سید نا امام حسین ؓ
کوئی نہیں حسین ؓ سا حسین ؓ بس حسین ؓ ہے چراغ ہدایت اور حیات انسانی کا ابدی سفر
کائنات کی وسعتوں میں جب بھی حق و صداقت کے چراغوں کا تذکرہ ہوگا، جب بھی ظلمت کے سینے کو چیر کر نکلنے والی ضیا کی بات کی جائے گی اور جب بھی ایثار و قربانی کے مفہوم کو سمجھنے کی سعی کی جائے گی، تو نگاہِ بصیرت سب سے پہلے کربلا کے تپتے ہوئے ریگزار کی طرف اٹھے گی، جہاں نبوت کے گلشن کے حسین ترین پھولوں نے اپنے لہو سے اسلام کی آبیاری کی۔ آج جب ہم یومِ عاشورہ کی دہلیز پر کھڑے ہیں، تو دل کی دھڑکنوں میں ایک عجیب سی لرزش ہے، آنکھوں میں عقیدت کے آنسو ہیں اور روح میں ایک ایسی تڑپ ہے جو لفظوں کے پیرہن میں سما نہیں سکتی۔
سیدنا امام حسین ؓ کا ذکر محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، یہ تو اللہ رب العزت کی جانب سے انسانیت کو دیا گیا وہ حیات بخش نسخہ ہے جو ہر دور کے مردہ دلوں میں حرارت اور روحِ ایمان میں تازہ زندگی پھونک دیتا ہے۔ یہ وہ تذکرہ ہے جس سے ایمان کی شمعیں روشن ہوتی ہیں اور جو باطل کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیتا ہے۔ آپ کی ذات گرامی تو خود قرآن کا عملی نمونہ، سیرت نبوی ﷺ کا آئینہ اور تقویٰ و طہارت کا مینارِ نور ہے۔
آپؓ کی سیرت طیبہ کا ہر پہلو کمالِ انسانیت کا شاہکار ہے۔ آپ ؓ کا اخلاق وہی تھا جو محمد مصطفیﷺ کا تھا، اور آپؓ کی شجاعت وہی تھی جو علی المرتضیٰؓ کا ورثہ تھی۔ آپ ؓ کی زندگی زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت کا ایک ایسا حسین امتزاج تھی جس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ آپ ؓ کا جود و سخا اس قدر بے پایاں تھا کہ سائل کبھی آپؓ کے درِ اقدس سے خالی ہاتھ نہیں لوٹا۔ آپ ؓ کی راتیں اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر گزرتی تھیں اور آپ ؓ کے دن خلق خدا کی خدمت اور اصلاح اُمت کی کوششوں میں صرف ہوتے تھے۔
حضورِ اکرم ﷺ کی نظروں میں آپ ؓ کا مقام کتنا بلند تھا، اس کا اندازہ اس فرمانِ نبویؐ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں‘‘۔ یہ تعلق صرف نسبت نسبی نہیں، بلکہ روحانی کمال اور فکری ہم آہنگی کا ایک ایسا اٹوٹ بندھن تھا جس نے امامِ عالی مقام ؓ کو اسلام کی بقا کا ضامن بنا دیا۔ آپ ؓ کی حیاتِ مبارکہ کے گوشے گوشے سے اللہ کی رضا کی خوشبو آتی ہے اور ہر عمل سے سنت نبویؐ کا نور جھلکتا ہے۔
جب وقت نے کروٹ لی اور امت مسلمہ ایک ایسے دوراہے پر آ کھڑی ہوئی جہاں دین متین کی بنیادی اقدار کو مسخ کرنے کی سازشیں رچائی جا رہی تھیں، تو تب امام حسینؓ نے حق و باطل کے درمیان ایک ایسی حدِ فاصل کھینچ دی جو رہتی دنیا تک ہر باضمیر انسان کیلئے مشعلِ راہ بن گئی۔ امامِ حسین ؓ کا مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا کا سفر اقتدار کے حصول کیلئے نہیں، بلکہ نبوی امانت کی حفاظت کیلئے تھا۔ آپؓ جانتے تھے کہ اس راستے میں آزمائشوں کے پہاڑ ہیں، قربانیوں کا سمندر ہے اور خونِ جگر سے تاریخ رقم کرنی ہے، مگر آپؓ کا عزمِ کوہِ گراں کسی بھی لمحے متزلزل نہ ہوا۔ آپؓ کا یہ خروج درحقیقت اس دین کی روح کو زندہ کرنے کی کوشش تھی جسے یزیدی طاقتیں اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھانا چاہتی تھیں۔ آپؓ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ ایک مومن کیلئے سر کٹوا لینا آسان ہے، مگر اصولوں پر سودا کرنا ناممکن ہے۔کربلا کی وہ تپتی دوپہر جب افق عالم پر نمودار ہوئی تو کائنات کے ذرے ذرے پر ایک عجیب لرزہ طاری تھا۔ میدانِ کربلا میں ایک طرف باطل کا وہ لشکر تھا جس کی کثرت کا غرور آسمان کو چھو رہا تھا، اور دوسری طرف امامِ عالی مقامؓ کا وہ قافلہ وفا تھا جس میں رسولِ اکرمﷺ کے جگر گوشے، علی المرتضیٰؓ کے شیرِ دل فرزند اور جنت کے سرداروں کا ایک ایسا گروہ شامل تھا جن کے قدموں کی چاپ سے ریگزار بھی لرز اٹھتے تھے۔
دس محرم الحرام کا دن تاریخ اسلام کا وہ المناک ترین دن تھا جس نے آسمان و زمین کو اپنے تئیں اشک بار کر دیا۔ اس دن خاندانِ نبوتؐ کے وہ چشم و چراغ ایک ایک کر کے سجدہ گاہِ الٰہی میں گرے، جن کی روشنی سے دنیا منور تھی۔ حضرت علی اکبر کی جوانی کا خون، حضرت قاسم کی قربانی، حضرت عباس علمدار کی بے مثال وفاداری، اور معصوم علی اصغر کا چھلنی گلا،یہ سب وہ زخم ہیں جو رہتی دنیا تک امت مسلمہ کے دلوں کو تڑپاتے رہیں گے۔
اس میدانِ وفا میں حضورِ اکرمﷺ کے لخت جگر نے اپنے بھتیجوں اور بھانجوں کے ساتھ مل کر قربانی کی ایسی داستان رقم کی جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ حضرت امام حسنؓ کے صاحبزادے حضرت قاسم، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے لعل، اور دیگر اہل بیتِ اطہار، حضرت عون اور حضرت محمد سب نے اسلام کی عزت پر اپنا خون نچھاور کر کے یہ ثابت کیا کہ مودت رسولﷺ کا تقاضا یہی ہے کہ جب حق پر آنچ آئے تو اپنا سب کچھ قربان کر دیا جائے۔ اس میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ناموں سے منسوب وہ نفوسِ قدسیہ بھی شامل تھے جن کا تعلق اہل بیت اطہار سے تھا، جنہوں نے اسی خاندانِ رسالت کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھ کر شہادت کا جامِ نوش فرمایا۔ یہ اہل بیتِ نبوت اور صحابہ کرامؓ کے باہمی پیار اور وحدت کی ایک ایسی تصویر ہے جو آج بھی ہمارے لیے ایک عظیم سبق ہے۔ یزیدی لشکر نے جسموں کو تو شہید کر دیا، مگر وہ امامِ حسینؓ کے اس عزم کو نہ توڑ سکے جو قیامت تک ہر مظلوم کے لیے ڈھارس اور ہر ظالم کیلئے تازیانہ بن چکا ہے۔
شہادتِ حسینؓ کے بعد، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبات، جو آپؓ نے کوفہ اور دمشق کے درباروں میں ارشاد فرمائے، درحقیقت امامِ حسینؓ کے خون کا پیغام پوری دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔ انہوں نے یزید کے ایوانوں میں کھڑے ہو کر جس شجاعت کا مظاہرہ کیا، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اہل بیتِ نبوت کی خواتین بھی صبر و استقامت میں کسی سے کم نہیں۔ یہ وہ قربانیاں تھیں جن کی بدولت آج ہم ایک مسلمان کے طور پر سر اٹھا کر جی سکتے ہیں۔ کربلا کا یہ واقعہ صرف ایک قصہ کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا زندہ نصاب ہے جس سے ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ آج کے دور میں ہم نے حسینیت کو صرف محفلوں اور اشکباری تک محدود کر لیا ہے، حالانکہ کربلا کا پیغام ہماری دکانوں، ہمارے دفاتر، ہمارے گھروں اور ہماری حکمرانی میں عملی تقاضا کرتا ہے۔
آج معاشرہ جس انتشار، فرقہ واریت اور ڈپریشن کا شکار ہے، اس کا حل صرف حسینیت میں ہے۔ ہم نے اپنی زندگیوں میں یزیدی جراثیم کو جگہ دی ہے۔ تاجر ملاوٹ اور جھوٹ کو اپنا شعار بنا چکے ہیں، ملازمین دیانتداری سے عاری ہو چکے ہیں، اور صاحبانِ اقتدار تکبر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ جب تک ہم اپنے آپ کو حسینیت کے سانچے میں نہیں ڈھالیں گے، ہماری پریشانیاں دور نہیں ہو سکتیں۔ حسینی تجارت وہ ہے جس میں دیانت ہو، حسینی ملازمت وہ ہے جس میں امانت ہو، اور حسینی سیاست وہ ہے جس میں عدل و انصاف کا بول بالا ہو۔ جب امامِ حسینؓ نیزے پر بھی تلاوت قرآن کر سکتے ہیں تو ہم کیوں غفلت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں؟ ہمیں اپنے اسلاف کے طریقہ کار کے مطابق ذکرِ حسینؓ کرنا ہے، مگر اس ذکر کو اپنی اصلاح کا ذریعہ بنانا ہے۔ ہمیں فرقہ واریت کا زہر ختم کر کے ایک پرچم انسانیت تلے متحد ہونا ہوگا، کیونکہ امام حسینؓ کسی ایک گروہ کے نہیں، بلکہ پوری امت اور پوری انسانیت کے ہیں۔ ان سے محبت ربانی حکم ہے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہی نجات کی ضمانت ہے۔
اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم حقیقی معنوں میں حسینی بن کر اپنی زندگی گزاریں اور قیامت کے دن سرخرو ہوں۔ آمین۔