پہیلیاں

تحریر : روزنامہ دنیا


سر پر ڈال کر تپتی دھوپ،بیج سے نکلا فوراً پھول

(کڑاہی میں مکئی کا دانا)

ایسا بنگلہ کوئی دکھائے

جس میں ایک جہان سمائے

(آنکھ)

آندھی ہو یا تیز ہوا

کبھی بجھے نہ ایک دیا

(چاند)

لیٹی لیٹی گھر تک آئے

گھر میں اٹھ کر آگ لگائے

(سوئی گیس)

لکڑی کی ڈبیا جب ہاتھ آئی

ڈبیا کو توڑا کھا لی مٹھائی

(بادام)

دیکھا دھاگا ریشم جیسا

لیکن ہے وہ ایسا ویسا

ہاتھ میں آ کر کھویا جائے

وہ پہنا نہ دھویا جائے

(مکڑی کا جالا)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

شعر کہانی

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے،نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

جذبہ ایثار

عمر، عبدالمجید دونوں بہت گہرے دوست تھے۔ عمر بہت ذہین اور محنتی لڑکا تھا جبکہ عبدالمجید بہت کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والا بچہ تھا۔ ان کی دوستی بہت مشہور تھی۔

الغ بیگ کی فلکیاتی رصدگاہ

سمر قند شہر میں ایک پہاڑی کے اوپر ایک رصد گاہ بنی ہوئی ہے۔ یہ فلکیاتی رصد گاہ مرزا الغ بیگ کے نام سے منسوب ہے۔

نایاب

عام چیز ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہوتی ہے، اس لیے اس کی قدر بھی نسبتاً کم سمجھی جاتی ہے، جبکہ نایاب چیز ہر جگہ نہیں ملتی، اسی لیے وہ زیادہ اہم اور قیمتی ہوتی ہے۔

اقوال زریں

٭…سچ ہمیشہ دل کو سکون دیتا ہے، چاہے وقتی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔

ذرا مسکرائیے

ایک لڑکا فیل ہو گیا اس کے باپ نے اس سے پوچھا:بیٹا! جب تم سے میں نے وعدہ کیا تھا کہ پاس ہو جاؤ گے تو میں تمھیں موٹر سائیکل لے کر دوں گا لیکن تم فیل ہو گئے ہو مجھے تم یہ تبائو کہ سارا سال کیا کرتے رہے ہو؟۔