الغ بیگ کی فلکیاتی رصدگاہ
سمر قند شہر میں ایک پہاڑی کے اوپر ایک رصد گاہ بنی ہوئی ہے۔ یہ فلکیاتی رصد گاہ مرزا الغ بیگ کے نام سے منسوب ہے۔
مرزا الغ بیگ شاہ رُخ کا بیٹا اور امیر تیمور کا پوتا تھا۔ الغ بیگ کواپنے دور کا ہیت دان اور ماہر علوم فلکیات مانا جاتا ہے۔ اُس نے اپنی زندگی میں سورج، چاند اور ستاروں کے راستے اور اُن کے طلوع و غروب ہونے کے مشاہدات کیے۔ اس مقصد کیلئے اُس نے سمر قند میں اسی مقام پر ایک رصد گاہ تعمیر کروائی جس کے اندر بیٹھ کروہ تجربات و مشاہدات کیا کرتا تھا۔
رصد گاہ کے نزدیک ایک گول کمرے میں ایک چھوٹا سا عجائب گھر بنا ہوا ہے۔ جس میں وہ آلات اور تصاویر محفوظ ہیں جو مشاہدات کے وقت مرزا الغ بیگ کے زیر استعمال رہے تھے۔ الغ بیگ کی وفات کے بعد اُس کے ایک شاگرد نے اپنے اُستاد کے مسودات کو اکٹھا کر کے ایک کتاب مرتب کی جس کا نام ’’نیوآسٹرولوجیکل ٹیبلز‘‘ تھا۔
فلکیاتی رصدگاہ تین منزلہ بڑی عمارت تھی۔ اُس نے اس میں ایک بہت بڑی دوربین نصب کی، جو اُس زمانے میں دُنیا میں فلکیات کا مشاہدہ کرنے والا بڑا آلہ تصور کی جاتی تھی۔ اُس کا قطر چالیس میٹر یعنی132 فٹ تھا۔
اپنے آبائواجداد کے برعکس الغ بیگ کو سیاست اور جنگ سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ مرزاالغ بیگ 1447 ء میں اس دُنیا سے رُخصت ہوا، اُس کی قبر اس کے دادا امیر تیمور کے مزار کے اندر موجود ہے۔