جذبہ ایثار

تحریر : دانیال حسن چغتائی


عمر، عبدالمجید دونوں بہت گہرے دوست تھے۔ عمر بہت ذہین اور محنتی لڑکا تھا جبکہ عبدالمجید بہت کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والا بچہ تھا۔ ان کی دوستی بہت مشہور تھی۔

 اسکول میں یہ اعلان ہوا کہ شہر کے قریب واقع بستی میں سیلاب کی وجہ سے بہت سے گھر تباہ ہو گئے ہیں اور وہاں کے بچوں کے پاس پہننے کو اچھے کپڑے اور اسکول کا سامان نہیں ہے۔ اسکول انتظامیہ نے ان کی مدد کے جذبے سے مہم شروع کی جس میں ہر طالب علم کو اپنی کوئی پسندیدہ چیز عطیہ کرنی تھی۔

ایثار کا مطلب تھا اپنی وہ چیز دینا جو آپ کو خود بہت پسند ہو۔ صحابہ کرامؓ کی مثالوں سے اساتذہ کرام نے بھی یہی ترغیب دی تھی۔ 

عمر کے پاس سائیکل خریدنے کیلئے جمع کیے گئے پیسے تھے جو اس نے پورے ایک سال کی پاکٹ منی سے بچائے تھے۔ وہ نئی سائیکل کا خواب دیکھ رہا تھا۔ عبدالمجید کے پاس سب سے قیمتی چیز ریموٹ کنٹرول جہاز تھا جو اس کے ابو نے اسے سالگرہ پر دیا تھا۔ وہ اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا تھا۔

شام کو جب وہ پارک میں ملے تو عبدالمجید تذبذب کا شکار تھا۔ عمر آہستہ سے بولا، لیکن استاد محترم نے کہا تھا کہ ایثار کا مطلب اپنی پسندیدہ چیز دینا ہے۔ کیا ہمیں ایثار کرنا آتا ہے؟ عمر کی بات سن کر عبدالمجید پر سکون ہو گیا تھا۔ 

اگلے دن عمر نے اپنا گولک نکالا جس میں اس کی نئی سائیکل کے پیسے جمع تھے۔ اس نے تھوڑی دیر اسے دیکھا، پھر مسکرا کر اسے خوبصورت کاغذ میں لپیٹ دیا۔ اس نے سوچا، میری سائیکل تو چند ماہ بعد بھی آ سکتی ہے لیکن ان بچوں کو ابھی خوراک اور دوا کی ضرورت ہے اور یہ زیادہ ضروری ہے۔ 

عبدالمجید نے اپنا ریموٹ کنٹرول جہاز نکالا۔ اس نے اسے آخری بار چلا کر دیکھا اور پھر اسے ڈبے میں بند کر دیا۔ اس نے سوچا، جب کوئی بے گھر بچہ اسے چلائے گا تو اس کے چہرے کی مسکراہٹ میرے جہاز سے زیادہ قیمتی ہوگی۔

 اگلے دن اسکول میں سامان جمع کروانے کا وقت آیا تو سب بچے پرانے کپڑے اور ٹوٹے کھلونے لا رہے تھے۔ لیکن جب عمر، عبدالمجید اسٹیج پر پہنچے تو سب حیران رہ گئے۔ 

پرنسپل صاحب نے دونوں کو اسٹیج پر بلایا اور مائیک پر کہا:بچوں! ایثار اپنی خواہش کو دوسروں کی ضرورت پر قربان کر دینے کا نام ہے۔ آج ان بچوں نے ہمیں سچا ایثار سکھایا ہے۔

کچھ دن بعد اسکول کی طرف سے بستی کے بچوں کی تصاویر دکھائی گئیں۔ ایک تصویر میں چھوٹا سا بچہ عبدالمجید کا جہاز اڑا رہا تھا اور اس کے چہرے پر جو خوشی تھی، اسے دیکھ کر عبدالمجید کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

عمر، عبدالمجید کو اس دن سمجھ آیا کہ دوسروں کی مدد کر کے جو خوشی ملتی ہے، وہ دنیا کی کسی بھی مہنگی چیز کو خرید کر حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ان کا جذبہ ایثار پورے اسکول کیلئے مثال بن گیا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

شعر کہانی

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے،نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

الغ بیگ کی فلکیاتی رصدگاہ

سمر قند شہر میں ایک پہاڑی کے اوپر ایک رصد گاہ بنی ہوئی ہے۔ یہ فلکیاتی رصد گاہ مرزا الغ بیگ کے نام سے منسوب ہے۔

نایاب

عام چیز ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہوتی ہے، اس لیے اس کی قدر بھی نسبتاً کم سمجھی جاتی ہے، جبکہ نایاب چیز ہر جگہ نہیں ملتی، اسی لیے وہ زیادہ اہم اور قیمتی ہوتی ہے۔

اقوال زریں

٭…سچ ہمیشہ دل کو سکون دیتا ہے، چاہے وقتی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔

ذرا مسکرائیے

ایک لڑکا فیل ہو گیا اس کے باپ نے اس سے پوچھا:بیٹا! جب تم سے میں نے وعدہ کیا تھا کہ پاس ہو جاؤ گے تو میں تمھیں موٹر سائیکل لے کر دوں گا لیکن تم فیل ہو گئے ہو مجھے تم یہ تبائو کہ سارا سال کیا کرتے رہے ہو؟۔

پہیلیاں

سر پر ڈال کر تپتی دھوپ،بیج سے نکلا فوراً پھول