پیکرِ جو دو سخا

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


اسلامی تاریخ کی بے مثال اور عہد آفرین شخصیت

رسول اللہﷺ کے تمام اصحاب پیکرِ صدق ووفا ،ہدایت کا سرچشمہ اور ظلمتوں کے اندھیرے میں روشنی کا وہ عظیم مینار ہیں،جن سے جہان ہدایت پاتاہے،وہ قیامت تک آنے والی نسلِ انسانی کیلئے پیکرِرُشدوہدایت ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ میرے ستارے ہیں،جس کی پیروی کرو گے، ہدایت پا جائو گے۔

خلیفہ سوم ، پیکر جود و سخا حضرت عثمان غنیؓ کو اللہ تعالیٰ نے عظیم صفات سے متصف فرماکر صحابہ کرامؓمیں ممتاز فرمایا،جو اُن ہی کا حصہ ہے۔ حیاکا ایساپیکر تھے کہ فرشتے بھی آپؓ سے حیا کرتے تھے۔آپؓ عشرہ مْبشرہ میں سے ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے دنیا میں جنت کی بشارت دی۔حضرت حسان بن عطیہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اے عثمان !اللہ تعالیٰ نے تمہارے اگلے اور پچھلے کام بخش دیئے اور وہ کام جو تم نے پوشیدہ کیے اورجو ظاہر کیے اوروہ جو قیامت تک ہونے والے ہیں ‘‘۔

ہر انسان فطری طور پر دولت سے محبت کرتا ہے۔ مستقبل کیلئے کچھ پس انداز کر رکھنا شرعاً درست ہے۔ صدقات و فطرات کے علاوہ اپنے مال سے انفاق فی سبیل اللہ کا بڑا اجر وثواب ہے اور جو دولت اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کی جائے ،اللہ تعالیٰ اْس کا اجر کئی سو گنا بڑھا کر عطافرماتا ہے۔سورہ بقرہ کی آیت261تا 266میںصدقہ خیرات کی ترغیب دلائی گئی ہے ،ایک جگہ ارشاد فرمایا: ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی طرح ہے ،جس نے سات ایسے خوشے اُگائے کہ ہر خوشے میں سودانے ہیں اوراللہ جس کیلئے چاہے ان کو دگنا کردیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا بہت علم والا ہے ،(البقرہ:261)‘‘۔

صحابہ کرام کی زندگیاں صدق واخلاص، وفاشعاری وجاں نثاری کا عملی اظہار ہیں۔حضرت سیدنا صدیق اکبرؓاپنا تمام مال راہِ خدا میں لٹادیتے ہیں اور اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی رضا کو اپنی متاعِ حیات کا بیش بہا خزانہ بنالیتے ہیں۔یہی جذبہ حضرت عمر فاروق وحضرت علی رضی اللہ عنہما کی زندگی میں نظر آتاہے لیکن حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہرمشکل موقع پر اسلام اور عظمتِ اسلام کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرتے نظرآتے ہیں۔

حضرت عثمان بن عفانؓکو ان کی بے مثال سخاوت، فیاضی اور خدمتِ خلق کے باعث پیکرِ جود و سخا کہا جاتا ہے۔ آپؓ نے اپنی دولت اور وسائل کو ہمیشہ دین اسلام کی سربلندی، مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ضرورت مندوں کی مدد کیلئے وقف رکھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امتِ مسلمہ کو مالی مشکلات کا سامنا ہوا، حضرت عثمان غنیؓ نے فراخ دلی کا ایسا مظاہرہ کیا جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ آپؓ کا کردار اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ مال و دولت کی اصل قدر اس وقت ہے جب اسے انسانیت کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے خرچ کیا جائے۔

جنگ تبوک کے موقع پر حضور اقدس ﷺ  نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو اس جنگ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب فرمائی۔ اس موقع پر صدق و وفا کے پیکر خلیفہ اوّل سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے گھر کا تمام سامان اور مال و اسباب اور خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروقؓ نے نصف مال لاکر حضور اقدس ﷺ کے قدموں میں نچھاور کر دیا۔ ایک روایت کے مطابق اس موقع پر سیدنا حضرت عثمان غنیؓ نے ایک ہزار اونٹ ، ستر گھوڑے اور ایک ہزار اشرفیاں جنگ تبوک کیلئے اللہ کے راستہ میں دیں۔ حضور اقدس ﷺ منبر مبارک سے نیچے تشریف لائے اور حضرت عثمان غنیؓ کی سخاوت سے اس قدر خوش تھے کہ آپ ﷺاپنے دست مبارک سے اشرفیوں کو الٹ پلٹ کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ’’ماضرّ عثمان ما عمل بعد ہذا الیوم‘‘  آج کے بعد عثمانؓ کا کوئی کام اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔

ہر جمعۃ المبارک کو حضرت عثمانؓ غلام آزاد کرتے۔ ایک مرتبہ سخت قحط پڑا تمام لوگ پریشان تھے اسی دوران حضرت عثمان غنیؓ کے ایک ہزار اونٹ غلے سے لدے ہوئے آئے تو مدینہ کے تمام تاجر جمع ہوگئے۔ تاجروں نے کئی گناہ زائد قیمت پر اس غلے کو خریدنے کی کوشش کی لیکن آپؓ نے فرمایا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ نفع ملتا ہے۔ تم سب لوگوں کو گواہ کرتا ہوں کہ میںنے یہ سب غلہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں فقرا مدینہ کو دے دیا۔

جب حضور اقدسﷺ مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم کو میٹھے پانی کیلئے بڑی دقّت و تکلیف تھی، صرف ایک میٹھے پانی کا کنواں تھا جس کا نام بیئر رومہ تھا جو ایک یہودی کی ملکیت میں تھا۔ وہ یہودی جس قیمت پر چاہتا مہنگے داموں پانی فروخت کرتا۔ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس کنویں کو خرید کر اللہ کے راستہ میں وقف کر دے اس کیلئے جنت کی بشارت و خوشخبری ہے ۔ سیدنا حضرت عثمان غنیؓ نے اس کنویں کو خرید کر وقف کر دیا ۔

 حضرت عثمانؓ اکابر صحابہ میں شمار کیے جاتے ہیں۔ علامہ ذہبی نے لکھا ہے کہ حضرت عثمانؓ کے مرتبہ و مقام اور جلالت شان کا اندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اس کو دیکھتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح سخاوت کا مظاہرہ کیا، وقت کی اہم ضرورت کا احساس کرکے جمع قرآن کا حکم دیا اور حضرت عثمانؓ ان سب لوگوں میں افضل تھے جنہوں نے قرآن نبی کریم ﷺسے پڑھا تھا۔ حضرت عثمانؓ میں دو صفتیں ایسی تھیں جو انہیں افضل بناتی ہیں۔ ایک ان کا کام جس کا انجام شہادت ہوا اور دوسری صفت پوری امت کو ایک قرآن پر جمع کردینا۔آپؓ کی شہادت 18ذی الحجہ سن35ھ میں ہوئی۔ یہ جمعہ کے دن عصر کا وقت تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

جامع القرآن ،پیکر تسلیم و رضا،خلیفہ سوم، ذوالنورین شہادتِ حضرت سیدنا عثمان غنی ؓ

قرآن مجید کی اشاعت اور ایک ہی قرات پر عالمِ اسلام کو متفق کر نا آپؓ کا عظیم کارنامہ ہے

سَیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ:بے پناہ خوبیوں کے مالک جلیل القدر صحابی ؓ

سیدنا عثمان غنی ؓ کو حضور اکرمﷺ نے کئی بار جنت کی بشارت و خوشخبری دی اور آپؓ کو ’’عشرہ مبشرہ‘‘ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی شامل ہونے کی سعادت حاصل ہے۔

رفیقِ رسول کریمﷺ پر احادیث

حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ حضرت عثمانؓجب آتے تو رسول اکرمﷺ اپنے لباس مبارکہ کو ٹھیک کرلیتے تھے اور فرماتے کہ ’’میں اس سے کس طرح شرم نہ کروں جس سے فرشتے بھی شرم کرتے ہیں‘‘(صحیح مسلم:2401)۔

بچوں کی تربیت میں ماں کا کردار: جدید دور کے چیلنجز

بچوں کی شخصیت سازی اور تربیت میں ماں کا کردار بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔

چٹنی …ذائقے اور صحت کا خزانہ

چٹنی ہمارے کھانوں کا ایک اہم جزو ہے جو کھانے کے ذائقے، خوشبو اور غذائی افادیت میں اضافہ کرتی ہے۔

آج کا پکوان:بیف نہاری

اجزا:بیٖف:دو کلو، گرم مصالحہ پاؤڈر: دو چمچ، سرخ مرچ پاؤڈر: تین چمچ، دھنیا پاؤڈر: دو کھانے کے چمچ،ادرک ڈیڑھ کھانے کا چمچ،لہسن :ڈیڑھ کھانے کا چمچ،