شعر کہانی

تحریر : ملک احسن اعوان


ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے،نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

گرمیوں کی خوشگوار شام تھی۔ صحن میں پھیلی ہلکی روشنی، درختوں کے سائے اور ٹھنڈی ہوا مل کر ایک عجیب سی سکون بخش فضا بنا رہے تھے۔ تایا ابو اپنی پرانی لکڑی کی کرسی پر بیٹھے تھے۔ اسی وقت علی، سعد، حارث اور زین ان کے پاس آکر بیٹھ گئے۔ علی کے ہاتھ میں ایک کاپی تھی جس پر ایک شعر لکھا ہوا تھا ۔ 

علی نے کہا: تایا ابو! آج ہمارے استاد نے ہمیں ایک شعر دیا ہے، لیکن ہم اس کا مطلب پوری طرح سمجھ نہیں سکے۔ کیا آپ ہمیں سمجھا دیں گے؟،تایا ابو نے مسکرا کر کہا بیٹا! پہلے شعر تو سنائو!،علی نے صاف آواز میں شعرپڑھا:

 ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

 نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر 

تایا ابو کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ واہ! یہ شعر تو علا مہ اقبالؒ کا ہے۔ ایک ایسا پیغام جو آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا اُس وقت زندہ تھا جب یہ کہا گیا۔ سعد نے فوراً پوچھا: تایا ابو! اس کا کیا مطلب ہے؟

تایا ابو نے گہری سانس لی اور بولے: بیٹا، اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک ہوجائیں ، ایک جسم کی طرح، تاکہ وہ اپنے دین ، اپنی اقدار اور اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کر سکیں۔ نیل سے مراد مصر کا دریا ہے، اور کاشغر چین کا ایک علاقہ ہے ، یعنی پوری مسلم دنیا۔ 

حارث نے حیرت سے کہا: یعنی اقبالؒ چاہتے تھے کہ سب مسلمان ایک ہوجائیں؟ 

تایا ابو نے کہا: بالکل، اور صرف زبان یا قومیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ایمان، اخوت اور مشترکہ مقصد کی بنیاد پر۔ 

کچھ لمحوں کیلئے خاموشی چھا گئی۔ پھر علی نے آہستہ سے کہا: تایا ابو، کیا کبھی مسلمان واقعی ایک تھے؟

 تایا ابو کی آواز میں ایک خاص سنجیدگی آگئی: ہاں بیٹا، تاریخ میں ایسے دور بھی آئے ہیں جب مسلمان متحد تھے۔ خلافت کے زمانے میں ، جب لوگ ایک دوسرے کیلئے کھڑے ہوتے تھے، انصاف قائم تھا اور علم و تحقیق کو فروغ دیا جاتا تھا۔ 

سعد نے کہا: پھر کیا ہوا؟ ہم الگ کیوں ہو گئے؟ تایا ابو نے جواب دیا: اختلافات،ذاتی مفادات اور آپس کی نااتفاقیوں نے ہمیں کمزور کردیا۔ جب ہم نے اتحاد چھوڑا ، تو ہماری طاقت بھی کم ہو گئی۔ حارث نے افسوس سے کہا: تو کیا اب ہم کچھ نہیں کرسکتے؟

تایا ابو نے فوراً کہا: نہیں، ایسا نہیں ہے۔ ہر دور میں اُمید ہوتی ہے اور تم جیسے بچے ہی وہ اُمید ہو۔ زین نے مسکرا کر کہا: ہم ؟ہم کیسے ؟۔تایا ابو نے پیار سے کہا: تم سچ بول کر، ایک دوسرے کا خیال رکھ کر، تعلیم حاصل کر کے اور دوسروں کے ساتھ انصاف کرکے اس خواب کو زندہ رکھ سکتے ہو۔ 

علی نے اپنی کاپی میں کچھ لکھتے ہوئے کہا: تایا ابو، یہ شعر صرف مسلمانوں کیلئے ہے یا اس میں کوئی اور سبق بھی ہے؟تایا ابو نے جواب دیا : یہ شعر ہمیں اتحاد کا درس دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ہمیں ذمہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے کہ ہم اپنی اقدار کی حفاظت کریں۔ اپنے دین کو سمجھیں اور دوسروں کیلئے مثال بنیں۔ 

سعد نے پوچھا: حرم کی پاسبانی کا کیا مطلب ہے؟ کیا صرف مکہ اور مدینہ کی حفاظت؟ 

تایا ابو نے وضاحت کی: یہ صرف مکہ اور مدینہ کی بات نہیں، بلکہ ہر اُس چیز کی حفاظت ہے جو ہمارے دین اور شناخت کا حصہ ہے۔ ہماری اخلاقیات، ہمارا کردار، اور ہمارا ایمان۔ 

حارث نے آہستہ سے کہا: تایا ابو، اگر ہم سب ایک ہوجائیں تو کیا ہوگا؟،تایا ابو کی آنکھوں میں اُمید کی چمک آگئی: پھر ہم دنیا میں امن، انصاف اور ترقی کی مثال بن سکتے ہیں۔ ہم علم میں آگے بڑھ سکتے ہیںاور ایک مضبوط اُمت بن سکتے ہیں۔ 

زین نے کہا: اور اگر ہم ایک نہ ہوئے؟ تایا ابو نے گہری سانس لی: تو ہم کمزور رہیں گے، اور دوسروں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ علی نے پرجوش انداز میں کہا: تو ہمیں ایک ہونا چاہیے!،تایا ابو نے کہا: بالکل! لیکن یاد رکھو، اتحاد صرف نعروں سے نہیں آتا بلکہ عمل سے آتا ہے۔ 

سعد نے مسکرا کر کہا: تو ہم آج سے ہی شروع کرتے ہیں!سب بچے ہنس پڑے۔ کچھ دیر بعد علی نے سنجیدگی سے کہا: تایا ابو، اقبالؒ نے یہ شعر کیوں لکھا تھا؟۔تایا ابو نے آہستہ آہستہ جواب دیا: اقبالؒ نے مسلمانوں کو جگانے کیلئے یہ شعر لکھا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ہم اپنی اصل پہچان کو سمجھیں اور ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ 

حارث نے کہا: یعنی یہ صرف شاعری نہیںبلکہ ایک پیغام ہے۔ تایا ابو نے کہا: بالکل! یہ ایک خواب ہے۔ ایک ایسا خواب جو آج بھی ہمارا منتظر ہے۔ زین نے آہستہ سے کہا: تایا ابو! کیا ہم کبھی اس خواب کو پورا کرسکیں گے؟ تایا ابو نے مسکرا کر کہا: اگر نیت سچی ہو اور کوشش جاری رہے، تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔  

علی نے اپنی کاپی بند کی اور کہا: آج ہمیں ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم نے ایک نیا سبق سیکھ لیا ہو۔ صرف کتاب کا نہیں، زندگی کا۔ سعد نے بھی کہا: اور ہم یہ سبق کبھی نہیں بھولیں گے!

تایا ابو نے محبت سے سب بچوں کی طرف دیکھا: یہی تو میں چاہتا ہوں کہ تم صرف سنو نہیں، بلکہ سمجھو اور عمل بھی کرو۔ انھوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا: یااللہ! ہمیں اتحاد کی طاقت عطا فرما اور ہمیں ایک دوسرے کیلئے آسانی کا سبب بنا دے۔ 

بچے آہستہ آہستہ اٹھے اور گھروں کی طرف جانے لگے، لیکن ان کے دلوں میں ایک نیا عزم تھا۔ ایک ایسا عزم جو ایک شعر سے شروع ہوا اور ایک پوری سوچ میں بدل گیا۔ یوں تایا ابو کی اس سادہ سی بیٹھک میں ، علامہ اقبالؒ کا پیغام نہ صرف سمجھا گیا ، بلکہ محسوس بھی کیا گیا۔ ایک ایسا پیغام جو نسلوں کو جوڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

جذبہ ایثار

عمر، عبدالمجید دونوں بہت گہرے دوست تھے۔ عمر بہت ذہین اور محنتی لڑکا تھا جبکہ عبدالمجید بہت کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والا بچہ تھا۔ ان کی دوستی بہت مشہور تھی۔

الغ بیگ کی فلکیاتی رصدگاہ

سمر قند شہر میں ایک پہاڑی کے اوپر ایک رصد گاہ بنی ہوئی ہے۔ یہ فلکیاتی رصد گاہ مرزا الغ بیگ کے نام سے منسوب ہے۔

نایاب

عام چیز ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہوتی ہے، اس لیے اس کی قدر بھی نسبتاً کم سمجھی جاتی ہے، جبکہ نایاب چیز ہر جگہ نہیں ملتی، اسی لیے وہ زیادہ اہم اور قیمتی ہوتی ہے۔

اقوال زریں

٭…سچ ہمیشہ دل کو سکون دیتا ہے، چاہے وقتی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔

ذرا مسکرائیے

ایک لڑکا فیل ہو گیا اس کے باپ نے اس سے پوچھا:بیٹا! جب تم سے میں نے وعدہ کیا تھا کہ پاس ہو جاؤ گے تو میں تمھیں موٹر سائیکل لے کر دوں گا لیکن تم فیل ہو گئے ہو مجھے تم یہ تبائو کہ سارا سال کیا کرتے رہے ہو؟۔

پہیلیاں

سر پر ڈال کر تپتی دھوپ،بیج سے نکلا فوراً پھول