دھوپ میں آنکھوں کی حفاظت کتنی ضروری؟
سورج کی روشنی زندگی کے لیے ناگزیر ہے،یہ جسم کو وٹامن ڈی فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے اور قدرتی ماحول کو روشن بناتی ہے، لیکن اسی سورج کی تیز شعاعیں اگر براہِ راست اور زیادہ دیر تک آنکھوں پر پڑیں تو بینائی کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہیں۔
خاص طور پر گرمیوں میں جب سورج کی الٹرا وائلٹ (UV) شعاعیں زیادہ شدت اختیار کر لیتی ہیں تو آنکھوں کی حفاظت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔ماہرینِ چشم کے مطابق سورج کی مضر شعاعوں سے مسلسل واسطہ آنکھوں کی بیرونی سطح، عدسے اور حتیٰ کہ ریٹینا کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے بچوں، نوجوانوں، بزرگوں اور کھلی جگہوں پر کام کرنے والے افراد کو اپنی آنکھوں کی حفاظت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
الٹرا وائلٹ شعاعوں کے اثرات
سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں انسانی آنکھ کے مختلف حصوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ زیادہ دیر تک دھوپ میں رہنے سے آنکھوں میں جلن، پانی آنا، سرخی اور روشنی سے حساسیت پیدا ہو سکتی ہے۔ طویل عرصے تک مناسب احتیاط نہ کرنے کی صورت میں موتیا، سوزش اور عمر بڑھنے کے ساتھ بینائی کے دیگر مسائل کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔خشک اور گرد آلود موسم میں دھوپ کے ساتھ گرد کے ذرات بھی آنکھوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس سے الرجی اور انفیکشن کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
دھوپ سے آنکھوں کی حفاظت
آنکھوں کی حفاظت کے لیے سب سے مؤثر طریقہ معیاری سن گلاسز کا استعمال ہے۔ ایسے چشمے منتخب کریں جو 99 سے 100 فیصد UV-AاورUV-Bشعاعوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ صرف گہرے رنگ کے شیشے کافی نہیں ہوتے بلکہ ان میں حفاظتی فلٹر کا ہونا ضروری ہے۔اگر زیادہ دیر دھوپ میں رہنا ہو تو چوڑے کنارے والی ٹوپی یا کیپ پہننا بھی مفید ہے کیونکہ یہ سورج کی براہِ راست شعاعوں کو آنکھوں تک پہنچنے سے کافی حد تک روک دیتی ہے۔صبح 10 بجے سے شام چار بجے کے درمیان سورج کی شعاعیں نسبتاً زیادہ تیز ہوتی ہیں اس لیے اگر ممکن ہو تو اس دوران غیر ضروری طور پر کھلی دھوپ میں جانے سے گریز کریں۔
بچوں اور بزرگوں کیلئے احتیاط
بچوں کی آنکھیں بالغ افراد کی نسبت زیادہ حساس ہوتی ہیں اس لیے انہیں دھوپ میں کھیلتے وقت حفاظتی چشمہ اور ٹوپی ضرور پہنانی چاہیے۔ اسی طرح بزرگ افراد خصوصاً وہ لوگ جنہیں موتیا یا آنکھوں کی دیگر بیماریاں لاحق ہوں انہیں بھی دھوپ میں نکلتے وقت احتیاط برتنی چاہیے۔ اگر کسی شخص کی آنکھوں کی سرجری ہو چکی ہو یا وہ بینائی کے کسی عارضے میں مبتلا ہو تو اسے اپنے معالج کے مشورے کے مطابق حفاظتی چشمے استعمال کرنے چاہئیں۔
آنکھوں کی صحت صرف بیرونی حفاظت سے نہیں بلکہ متوازن غذا سے بھی وابستہ ہے۔ گاجر، پالک، مچھلی، بادام، اخروٹ، مالٹا اور سبز پتوں والی سبزیاں وٹامن اے، سی، ای اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ فراہم کرتی ہیں جو آنکھوں کی صحت کے لیے مفید ہیں۔اس کے علاوہ مناسب مقدار میں پانی پینا، آنکھوں کو بار بار ملنے سے گریز کرنا اور اگر جلن، دھندلا پن یا نظر میں اچانک تبدیلی محسوس ہو تو فوری طور پر ماہرِ چشم سے رجوع کرنا چاہیے۔ سورج کی روشنی سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں لیکن احتیاطی تدابیر اپنا کر ہم اپنی آنکھوں کو طویل عرصے تک صحت مند رکھ سکتے ہیں۔
معیاری سن گلاسز، ٹوپی، مناسب غذا اور بروقت طبی معائنہ نہ صرف بینائی کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں آنکھوں کی سنگین بیماریوں کے خطرات کو بھی کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔