بلوچستان: بدامنی اوربے بسی

تحریر : عرفان سعید


بلوچستان ایک بار پھر ایسے المناک واقعات کی زد میں ہے جنہوں نے صوبے بلکہ پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

 ایک طرف کوئٹہ کے سول ہسپتال میں دورانِ ڈیوٹی ایک لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینک کر انسانیت کو شرمسار کیا گیا، دوسری طرف وحدت کالونی میں ایک باپ نے اپنے چار بچوں اور بیوی کو قتل کرنے کے بعد اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کر لیا۔ ادھر آل بلوچستان گرینڈ ٹرانسپورٹرز اتحاد کے رہنما، آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی، پنجاب، خیبرپختونخوا بس یونین، آل بلوچستان بس یونین کے عہدیداروں نے صوبے میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا۔پشین میں ترقیاتی منصوبے پر حملہ، قلات میں دہشت گردی کی کوشش، مستونگ میں آئل ٹینکر پر فائرنگ اور صوبے بھر میں بڑھتی ہوئی بے چینی اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کر رہی ہے کہ بلوچستان محض چند الگ الگ واقعات کا شکار نہیں بلکہ ایک گہرے سماجی، انتظامی، نفسیاتی اور سکیورٹی بحران سے گزر رہا ہے۔واقعات محض خبریں نہیں ہیں یہ ایک پورے معاشرے کی چیخ ہیں۔ یہ سوال ہیں جو حکومت، ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور ہم سب کے سامنے کھڑے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہم صرف سانحات کے بعد مذمتی بیانات جاری کرتے رہیں گے؟

کب تک مجرموں کے مارے جانے، کمیٹیوں کے بننے اور تحقیقات کے اعلانات کو کامیابی قرار دیا جاتا رہے گا؟ اور کب وہ وقت آئے گا جب ایسے سانحات کو جنم دینے والے اسباب کا خاتمہ کیا جائے گا؟خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کا واقعہ معاشرے کی اجتماعی اخلاقیات پر حملہ ہے۔ یہ امر قابلِ تحسین ہے کہ حکومت بلوچستان نے فوری طور پر متاثرہ ڈاکٹر کو کراچی منتقل کیا، علاج کی ذمہ داری قبول کی اور پولیس کی تیز رفتار کارروائی بھی اپنی جگہ اہم ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف فوری ردعمل کافی ہے؟ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ملزم پکڑا گیا یا مارا گیا، اصل سوال یہ ہے کہ ایک شخص اس حد تک کیسے پہنچا کہ اس نے ایک ڈاکٹر پر تیزاب پھینک دیا؟ ہماری تعلیمی، سماجی اور قانونی ساخت میں وہ کون سی کمزوریاں ہیں جو ایسے جرائم کو جنم دیتی ہیں؟ جب تک ان سوالات کے جواب تلاش نہیں کیے جاتے، تب تک ہر کارروائی محض وقتی ردعمل رہے گی۔قومی اسمبلی میں تیزاب گردی کے مجرموں کے لیے سزائے موت کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس پر قانونی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں بحث ہوسکتی ہے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ صورتحال مزید سخت اور مؤ ثر اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ ریاست کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ خواتین کی عزت، سلامتی اور وقار پر حملہ ناقابلِ برداشت جرم ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ کے علاقے وحدت کالونی میں ایک شخص نے فائرنگ کر کے چاربچوں اور بیوی کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار لی۔ اس واقعے کے ذمہ دار متوفی آصف خان کی خودکشی سے قبل سامنے آنے والے ویڈیو اور آڈیو پیغامات نے کیس کی نوعیت کو سنگین بنا دیا ہے۔ ان پیغامات میں متوفی نے بعض افراد کی جانب سے دھمکیوں، ہراسانی اور دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے تحفظ کی اپیل کی تھی۔متوفی کے بھائی ظریف خان گورگیج کے مطابق خودکشی سے قبل آصف نے ویڈیو اور متعدد وائس پیغامات اپنے رشتہ داروں کو بھیجے جن میں اس نے مبینہ طور پر بعض سرکاری افسران کی جانب سے ہراسانی، بلیک میلنگ اور سنگین دھمکیوں کا ذکر کیاتھا۔ دلخراش واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں وزیراعلیٰ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان افسران کو فوری طور نوکریوں سے سبکدوش کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کے نہ صرف احکامات جاری کئے بلکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

بلوچستان میں تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز اور سیاسی رہنماؤ ں کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اور احتجاجی لائحہ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبہ اس وقت شدید معاشی، انتظامی اور سماجی دباؤ کا شکار ہے۔ آل بلوچستان گرینڈ ٹرانسپورٹرز اتحاد، آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی، پنجاب خیبرپختونخوا بس یونین اور آل بلوچستان بس یونین کے رہنماؤں نے صوبہ بھر میں 11 جون (آج) سے غیر معینہ مدت کی پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ کاروباری طبقہ طویل عرصے سے غیر یقینی صورتحال، مالی دباؤ اور انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے جبکہ ان کے پانچ نکاتی مطالبات پر حکومت کی جانب سے عملی پیش رفت نہ ہونے کے باعث صورتحال احتجاج تک پہنچ چکی ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ اداروں نے کاروباری برادری کے مطالبات تسلیم کر کے ان پر عملدرآمد کی یقین دہانی نہ کرائی تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔ ان کے مطابق بلوچستان میں ٹرانسپورٹ، تجارت اور معدنیات کا شعبہ مسلسل زوال کا شکار ہے، جس کے اثرات نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ لاکھوں روزگار سے وابستہ افراد پر بھی پڑ رہے ہیں۔

اس حوالے سے سابق سینیٹر اور سینئر سیاستدان نوابزادہ لشکری رئیسانی نے بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ اس وقت بدترین حالات سے گزر رہا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر پیش آنے والے واقعات نے عوام کو ذہنی اور معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق بعض عناصر جان بوجھ کر بلوچستان میں بدامنی اور افرا تفری کا ماحول پیدا کر رہے ہیں تاکہ یہاں کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے کو کمزور کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں، وکلا، اساتذہ، ٹریڈ یونینز، تاجروں، چیمبر آف کامرس، مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو کر قومی مسائل پر بات کرنی چاہیے۔ صوبے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، بارڈرز کی بندش، تجارت میں رکاوٹیں اور معدنی شعبے کی زبوں حالی نے معاشی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ کوئلہ کانوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے مقامی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

ایک طرف ٹرانسپورٹرز اور کاروباری رہنما اپنے معاشی حقوق اور تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلنے کو تیار ہیں تو دوسری طرف سیاسی رہنما صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی، بے روزگاری اور انتظامی کمزوریوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگر حکومت نے فوری طور پر خدشات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو نہ صرف معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں گی بلکہ عوامی اضطراب میں بھی اضافہ ہوگا۔ بلوچستان میں پیدا ہونے والا یہ بحران اب محض ایک احتجاج یا بیان تک محدود نہیں رہا بلکہ وسیع تر انتظامی اور معاشی چیلنج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

وفاقی بجٹ 27-2026

وفاقی بجٹ بالآخر کل پیش کر دیا جائے گا۔ بجٹ کی تاریخ دو مرتبہ تبدیل کی گئی کیونکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے اور اس مرتبہ بجٹ میں سب سے بڑا ایشو این ایف سی فارمولا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام تھے۔

آٹا سستا روٹی مہنگی، انتظامی مشینری کہاں ہے؟

پنجاب کو پاسکو سے گندم خریداری کا فیصلہ کیوں کرنا پڑا؟

کراچی کی داستانِ حسرت

پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان اسمبلی الیکشن میں میدان مار لیا۔پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں حکومت بنائے گی، سندھ اور بلوچستان میں پہلے ہی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔

بجٹ سے پہلے سیاسی ہلچل

سہیل آفریدی کو اندرونی محاذ پر بڑا چیلنج

27جولائی کے انتخابات پُرامن ہوں گے؟

آزاد جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے۔ یہ انتخابات آزاد جموں و کشمیر کے 33 اور مہاجرین مقبوضہ کشمیر مقیم پاکستان کی 12 نشستوں پر ہوں گے۔

خواتین کی مصروفیات اور وقت کی منصوبہ بندی

آج کے دور میں خواتین زندگی کے مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ نہ صرف گھر کی ذمہ داریاں نبھاتی ہیں بلکہ تعلیم، ملازمت، کاروبار اور سماجی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیتی ہیں۔