سَیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ:بے پناہ خوبیوں کے مالک جلیل القدر صحابی ؓ
سیدنا عثمان غنی ؓ کو حضور اکرمﷺ نے کئی بار جنت کی بشارت و خوشخبری دی اور آپؓ کو ’’عشرہ مبشرہ‘‘ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی شامل ہونے کی سعادت حاصل ہے۔
نبی کریمﷺ کی دو بیٹیوں حضرت سیدہ رقیہؓ اور حضرت سیدہ ام کلثوم ؓ کے ساتھ نکاح کی وجہ سے آپ ؓ کو ’’ذوالنورین‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔اسلام کی خاطر دو مرتبہ ہجرت کرنے کی وجہ سے آپؓ کا لقب ’’ذوالہجرتین‘‘ بھی ہے۔
آپ ؓ نے خلیفہ اوّل سیدنا صدیق اکبر ؓ کی دعوت پر اسلام قبول کرتے ہوئے خود کو نورِایمان سے منور کیا۔ طبقات ابن سعد کے مطابق آپؓ اسلام قبول کرنے والوں میں چوتھے نمبر پر ہیں، جس کی وجہ سے آپ ؓ ’’السابقون الاوّلون‘‘ کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔ آپ ؓ حافظ قرآن، جامع القرآن اور ناشر القرآن بھی ہیں۔ ایک موقع پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ایک ساتھی و رفیق ہوتا ہے میرا ساتھی جنت میں عثمان غنیؓ ہوگا۔
امام مسلمؒ اور امام بخاری ؒ نے ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت کی ہے کہ جب حضرت عثمان غنی ؓ ہمارے پاس آتے تو حضور اکرمﷺاپنا لباس درست فرمالیتے اور فرماتے تھے کہ میں اس (عثمان غنیؓ) سے کس طرح حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں ۔
شروع ہی سے بڑے پیمانے پر تجارت کی بدولت آپ ؓ کا شمار صاحب ثروت لوگوں میں ہوتا تھا، آپ ؓ عمدہ لباس اور لذیذ و نفیس غذاؤں کے عادی تھے لیکن اس سب کے باوجود آپؓ کی طرزِ زندگی سادگی سے عبارت تھی، رہن سہن ، اخلاق واطوار اور کردار میں آپ ؓ کا ہر کام سنت نبویؐ سے ہی آراستہ و مزین ہوتا، ایک مرتبہ وضو سے فارغ ہوکر مسکرائے تو لوگوں نے اس موقع پر مسکراہٹ کی وجہ پوچھی تو آپؓ نے فرمایا کہ میں نے حضور اکرمﷺ کو وضو کے بعد اسی طرح مسکراتے ہوئے دیکھا ہے۔
امامِ ترمذی، ؒ حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ بیعت رضوان کے موقع پر سیدنا عثمان غنیؓ، حضور اقدس ﷺ کی طرف سے سفیر بن کر مکہ گئے تھے کہ خبر مشہور ہوگئی کہ سیدنا حضرت عثمان غنیؓ شہید کر دیئے گئے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ کون ہے جو حضرت عثمان غنیؓ کا بدلہ لینے کیلئے میرے ہاتھ پر بیعت کرے گا۔ اس وقت تقریباً چودہ سو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت عثمان غنیؓ کے خون کا بدلہ لینے کیلئے حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ مبارک پرموت کی بیعت کی۔ اس موقع پر حضور اقدس ﷺنے اپنا ایک ہاتھ حضرت عثمان غنیؓ کا ہاتھ قرار دیتے ہوئے دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا کہ یہ بیعت عثمانؓ کی طرف سے ہے۔ اس بیعت کا نام بیعت رضوان اوربیعت شجرہ ہے۔
حضرت سیدہ رقیہؓ کی وفات کے بعد حضور اکرمﷺ نے اپنی دوسری بیٹی حضرت سیدہ امّ کلثوم ؓ کا نکاح بھی سیدنا عثمان غنیؓ سے کر دیا اس موقعہ پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جبرائیل امین علیہ السلام ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ میں اپنی دوسری بیٹی (ام کلثومؓ) کا نکاح بھی آپؓ (عثمانؓ) سے کردوں۔
حضرت سعید ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدسﷺ کو دیکھا کہ اوّل شب سے طلوع فجر تک ہاتھ اٹھا کر سیدنا حضرت عثمان غنیؓ کیلئے دُعا فرماتے رہے۔ آپﷺفرماتے تھے! اے اللہ میں عثمانؓ سے راضی ہوں تو بھی راضی ہو جا۔ایک روایت میں ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ ! اے عثمان اللہ تعالیٰ نے تیرے تمام گناہ معاف کر دیئے ہیں جو تجھ سے ہوچکے یا قیامت تک ہوںگے۔
سیدنا حضرت عثمان غنیؓ ایک مدت تک کتابت وحی جیسے جلیل القدر منصب پر بھی فائز رہے۔ اس کے علاوہ حضور اقدس ﷺکے خطوط وغیرہ بھی لکھا کرتے تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ کی یہ حالت تھی کہ رات کو بہت تھوڑی دیر کیلئے سوتے تھے اور تقریباً تمام رات نماز وعبادت میں مصروف رہتے۔ آپؓ ’’صائم الدہر‘‘ تھے، سوائے ایام ممنوعہ کے کسی دن روزہ کا ناغہ نہ ہوتا تھا۔ جس روز آپؓ شہید ہوئے اس دن بھی آپؓ روزہ سے تھے۔
خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ قاتلانہ حملہ میں شدید زخمی ہونے کے بعدجب دنیا سے رخصت ہونے لگے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے ان سے درخواست کی کہ آپؓ اپنا جانشین و خلیفہ مقرر فرمادیں۔ سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ نے ’’عشرہ مبشرہ‘‘ صحابہ کرام ؓ میں سے چھ نامور شخصیات ، حضرت عثمان غنی ؓ ، حضرت علی المرتضیٰؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، حضرت طلحہؓ ، حضرت زبیر ؓ اور حضرت سعید بن زیدؓ کو نامزد کر کے خلیفہ کے انتخاب کا حکم دیا۔ بالآخر حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے حضرت عثمان غنیؓ کو خلیفہ نامزد کیا۔
سیدناحضرت عثمان غنیؓ نے 24ھ میں نظام خلافت کو سنبھالا اور خلیفہ مقر ر ہوئے۔شر وع میں آپؓ نے22لاکھ مربع میل پر حکومت کی۔ اس میں سے بیشتر ممالک فتح ہوچکے تھے لیکن ابھی یہاں مسلمان مستحکم نہیں ہوئے تھے۔
خلیفہ سوم سیدنا عثمان غنی کو مصر کے بلوائی شہید کرنے کے در پے تھے اور تقریباً ساڑھے سات سو بلوائیوں نے ایک خط کا بہانہ بنا کر ملک میں بد امنی پیداکی۔ مدینہ منورہ میں بلوائیوں نے بغاوت کا ایک ایسا وقت طے کیا کہ جب مدینہ منورہ کے تمام لوگ حج پر گئے ہوں تاکہ ایسے وقت میں امیر المؤمنین سیدنا حضرت عثمان غنیؓ کو خلافت سے دستبرار کر واکر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے اسلام کی پر شکوہ ’’قصرِ خلافت‘‘ کو مسمار کرتے ہوئے ، حضور اقدسﷺکے شہر کو آگ و خون میں مبتلا کر کے اسلام کی مرکز یت کو پارہ پارہ کر دیا جائے۔ اس دوران سیدناحضرت علی المرتضیٰؓ اور دیگر صحابہ کرام ؓ نے باغیوں کا سر کاٹنے کی اجازت چاہی تو آپؓ نے اجازت دینے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ ! مجھ سے یہ نہ ہوگا کہ حضورﷺکا خلیفہ ہوں اور خود ہی آپ ﷺ کی امت کا خون بہاؤں۔
18ذوالحجہ کو چالیس روز سے بھوکے پیائے 82 سالہ مظلوم مدینہ خلیفہ سوم سیدنا عثمان غنی ؓ کو جمعۃالمبارک کے روز ، قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے روزہ کی حالت میں انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔ سیدنا حضرت عثمان غنی ؓ نے12 دن کم 12سال تک 44 لاکھ مربع میل کے وسیع و عریض خطہ پر اسلامی سلطنت قائم کرنے اور نظام خلافت کو چلانے کے بعد جام شہادت نوش کیا ۔