نایاب

تحریر : روزنامہ دنیا


عام چیز ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہوتی ہے، اس لیے اس کی قدر بھی نسبتاً کم سمجھی جاتی ہے، جبکہ نایاب چیز ہر جگہ نہیں ملتی، اسی لیے وہ زیادہ اہم اور قیمتی ہوتی ہے۔

یہی اصول انسانی معاشرے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کسی فرد میں ایسی خوبی موجود ہو جو عام لوگوں میں نہ پائی جاتی ہو، تو وہ اسے دوسروں سے ممتاز بنا دیتی ہے۔

 اگر آپ معاشرے کی جاری روایتوں کے برخلاف کوئی ایسی خوبی اپناتے ہیں جو معاشرے میںناپید ہے تو پھر آپ کامیاب ہیں۔ 

تعلیم کے میدان میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔جو طالب علم نالائق ہے، وہ کتابیں نہیں کھولتا، محنت نہیں کرتا، وہ کامیاب نہیں ہوگا۔ جبکہ ایک طالب علم جو کتابیں کھولتا ہے، محنت کرتا ہے، دن رات ایک کرتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ درحقیقت، کامیابی اسی کا مقدر بنتی ہے جو خود کو نایاب بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

شعر کہانی

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے،نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

جذبہ ایثار

عمر، عبدالمجید دونوں بہت گہرے دوست تھے۔ عمر بہت ذہین اور محنتی لڑکا تھا جبکہ عبدالمجید بہت کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والا بچہ تھا۔ ان کی دوستی بہت مشہور تھی۔

الغ بیگ کی فلکیاتی رصدگاہ

سمر قند شہر میں ایک پہاڑی کے اوپر ایک رصد گاہ بنی ہوئی ہے۔ یہ فلکیاتی رصد گاہ مرزا الغ بیگ کے نام سے منسوب ہے۔

اقوال زریں

٭…سچ ہمیشہ دل کو سکون دیتا ہے، چاہے وقتی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔

ذرا مسکرائیے

ایک لڑکا فیل ہو گیا اس کے باپ نے اس سے پوچھا:بیٹا! جب تم سے میں نے وعدہ کیا تھا کہ پاس ہو جاؤ گے تو میں تمھیں موٹر سائیکل لے کر دوں گا لیکن تم فیل ہو گئے ہو مجھے تم یہ تبائو کہ سارا سال کیا کرتے رہے ہو؟۔

پہیلیاں

سر پر ڈال کر تپتی دھوپ،بیج سے نکلا فوراً پھول