بجٹ سے پہلے سیاسی ہلچل
سہیل آفریدی کو اندرونی محاذ پر بڑا چیلنج
بجٹ سے کچھ روز پہلے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے کابینہ میں توسیع کے بعد اس بات کا اندازہ تھا کہ اس موقع پر کابینہ میں توسیع کی صورت میں پارٹی میں اختلافات پیدا ہوں گے۔ اس کابینہ کی تشکیل میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے زیادہ ان طاقتورگروپوں کاہاتھ ہے جو کسی بھی وزیراعلیٰ کو آزادانہ کام کرنے نہیں دیتے۔سہیل آفریدی کو یہ ثابت کرنے کے لیے کہ پارٹی اور اراکین اسمبلی ان کے ساتھ ہیں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلانا پڑا تاکہ اپنی اکثریت ثابت کرسکیں۔ انہوں نے اپنی اکثریت تو ثابت کردی مگر پارٹی اختلافات بھی ڈھکے چھپے نہیں رہے اور یہ بھی ثابت ہوگیا کہ پچیس سے تیس اراکین اسمبلی وزیراعلیٰ سے ناراض ہیں۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے قبل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے وٹس ایپ گروپ میں بھیجے گئے پیغا م میں انہوں نے کہا تھا کہ کچھ عناصرپارلیمانی اجلاس ناکام بنانا چاہتے ہیں اور’’ اندرونی جرنیل ‘‘نے بانی پی ٹی آئی کی حکومت کو گرانے کا وعدہ کیا ہے جس کامبینہ طورپر علی امین گنڈاپور نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔علی امین گنڈاپور کو جس طریقے سے ہٹایاگیا وہ اس پر خوش نہیں۔ان کے ساتھ اراکین اسمبلی کا ایک گروپ ہے۔ اس گروپ نے گزشتہ دنوں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی۔ہزارہ سے تعلق رکھنے والے چند ایم اپی ایز بھی اجلاس سے غیر حاضر رہے اور اب تو ہزارہ سے تعلق رکھنے والے سیاستدان مشتاق غنی اورپشاور سے منتخب ہونے والے ایم پی اے فضل الٰہی بھی کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ناراض اراکین کا کہناہے کہ و ہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا واضح لائحہ عمل نہ دئیے جانے تک اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ان اراکین کا تعلق پشاور سمیت جنوبی اضلاع اور ہزارہ سے ہے۔
سیاسی دانشمندی کا تقاضا یہی تھا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی بجٹ کے بعد کابینہ میں توسیع کرتے۔اب پارٹی میں جس قسم کے اختلافات ہیں ان کے لیے بجٹ کو اسمبلی سے منظور کروانا مشکل ہوسکتا ہے۔اس صورتحال سے پارٹی کی پوزیشن مزید کمزور ہوگی تودوسری جانب حکومتی معاملات پر گرفت کی کمزوری کا جو تاثر دیا جارہاتھا وہ بھی درست ثابت ہوا ہے۔اس کا فائدہ علی امین گنڈاپور گروپ کو ہوا ہے جومزید مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے اورپارٹی میں اختلافات مزید وسیع گئے ہیں۔پارٹی قیادت کمزور ہے یا وہ اس معاملے میں پڑنا ہی نہیں چاہتی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ پارٹی چیئرمین یا صوبائی صدر کی جانب سے اس معاملے کو سلجھایاجاتا لیکن ایسا نہیں کیاگیاکیونکہ پارٹی کی صوبائی قیادت خود بھی ایک فریق ہے۔ بیرسٹر گوہر چیئرمین ہیں لیکن وہ بھی بیشتر معاملات میں بے بس نظر آتے ہیں اور پارٹی میں کوئی ایسی شخصیت نظر نہیں آتی جو علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کے اختلافات دور کر سکے۔ ان اختلافات سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا معاملہ بھی پسِ پشت چلا گیا ہے۔ سہیل آفریدی اپنی حکومت بچانے میں مصروف ہیں اور ان کے پارٹی کے اندر مخالفین انہیں گرانے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں۔تاہم فی الوقت اپوزیشن جماعتوں کے لیے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت زیادہ بہتر ہے۔
سہیل آفریدی کے لیے اب دو بڑے چیلنجز ہیں۔ ایک بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے معاملے پر ورکرز کو مطمئن کرنا۔دوسرا ایسا بجٹ پیش کرنا جس سے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بجٹ پاس کروانے میں کامیاب ہوجائیں گے، اگر کوئی ان کی مخالفت کرتا ہے تو قانونی مسائل سے قطع نظر ورکرز کی جانب سے بھی انہیں سخت ردعمل کاسامنا کرناپڑسکتا ہے۔بالفرض بجٹ منظور نہ کرواسکے تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کوایوان سے اعتماد کا ووٹ لینا ہوگا۔
اس دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک بھرپور سیاسی چال چلی ہے۔ ایک طرف وہ گورنر فیصل کریم کنڈی سے تعلقات مضبوط کررہے ہیں تو دوسری طرف انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے نہ صرف ملاقات کی ہے بلکہ ان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی ہے۔اس سے قبل بھی پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے مابین مشترکہ جدوجہد کے لیے مذاکرات کے کئی دور ہوئے لیکن اس وقت کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی وجہ سے یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور، فیصل کریم کنڈی اور مولانافضل الرحمان کا حلقہ ایک ہی ہے اور وہ ایک دوسرے کے سیاسی حریف ہیں۔ انتخابات میں علی امین گنڈاپور نے ہر دو اشخاص کو شکست دی تھی۔سہیل آفریدی گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمان کے پاس پہنچے اور مختلف ایشوز پر بات چیت کی جس میں صوبائی حقوق،قبائلی اضلاع اور دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔اگرچہ دونوں رہنماؤں نے کھل کر بات نہیں کی لیکن مولانا فضل الرحمان نے معنی خیزمسکراہٹ کے ساتھ اشارتا ًکہہ دیا کہ بہت سے امور پربات ہوئی ہے لیکن شاید وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وقت کی کمی کے باعث ان کا ذکر مختصر کردیا ہے۔دونوں رہنماؤں کے مابین یہ ملاقات انتہائی اہم پیشرفت سمجھی جارہی ہے جس کا فائدہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بجٹ کی منظوری کے دوران بھی مل سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج پر بھی برہم نظرآتے ہیں۔
یوں تو پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے مابین کوئی اتحاد بننا فی الوقت قرین قیاس نظ نہیں آتا لیکن سیاست میں کوئی بھی بات حرف آخر نہیں ہوتی۔پی ٹی آئی کے اس وقت پیپلزپاٹی سے بھی اچھے تعلقات ہیں اور گورنر فیصل کریم کنڈی اس میں پل کا کردار اداکررہے ہیں۔ادھر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی وفاقی وزیرمحسن نقوی سے ملاقات بھی ان کے گلے پڑ ی ہوئی ہے اورکارکن اس پر ناراض نظرآتے ہیں۔ پارٹی کے بیشتر قائدین بھی اس ملاقات پر خوش نہیں جس پر انہیں اعتماد میں نہیں لیاگیا۔اس ملاقات کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے زیادہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بقا کے لیے ضروری قراردیاگیا ہے۔مخالفین کی جانب سے نقطہ اٹھایاگیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے یہ ملاقات اپنی کرسی بچانے کے لیے کی ہے۔ حالانکہ دیکھا جائے تو اس سے قبل سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بھی ایسی ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں، تاہم ان کی پارٹی کے معاملات پر گرفت مضبوط تھی اور وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا جواب دینا جانتے تھے۔
موجودہ حالات میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ناراض ارکان کو منانے کے لیے کچھ نہ کچھ رکھنا ہوگا، جس کاانہوں نے اشارتا ًذکر بھی کیا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ اپنے پیشروؤں کی طرح کیا وہ پارٹی کے اندر اپنے خلاف جذبات سے نمٹ پاتے ہیں یا پھر سوات سے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کی بات درست ثابت ہوتی ہے۔