27جولائی کے انتخابات پُرامن ہوں گے؟
آزاد جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے۔ یہ انتخابات آزاد جموں و کشمیر کے 33 اور مہاجرین مقبوضہ کشمیر مقیم پاکستان کی 12 نشستوں پر ہوں گے۔
انتخابات کی پولنگ فوج کی نگرانی میں ہوگی۔ الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل نے الیکشن کے حوالے سے حکومت آزاد جموں وکشمیر کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات کے بر وقت انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت اب 75کروڑ روپے جاری کر چکی ہے، مزید فنڈز بھی فراہم کئے جائیں گے۔ آزاد جموں و کشمیر میں 2021ء میں 29 لاکھ رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا اور گزشتہ پانچ سال کے دوران پانچ لاکھ نوجوانوں کے ووٹ درج ہوئے ہیں جو27 جولائی کوپہلی بار اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ مجموعی طور پر 34 لاکھ ووٹرز انتخابات میں 45 ارکانِ قانون ساز اسمبلی کو منتخب کریں گے۔ آزاد جموں و کشمیر میں پانچ انتخابی حلقے، چڑھوئی، نکیال، بھمبر، پلندری اور کھاوڑہ حساس ترین سمجھے جاتے ہیں۔ ان حلقوں میں فوج کی تعیناتی ضروری ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں کل نو سیاسی جماعتیں حصہ لیں گی جبکہ پاکستان تحریک انصاف رجسٹریشن نہ ہونے کے باعث ان انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گی۔تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
ادھر پانچ جون کو آزاد جموں و کشمیر حکومت نے مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت کالعدم قراردے دیا۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر میں دہشت گردی، افراتفری، نفرت، شر انگیزی اور امن و امان کے علاوہ معاشرتی انتشار کا سبب بن رہی ہے۔ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کے بعد حکومت نے کمیٹی کے دو کور ممبران، انجم زمان اعوان اور راجہ صہیب سمیت سو سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے دس اضلاع میں ان کے تین سو سے زائد متحرک کارکنوں کی فہرستیں مرتب کی گئی ہیں۔ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کے بعد اتوار کے روز پولیس اور عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان راولاکوٹ میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم چار پولیس اہلکار شہیدجبکہ 20 زخمی ہو گئے۔
آزاد جموں و کشمیر کے دار الحکومت مظفر آباد میں آٹھ جون تک حالات پرُ امن رہے۔ کاروباری مراکز اور سرکاری دفاتر میں حاضری معمول کے مطابق رہی اور عدالتیں بھی کھلی تھیں تاہم پانچ جون سے علاقے میں انٹرنیٹ بند ہے اور ایف سی اور رینجرز کو قانون ساز اسمبلی، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، وزیر اعظم ہاؤس اور سول سیکرٹریٹ سمیت اہم عمارتوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ ادھرمیرپور ڈویژن میں بھی حالات پرُ امن رہے تاہم راولاکوٹ میں سوموار کو بھی ہڑتال رہی۔ پیپلزپارٹی اور وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور آزاد جموں وکشمیر میں حالات کو بر وقت سنجیدہ لیتے تو شاید معاملات یہاں تک نہ پہنچتے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کی بارہ نشستوں کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کل جماعتی کانفرنس کی تجویز دی تھی جس میں آزاد جموں و کشمیر کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے شرکت کی اور ان نشستوں کی حمایت کی جس آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے قرار داد کے ذریعے توثیق بھی کر دی۔
مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر مقیم پاکستان کی بارہ نشستوں کے حوالے سے حکومت آزاد جموں و کشمیر نے سپریم کورٹ میں ریفرنس جمع کرایا اور اس ریفرنس کی سماعت آزاد جموں و کشمیر کے چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور جسٹس خالد یوسف نے کی۔ سماعت سے قبل چیف جسٹس نے اس ریفرنس پر شہریوں سے بھی رائے طلب کی اور پندرہ سے زائد اہم شخصیات بشمول سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر، چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی عبد الماجد خان، چیئرمین جموں و کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس ڈاکٹر سید نذیر گیلانی، سابق ایڈ یشنل چیف سیکرٹری جنرل و سیکرٹری قانون فر حت علی میر اور دیگر وکلا نے مہاجرین کی بارہ نشستوں کے حق میں رائے دی۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے سماعت کے بعد بند لفافے میں فیصلہ حکومت کو بھیج دیا۔ سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا کہ بارہ نشستوں کا معاملہ ایک آئینی معاملہ ہے اور اسے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی آئین کے ذریعے حل کیا جائے۔ آزاد جموں وکشمیر کے آئین میں 13 ویں ترمیم کے ذریعے نہ صرف مہاجرین کی بارہ بلکہ آزاد جموں و کشمیر کی 33 اسمبلی نشستوں کو بھی تحفظ دیا گیا ہے۔ قانون ساز اسمبلی کی نشستوں میں کمی آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں منتخب عوامی نمائندے ہی کر سکتے ہیں نہ کہ کوئی عدالت۔اس وقت آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان کو یقینی بنانے کا واحد حل 27 جولائی کے انتخابات کا پر امن انعقاد اور اقتدار کی پر امن منتقلی ہے، جس میں تاخیر سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ آزاد کشمیر کے سیاسی مسائل کا سیاسی حل تلا ش کرنے کی کوشش کی جائے اور جہاں تک ممکن ہو طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ انتخابات سے ایک ماہ پہلے ریاست میں کشیدگی کسی طرح بھی سیاسی اور انتخابی عمل کے حق میں نہیں۔