رفیقِ رسول کریمﷺ پر احادیث
حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ حضرت عثمانؓجب آتے تو رسول اکرمﷺ اپنے لباس مبارکہ کو ٹھیک کرلیتے تھے اور فرماتے کہ ’’میں اس سے کس طرح شرم نہ کروں جس سے فرشتے بھی شرم کرتے ہیں‘‘(صحیح مسلم:2401)۔
امام ترمذیؒ نے عبدالرحمن بن خباب ؓکی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ جیش عسرۃ کی تیاری کیلئے صحابہ کرام کو ترغیب دے رہے تھے میں بھی وہاں موجود تھا۔ حضرت عثمان ابن عفان ؓنے عرض کیا یا رسول اللہﷺ میں سو اونٹ مع پالان اور سامان اپنے ذمہ لیتا ہوں، (اللہ کیلئے سو اونٹ مع سازو سامان پیش کرتا ہوں)۔ حضور ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پھر ترغیب دی۔ حضرت عثمان ؓنے عرض کیا یارسول اللہ! میں دو سو اونٹ اور سازو سامان اپنے ذمہ لیتا ہوں۔ حضورﷺ نے پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ترغیب دی تو آپ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ !میرے ذمہ تین سو اونٹ مع پالان اور سامان کے۔ یہ سن کر رسول اللہﷺ منبر سے نیچے اترآئے اور فرمایا کہ عثمان ؓ کے جرم وگناہ ان کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔(ترمذی، المناقب، ص410، رقم370)
امام ترمذی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اکرمﷺ نے فتنوں کی بابت ارشاد فرمایا اور حضرت عثمانؓ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ ایک فتنہ میں یہ بھی مظلوم شہید ہوں گے۔ (ایضاً، رقم3708، ص 1414)
حاکم نے حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت کی ہے کہ حضرت عثمانؓ نے دو مرتبہ جنت خریدی ہے، ایک مرتبہ تو بیئررومہ خرید کر، دوسری مرتبہ جیش عسرہ کو سازو سامان فراہم کرکے۔
ابن عساکر نے ابو ہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے صحابہ میں مجھ سے مشابہ عثمان ؓ ہیں۔ طبرانی نے عصمہ بن مالک سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہﷺ کی دوسری صاحبزادی اُم کلثوم ؓ (زوجہ حضرت عثمانؓ ) کا بھی انتقال ہوگیا، تو رسول اللہﷺنے صحابہ کرام سے فرمایا کہ عثمان ؓ کا نکاح کسی سے کردو، اگر میری تیسری بیٹی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی عثمان ؓ سے کردیتا کہ میں نے ان کے نکاح پہلے بھی وحی الہٰی پرکئے تھے۔(الطبرانی فی الکبیر)
حضرت زید بن ثابتؓسے روایت ہے، کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا :کہ میرے پاس سے جب حضرت عثمان ؓ گزرے تو ایک فرشتہ میرے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس نے کہا :یہ شہید ہیں، ان کو قوم شہید کردے گی، مجھے ان سے شرم آتی ہے۔
امام حسین ؓ سے روایت ہے کہ کسی شخص نے آپؓ سے حضرت عثمان ؓکی حیا کے بارے میں دریافت کیا تو آپؓ نے فرمایا کہ اگر آپؓ کبھی نہانے کا قصد کرتے تو گھر میں کواڑ بند کرکے بھی، کپڑے اتارنے میں اس قدر شرم فرماتے تھے، کہ اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کرتے تھے۔(تاریخ الخلفاء، ص 338تا340)