ذرا مسکرائیے

تحریر : روزنامہ دنیا


ایک لڑکا فیل ہو گیا اس کے باپ نے اس سے پوچھا:بیٹا! جب تم سے میں نے وعدہ کیا تھا کہ پاس ہو جاؤ گے تو میں تمھیں موٹر سائیکل لے کر دوں گا لیکن تم فیل ہو گئے ہو مجھے تم یہ تبائو کہ سارا سال کیا کرتے رہے ہو؟۔

 بیٹے نے جواب دیا: ابا جان! میں موٹر سائیکل چلانا سیکھتا رہا ہوں۔

٭٭٭

ایک صاحب کہیں تعزیت کیلئے گئے، انہوں نے مرحوم کے بیٹے سے پوچھا:  مرحوم کو کیا بیماری تھی؟۔

 بیٹے نے جواب دیا: بیماری کیا تھی بڑھاپا بذات خود ایک بیماری ہے۔

یہ سن کر ان صاحب نے رنجیدہ لہجے میں کہا: ہاں بھئی! واقعی یہ بہت خطرناک مرض ہے۔ ہمارے محلے میں بھی دو تین بچے اس بیماری سے مر چکے ہیں۔

٭٭٭

جماعت میں بہت شور ہو رہا تھا کہ ماسٹر صاحب آئے اور بولے : تم لوگوں میں شرافت نہیں ہے کیا؟

جی وہ پانی پینے گیا ہے، پیچھے سے آواز آئی۔

٭٭٭

بیٹا (باپ سے) ’’ابو میرے سینگ کیوں نہیں ہیں؟

 باپ: کیوں بیٹے؟

 بیٹا: ماسٹر صاحب کہتے ہیں تم اللہ میاں کی گائے ہو۔

٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

شعر کہانی

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے،نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

جذبہ ایثار

عمر، عبدالمجید دونوں بہت گہرے دوست تھے۔ عمر بہت ذہین اور محنتی لڑکا تھا جبکہ عبدالمجید بہت کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والا بچہ تھا۔ ان کی دوستی بہت مشہور تھی۔

الغ بیگ کی فلکیاتی رصدگاہ

سمر قند شہر میں ایک پہاڑی کے اوپر ایک رصد گاہ بنی ہوئی ہے۔ یہ فلکیاتی رصد گاہ مرزا الغ بیگ کے نام سے منسوب ہے۔

نایاب

عام چیز ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہوتی ہے، اس لیے اس کی قدر بھی نسبتاً کم سمجھی جاتی ہے، جبکہ نایاب چیز ہر جگہ نہیں ملتی، اسی لیے وہ زیادہ اہم اور قیمتی ہوتی ہے۔

اقوال زریں

٭…سچ ہمیشہ دل کو سکون دیتا ہے، چاہے وقتی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔

پہیلیاں

سر پر ڈال کر تپتی دھوپ،بیج سے نکلا فوراً پھول