گولڈن بوٹ کی دوڑ

تحریر : روزنامہ دنیا


فیفا ورلڈ کپ 2026 اپنے سنسنی خیز مقابلوں، حیران کن نتائج اور عالمی شہرت یافتہ ستاروں کی شاندار کارکردگی کے باعث دنیا بھر کے شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

 جہاں ایک جانب قومی ٹیمیں عالمی چیمپئن بننے کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے میدان میں ہیں، وہیں دوسری جانب ٹورنامنٹ کا ایک اور نہایت دلچسپ مقابلہ گولڈن بوٹ کے اعزاز کیلئے جاری ہے۔ ہر گول کے ساتھ یہ دوڑ مزید دلچسپ  ہوتی جا رہی ہے اور دنیا کے نامور فارورڈز ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ لیونل میسی، کائلیان ایمباپے، عثمان ڈیمبیلے، ارلنگ ہالینڈ اور ونیسیئس جونیئر جیسے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں سے نہ صرف اپنی ٹیموں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ گولڈن بوٹ کی دوڑ کو بھی تاریخ کی یادگار ترین مسابقت میں تبدیل کر رہے ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں گولڈن بوٹ (سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی) کی دوڑ انتہائی دلچسپ ہو چکی ہے۔ گروپ مرحلے کے اختتام پر کئی عالمی ستارے ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ ارجنٹائن کے لیونل میسی 5 گولز کے ساتھ سرفہرست ہیں جبکہ فرانس کے کیلیان ایمباپے(Kylian Mbappé)،برازیل کے ونسیئس جونیئر(Vinícius Júnior)، فرانس کے عثمان ڈیمبلے (Ousmane Dembélé) اور ناروے کے ارلنگ ہالینڈ(Erling Haaland ) 4،4 گولز کے ساتھ گولڈن بوٹ کی دوڑ میں شامل ہیں۔ان کے علاوہ 7کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے 3،3 گول کئے ہیں جبکہ 20 کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے دو، دو گول کئے ہیں۔ 

موجودہ صورتحال میں لیونل میسی گولڈن بوٹ کے سب سے مضبوط امیدوار دکھائی دیتے ہیں۔ وہ مسلسل عمدہ فارم میں ہیں اور گزشتہ ورلڈ کپ کی کارکردگی کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

فیفا ورلڈ کپ 2026ء :رائونڈ 32کا آغاز

ناک آئوٹ مرحلہ 32ٹیموں کے درمیان 16مقابلے ہونگے

یوم شہادت سید نا امام حسین رضی اللہ عنہ

رمز قرآن از حسین رضی اللہ عنہ آمو ختیم ہم نے قرآن کا اصل راز حسین رضی اللہ عنہ سے سیکھا ہے (اقبالؒ)

کہ یہی۔۔۔۔پیغام حسین ؓ ہے

رحمت عالم ﷺ کا فرمانِ مقدس کہ ’’حسینؓ مجھ سے ہے اور میں(محمدﷺ) حسین ؓ سے ہوں‘‘(جامع ترمذی:3775)۔ لوگ اس بات سے تو واقف تھے کہ بلاشبہ حضرت امام حسین ؓ حضوراقدس ﷺ سے ہی ہیں لیکن حضور سیدِ عالم ﷺکا حسینؓ سے ہونا،یہ بات سمجھ سے بالا تر تھی۔

سید نا امام حسین ؓ

کوئی نہیں حسین ؓ سا حسین ؓ بس حسین ؓ ہے چراغ ہدایت اور حیات انسانی کا ابدی سفر

پاکستانی ثالثی کی فتح

اس سال فروری کے آخر میں شروع ہونے والی بڑی جنگ اپنے عروج پر تھی، ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر تباہ کن فضائی جاری تھے تو دوسری طرف اسرائیل پر ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی بارش برس رہی تھی۔

چارٹر آف اکانومی پر پیش رفت کیوں نہیں ؟

سیاسی محاذ پر ڈائیلاگ کا عمل کیسے ممکن ہو گا؟