نایاب
عام چیز ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہوتی ہے، اس لیے اس کی قدر بھی نسبتاً کم سمجھی جاتی ہے، جبکہ نایاب چیز ہر جگہ نہیں ملتی، اسی لیے وہ زیادہ اہم اور قیمتی ہوتی ہے۔
یہی اصول انسانی معاشرے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کسی فرد میں ایسی خوبی موجود ہو جو عام لوگوں میں نہ پائی جاتی ہو، تو وہ اسے دوسروں سے ممتاز بنا دیتی ہے۔
اگر آپ معاشرے کی جاری روایتوں کے برخلاف کوئی ایسی خوبی اپناتے ہیں جو معاشرے میںناپید ہے تو پھر آپ کامیاب ہیں۔
تعلیم کے میدان میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔جو طالب علم نالائق ہے، وہ کتابیں نہیں کھولتا، محنت نہیں کرتا، وہ کامیاب نہیں ہوگا۔ جبکہ ایک طالب علم جو کتابیں کھولتا ہے، محنت کرتا ہے، دن رات ایک کرتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ درحقیقت، کامیابی اسی کا مقدر بنتی ہے جو خود کو نایاب بنانے کی کوشش کرتا ہے۔