فیفا ورلڈ کپ 2026ء :رائونڈ 32کا آغاز
ناک آئوٹ مرحلہ 32ٹیموں کے درمیان 16مقابلے ہونگے
فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے گروپ مرحلہ کا آج (28جون)آخری روز ہے، رات 12 بجے سے دوسرے مرحلے ’’رائونڈ32‘‘ کا آغاز ہو گا۔ 12جون سے جاری پہلے مرحلے ’’گروپ سٹیج‘‘ کے دوران دنیا بھر کے کروڑوں شائقین کو فٹ بال کے ایسے دلچسپ، سنسنی خیز اور غیر متوقع مقابلے دیکھنے کو ملے جنہوں نے اس عالمی ایونٹ کی مقبولیت کو مزید چار چاند لگا دیئے۔ تین میزبان ممالک، امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہونے والے اس تاریخی ورلڈ کپ میں پہلی مرتبہ 48 ٹیموں نے شرکت کی، جس کے باعث مقابلوں کی تعداد اور دلچسپی دونوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
گروپ مرحلے کے دوران کئی روایتی طاقتور ٹیموں نے اپنی برتری ثابت کی، جبکہ بعض نسبتاً کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑے بڑے حریفوں کو سخت ٹکر دی۔ کئی میچ آخری لمحوں تک سنسنی سے بھرپور رہے، جہاں فیصلہ کن گولز نے نتائج کا رخ بدل دیا۔ اسی غیر یقینی کیفیت نے شائقین کو ہر مقابلے کے اختتام تک اپنی نشستوں سے باندھے رکھا۔
اس ورلڈ کپ میں صرف 33 میچوں میں 100 گولز مکمل ہوئے تھے جو 1954ء کے بعد تیز ترین رفتار ہے۔ 45 میچوں کے بعد مجموعی طور پر 139 گول ہوئے، جو گروپ مرحلے میں کسی بھی ورلڈ کپ کے پہلے 45 میچوں کا نیا ریکارڈ ہے۔اس سے قبل 2014ء کے ورلڈ کپ میں گروپ مرحلے کے دوران 136 گول ہوئے تھے تاہم اس مرتبہ یہ ریکارڈ 3 میچ پہلے ہی ٹوٹ گیا۔
گروپ مرحلے کے اختتام کے ساتھ ہی اب تمام نظریں ’’راؤنڈ 32‘‘ پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ یہ مرحلہ 29 جون سے 03جولائی تک جاری رہے گا۔ یہ ناک آئوٹ مرحلہ ہے جس میں 32ٹیموں کے درمیان 16 مقابلے ہوں گے۔ اس مرحلے میں شکست کا مطلب ٹورنامنٹ سے فوری اخراج ہوگا، اس لیے ہر میچ ’’کرو یا مرو‘‘ کی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ناک آؤٹ مرحلے میں مقابلوں کی شدت، معیار اور سنسنی مزید بڑھ جائے گی اور فٹ بال کے شائقین کو عالمی معیار کے یادگار مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ ورلڈ کپ کا اصل امتحان اب شروع ہونے جا رہا ہے، جہاں صرف بہترین ٹیمیں ہی منزل کی جانب سفر جاری رکھ سکیں گی۔
گروپ مرحلے میں کامیابی حاصل کرنے والی 32 بہترین ٹیمیں اب مدمقابل ہیں، جہاں ایک معمولی غلطی بھی عالمی چیمپئن بننے کے خواب کو چکنا چور کر سکتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ماضی کی کامیابیاں، عالمی درجہ بندی اور ریکارڈز پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور میدان میں صرف موجودہ کارکردگی، اعصاب کی مضبوطی اور حکمت عملی ہی کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔ فٹ بال کی روایتی طاقتیں اپنی برتری برقرار رکھنے کیلئے کوشاں ہیں، جبکہ نسبتاً کمزور سمجھی جانے والی ٹیمیں بھی اپ سیٹ فتوحات کے ذریعے نئی تاریخ رقم کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔ ایسے میں راؤنڈ آف 32 نہ صرف عالمی چیمپئن کی جانب سفر کا پہلا ناک آؤٹ امتحان ہے بلکہ یہ وہ مرحلہ بھی ہے جہاں ورلڈ کپ کی حقیقی سنسنی، غیر یقینی کیفیت اور ڈرامائی لمحات اپنے عروج پر پہنچ جاتے ہیں۔
اس مرحلے میں ہر میچ ناک آؤٹ ہو گا، یعنی جو ٹیم جیتے گی وہ اگلے مرحلے ’’راؤنڈ 16‘‘ میں پہنچ جائے گی۔جو ٹیم ہارے گی وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے گی۔ اگر مقررہ 90 منٹ میں مقابلہ برابر رہے تو30 منٹ کا اضافی وقت کھیلا جائے گا۔ اگر پھر بھی فیصلہ نہ ہو تو پینلٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعے فاتح ٹیم کا تعین کیا جائے گا۔
ناک آؤٹ مرحلے کے فارمیٹ اور کوالیفکیشن کے معیار کیا ہیں، اور کون سی ٹیمیں اس مرحلے میں پہنچی ہیں، اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔ہر گروپ کی پہلی دو پوزیشنوں پر آنے والی ٹیمیں، یعنی مجموعی طور پر 24 ٹیموں نے براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے کیلئے کوالیفائی کیا ہے۔ ان کے علاوہ تیسرے نمبر پر آنے والی آٹھ بہترین ٹیمیں بھی اگلے مرحلے میں پہنچی ہیں۔ٹورنامنٹ میں ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کیے جانے کے بعد پہلی مرتبہ ’’راؤنڈ 32‘‘ کو ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے کا حصہ بنایا گیا ہے۔اس کے بعدراؤنڈ16،کوارٹر فائنل، سیمی فائنل،تیسری پوزیشن کا پلے آف میچ اور اس کے بعد فائنل ہو گا۔فیفا ورلڈ کپ 2026ء کا فائنل 19 جولائی کو کھیلا جائے گا۔
شائقین کو توقع ہے کہ ناک آؤٹ مرحلہ مزید تیز رفتار، اعصاب شکن اور یادگار مقابلوں سے بھرپور ہوگا، کیونکہ اب ہر ٹیم کی منزل صرف ایک ہے: فیفا ورلڈ کپ 2026 ء کی ٹرافی۔
نیا ٹائی بریکر قانون
فیفا نے 2026 کے ورلڈ کپ میں گروپ مرحلے کے دوران برابر پوائنٹس حاصل کرنے والی ٹیموں کی درجہ بندی کیلuے ایک اہم تبدیلی متعارف کرائی ہے۔ پہلی بار ورلڈ کپ کی تاریخ میں گول فرق کے بجائے باہمی مقابلوں کو بنیادی ٹائی بریکر قرار دیا گیا ہے۔ ٹورنامنٹ قوانین کے مطابق اگر گروپ مرحلے کے اختتام پر ایک ہی گروپ کی دو یا زیادہ ٹیموں کے پوائنٹس برابر ہوں تو ان کی درجہ بندی کیلئے درج ذیل معیار بالترتیب اختیار کیے جائیں گے۔
پہلا مرحلہ
٭…گروپ میچوں میں حاصل کیے گئے پوائنٹس کی تعداد۔
٭…برابر پوائنٹس والی ٹیموں کے باہمی مقابلوں میں بہتر گول فرق۔
٭…برابر پوائنٹس والی ٹیموں کے باہمی مقابلوں میں زیادہ گول اسکور کرنا۔
اگر اس کے باوجود فیصلہ نہ ہو سکے تو درج ذیل معیار استعمال کیے جائیں گے۔
دوسرا مرحلہ
٭…تمام گروپ میچوں میں مجموعی بہتر گول فرق۔
٭…تمام گروپ میچوں میں مجموعی طور پر زیادہ گول اسکور کرنا۔
٭…فیئر پلے کا بہتر ریکارڈ، جس کا تعین کھلاڑیوں اور ٹیم آفیشلز کو ملنے والے زرد اور سرخ کارڈز کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
اگر اس کے باوجود بھی ٹیموں کے درمیان فرق نہ کیا جا سکے تو:
تیسرا مرحلہ
برابر پوائنٹس رکھنے والی ٹیموں کی درجہ بندی فیفا ورلڈ رینکنگ کے تازہ ترین شائع شدہ ایڈیشن کی بنیاد پر کی جائے گی۔