی خیز مقابلوں سے بھرپور رہے ہیں جس کا آغاز 2016ء میں ہوا جب اسلام آباد یونائیٹڈ نے فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 6 وکٹوں سے شکست دے کر پہلی فاتح ٹیم ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 2017ء میں پشاور زلمی نے لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 58 رنز سے ہرا کر ٹرافی اپنے نام کی اور 2018 میں ایک بار پھر اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو 3 وکٹوں سے پچھاڑ کر دوسری بار ٹائٹل جیتا۔2019ء میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاور زلمی کو 8 وکٹوں سے ہرا کر اپنی پہلی کامیابی سمیٹی اور 2020ء میں کراچی کنگز نے لاہور قلندرز کو 5 وکٹوں سے شکست دے کر چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا، تاہم 2021 میں ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کو 47 رنز سے ہرا کر پہلی بار ٹرافی اٹھائی جبکہ 2022ء اور 2023ء کے مسلسل دو سیزن لاہور قلندرز کے نام رہے جنہوں نے بالترتیب ملتان سلطانز کو 42 رنز اور پھر محض 1 رن کے ڈرامائی فرق سے ہرا کر ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کیا، اس کے بعد 2024ء میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ملتان سلطانز کو 2 وکٹوں سے ہرا کر تیسری بار چیمپئن بننے کا ریکارڈ بنایا اور2025ء کے دسویں سیزن میں لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف 204 رنز بنا کر 6 وکٹوں سے فتح حاصل کی اور پی ایس ایل کی تاریخ میں دوسری کامیاب ترین ٹیم بن گئی۔

 جب 2016میں پاکستان سپر لیگ کے سفر کا آغاز ہوا،تو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پہلا سیزن مکمل طور پر متحدہ عرب امارات میں کھیلا گیا اور اس کا تاریخی فائنل دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں منعقد ہوا۔ لیگ کی پاکستان واپسی کا سنگ میل 2017ء میں عبور کیا گیا، جب پی ایس ایل 2 کا فائنل لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلا گیا، جس نے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی راہ ہموار کی۔ اس کے بعد 2018ء، 2019ء اور 2020ء کے فائنل میچز مسلسل تین سال تک کراچی کے نیشنل سٹیڈیم کی زینت بنے۔سال 2021ء میں کورونا وائرس کی لہر کے باعث پی ایس ایل 6 کا بقیہ حصہ یو اے ای منتقل کرنا پڑا، جس کا فائنل ابوظہبی کے شیخ زید کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ تاہم 2022ء اور 2023ء میں یہ میلہ ایک بار پھر لاہور میں سجا اور پی ایس ایل 7 اور 8 کے فائنل میچز قذافی سٹیڈیم میں منعقد ہوئے۔ 2024ء میں پی ایس ایل 9 کا فائنل ایک بار پھر کراچی کے نیشنل بینک سٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ 2025ء میں پی ایس ایل 10 کا فائنل لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں منعقد ہوا، اور اب 2026ء میں پی ایس ایل کے 11ویں سیزن کا فائنل بھی آج قذافی سٹیڈیم، لاہور ہی میں کھیلا جائے گا۔

رواں سیزن کے پہلے ایلیمینیٹر میں حیدر آباد کنگزمین نے ملتان سلطانز کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 8 وکٹوں سے ہرا کر ایونٹ سے باہر کر دیا ہے۔ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں کنگزمین نے پہلے ملتان کو 159 رنز پر روکا اور پھر ہدف باآسانی 16ویں اوور میں حاصل کر لیا۔ پی ایس ایل 11 کے دوسرے ایلیمنیٹر میں حنین شاہ کی شاندار باؤلنگ کی بدولت حیدرآباد کنگز مین نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2 رنز سے شکست دے کر فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا۔آخری اوور میں اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیت کیلئے صرف 6 رنز درکار تھے، لیکن نوجوان فاسٹ باؤلر حنین شاہ نے بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے یونائیٹڈ کو ہدف تک نہ پہنچنے دیا اور فہیم اشرف کی اہم وکٹ بھی حاصل کی۔حیدرآباد کنگز مین نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 5 وکٹوں کے نقصان پر 186 رنز بنائے۔ جواب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم مقررہ اوورز میں 184 رنز ہی بنا سکی۔ محمد علی کے 19ویں اوور میں 22 رنز بننے کے بعد یونائیٹڈ کی جیت یقینی لگ رہی تھی، تاہم حنین شاہ کی بائولنگ اور حسن خان کی فیلڈنگ نے بازی پلٹ دی۔ 

بنگلہ دیشی فاسٹ بالر ناہید رانا نے فائنل کیلئے پشاور زلمی کو جوائن کر لیا ہے۔بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ناہید رانا کو پشاور زلمی کی جانب سے فائنل کھیلنے کیلئے خصوصی اجازت دی ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کی وجہ سے ناہید رانا وطن واپس چلے گئے تھے۔رانا کی واپسی سے زلمی کا بولنگ اٹیک ایک بار پھر مضبوط ہوگیا ہے اور آج شائقین کرکٹ کو ایک تگڑا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

پی ایس ایل 11:ریکارڈز

پی ایس ایل 11 کے رواں سیزن میں جو29مارچ کو شروع ہوا تھا میں متعدد پرانے ریکارڈز ٹوٹے اور ان کی جگہ نئے ریکارڈز بنے، جن میں سے چند ریکارڈز درج ذیل ہیں۔

شعر کہانی

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے،نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

جذبہ ایثار

عمر، عبدالمجید دونوں بہت گہرے دوست تھے۔ عمر بہت ذہین اور محنتی لڑکا تھا جبکہ عبدالمجید بہت کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والا بچہ تھا۔ ان کی دوستی بہت مشہور تھی۔

الغ بیگ کی فلکیاتی رصدگاہ

سمر قند شہر میں ایک پہاڑی کے اوپر ایک رصد گاہ بنی ہوئی ہے۔ یہ فلکیاتی رصد گاہ مرزا الغ بیگ کے نام سے منسوب ہے۔

نایاب

عام چیز ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہوتی ہے، اس لیے اس کی قدر بھی نسبتاً کم سمجھی جاتی ہے، جبکہ نایاب چیز ہر جگہ نہیں ملتی، اسی لیے وہ زیادہ اہم اور قیمتی ہوتی ہے۔

اقوال زریں

٭…سچ ہمیشہ دل کو سکون دیتا ہے، چاہے وقتی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔