کہ یہی۔۔۔۔پیغام حسین ؓ ہے

تحریر : مولانا مجیب الرحمن انقلابی


رحمت عالم ﷺ کا فرمانِ مقدس کہ ’’حسینؓ مجھ سے ہے اور میں(محمدﷺ) حسین ؓ سے ہوں‘‘(جامع ترمذی:3775)۔ لوگ اس بات سے تو واقف تھے کہ بلاشبہ حضرت امام حسین ؓ حضوراقدس ﷺ سے ہی ہیں لیکن حضور سیدِ عالم ﷺکا حسینؓ سے ہونا،یہ بات سمجھ سے بالا تر تھی۔

 یہ حقیقت ہر خاص و عام کے سامنے اُس وقت آشکار ہوئی کہ جب نواسۂ رسول،جگربتولؓ،شہزادۂ علی ا لمرتضیٰؓ حضرت امام حسینؓ نے اپنے بہتر (72) عزیز و اقارب اور رفقائے کار کے ساتھ ’’دین مصطفیﷺ‘‘ کو بچانے کی خاطر سرزمین کربلا میں سخت مشکلات جھیلتے ہوئے قوت باطل سے ٹکرائے اور جامِ شہادت نوش فرمایا اور ہمیشہ کیلئے امر ہو گئے۔ یہ انہی کا احسانِ عظیم ہے کہ آج اسلام کا بول بالا ہے اورہم دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہوئے دامن مصطفیﷺ سے وابستہ ہیں۔

سیدنا حضرت امام حسینؓ نے اپنا سر تو کٹوا دیا مگر باطل کے آگے نہ جھکایا۔ آپؓ نے اپنے اور اپنے عزیز و اقارب کے خونِ مقدس سے دین اسلام کے شجر بے مثال کی آبیاری فرمائی اور اُمت مسلمہ کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ دین اسلام کس قدر اہمیت کا حامل ہے اور تسلیم صبر و رضا کے پیکر امام حسینؓ نے یہ بھی بتایا کہ ’’زندگی‘‘ در اصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آزمائشوں سے صبر و رضا کے ساتھ گزرنے کا نام ہے اور درس حسینؓ بھی یہی ہے۔ آج ہم سیدنا حضرت امام حسینؓ سے محبت کا دم تو بھرتے ہیں مگر ہم نے آپؓ کی تعلیمات اور فکر حریت کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ معمولی سی پریشانی اور مشکل آجائے تو سہی نہیں جاتی اور پروردگار ِعالم کے ہاں شکوئوں، شکایتوں کے انبار لگا دیتے ہیں اور اس بات پر کبھی غور ہی نہیں کیا کہ ہم کس قدر ’’حق بندگی‘‘ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

امتحان تو ہر مسلمان پر آتا ہے،کبھی بیماری کی صورت میں تو کبھی بے روزگاری اور معاشی تنگی کی شکل میں، کبھی اپنے تو کبھی بیگانے جان کے درپے ہو جاتے ہیں اور کبھی بے اولادی کی فکر ستاتی ہے۔ کبھی انسان نافرمان اولاد کے غم میں مبتلا ہو جاتا ہے تو کبھی اسلام کی اصل روح سے نا آشنا ہمسائے تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ 

آج امت مسلمہ ناگہانی عذاب میں مبتلا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سب سے پہلے تمام مکتبۂ فکر اور مسالک کے ارباب و علم دانش اور راہنما اپنے اپنے حلقۂ ارادت میں شامل افراد کو، آپس میں اتفاق و اتحاد، رواداری، حسن سلوک، خلوص و محبت، ایثار اور قوت برداشت کی فضائیں قائم کرنے کی ترغیب دیں۔ اور تمام مسالک آپس میں اتفاق واتحاد کی فضا قائم کریں اورحق و باطل کی تمیزکرتے ہوئے کہ جھوٹے خدائوں اورآقائوں سے اپنا دامن چھڑاکر موجودہ دور کی یزیدی قوتوں کا سر کچلتے ہوئے امامِ عالی مقام سیدنا  امام حسینؓ کی سنت ادا کریں کہ محرم الحرام کے مقدس دنوں میں نواسۂ رسولﷺ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کایہی ایک بہترین اور پر اثر طریقہ ہے کہ یہی پیغامِ حسینؓ ہے۔

دعا ہے کہ ربِ کریم ہم سب کو دامن مصطفیٰﷺتھامتے ہوئے اہلِ بیت اطہارؓ اور تمام صحابہ کرامؓ کی سچی محبت سے نوازے اور عمل کی توفیق و ہمت عطا فرمائے، آمین۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

یوم شہادت سید نا امام حسین رضی اللہ عنہ

رمز قرآن از حسین رضی اللہ عنہ آمو ختیم ہم نے قرآن کا اصل راز حسین رضی اللہ عنہ سے سیکھا ہے (اقبالؒ)

سید نا امام حسین ؓ

کوئی نہیں حسین ؓ سا حسین ؓ بس حسین ؓ ہے چراغ ہدایت اور حیات انسانی کا ابدی سفر

پاکستانی ثالثی کی فتح

اس سال فروری کے آخر میں شروع ہونے والی بڑی جنگ اپنے عروج پر تھی، ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر تباہ کن فضائی جاری تھے تو دوسری طرف اسرائیل پر ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی بارش برس رہی تھی۔

چارٹر آف اکانومی پر پیش رفت کیوں نہیں ؟

سیاسی محاذ پر ڈائیلاگ کا عمل کیسے ممکن ہو گا؟

سیاست میں وقار اور بصیرت کی مثال

قیادت محض حالات کے دھارے میں بہنے کا نام نہیں بلکہ حالات کا رخ بدلنے اور مشکل حالات میں راستہ نکالنے کی صلاحیت کا نام ہے۔

کے پی کے بجٹ ناراض اراکین کی ایک نہ چلی

بجٹ منظور نہ کرنے کی دھمکی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر سہولت کاری کے الزامات اوربانی پی ٹی آئی کی رہائی تک بجٹ کے بائیکاٹ کے اعلانات ،پی ٹی آئی کے ناراض ارکین کے تمام دعوے دھرے رہ گئے اور بجٹ نہ صرف منظور کرلیاگیا بلکہ اس پر بحث بھی محض برائے نام ہی ہوئی ۔