یوم شہادت سید نا امام حسین رضی اللہ عنہ
رمز قرآن از حسین رضی اللہ عنہ آمو ختیم ہم نے قرآن کا اصل راز حسین رضی اللہ عنہ سے سیکھا ہے (اقبالؒ)
تاریخ اسلام کے صفحات ان گنت درخشاں شخصیات کے تذکرے سے منور ہیں، مگر بعض ہستیاں ایسی ہیں جو محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک مکمل تاریخ، ایک زندہ استعارہ اور ایک ابدی پیغام بن جاتی ہیں۔ انہی مقدس و برگزیدہ شخصیات میں قافلہ شہدائے کربلاکے سرخیل،نواسہ رسول، شہزادہ خلیفۃ الرسول اور جگر گوشہ بتول سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ کا نام نامی نہایت عظمت و احترام کے ساتھ جگمگاتا ہے۔ آپ ؓ کی حیات طیبہ شجاعت، صداقت، عبادت، سخاوت اور حق گوئی کا ایسا حسین مرقع ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ بالخصوص واقعہ کربلا نے آپؓ کے کردار کو قیامت تک کیلئے حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنا دیا۔ زیر نظر مضمون میں آپ رضی اللہ عنہ کی شخصیت، فضائل، مناقب، علمی و عملی مقام اور سیرتِ طیبہ کے چند روشن پہلوؤں کو نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیاگیاہے۔
ولادت باسعادت
اورشہادت کی خبر
ولادت وشہادت کے بارے میں حسب ذیل روایات ہیں۔ حضرت عباسؓ کی زوجہ حضرت اُم فضل رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ وہ رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: یارسول اللہﷺ! رات میں نے عجیب خواب دیکھا ہے۔ آپﷺ نے دریافت کیا: کیسا خواب ہے؟ عرض کی: میں نے دیکھا ہے کہ گویا آپﷺ کے بدن کا کوئی ٹکڑا کٹ کر میری گود میں آگیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے تعبیر بیان فرمائی کہ تم نے اچھا خواب دیکھا ہے، فاطمہؓ کے ہاں بچہ پیدا ہو گا، وہ تمہاری گود میں ہو گا (تم اُسے دودھ پلاؤ گی)، چنانچہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حضرت حسین ؓ پیدا ہوئے، تو میری گود میں آئے ۔ ایک روز میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور حسین ؓکو میں نے رسول اللہ ﷺ کی گو د میں ڈال دیا، نبی کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ حضرت اُمِ فضل رضی اللہ عنہانے عرض کی: اے اللہ کے نبیﷺ! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان، آپﷺ کو کیا ہوا ہے؟ آنحضورﷺ نے فرمایا: میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے خبردی کہ میری اُمت میرے اس بیٹے کو شہید کردے گی۔ اور وہ میرے پاس اُس کی (خون آلود) سرخ مٹی کا کچھ حصہ بھی لائے ہیں۔ (مستدرک حاکم: 4818)
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاکے ہاں حضرت حسنؓ کی پیدائش ہوئی تونبی کریمﷺتشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم نے اس کانام کیارکھاہے؟آ پؓ فرماتے ہیں :میں نے عرض کی:میں نے اس کانام حرب رکھا ہے۔ نبی کریمﷺنے فرمایا:نہیں یہ حسنؓ ہے۔ جب حسینؓ کی ولادت ہوئی تو رسول اللہﷺ تشریف لائے اور پوچھاتم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟آپ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا:میں نے اس کانام حرب رکھا ہے۔ تو آپﷺنے فرمایا: نہیں یہ حسینؓ ہیں۔ پھر فرمایا: میں نے ان کے نام حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد شبراورشبیرکے نام پہ رکھے ہیں۔ (مستدرک حاکم: 4773)
امام احمدبن حنبل ؒروایت کرتے ہیں کہ: سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے ہاں جب سیدناامام حسینؓ کی ولادت ہوئی توانہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! کیا میں اپنے بیٹے کا عقیقہ نہ کروں؟ ارشاد فرمایا: نہیں! پہلے ان کے بال اترواؤاوربالوں کے وزن کے برابر چاندی صفہ والوں اور دوسرے مسکینوں پر صدقہ کرو۔ (مسند احمد بن حنبل: 27253)
فضائل و مناقب
آپؓ کی سب سے بڑی فضیلت یہی ہے کہ آپؓ نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول اور شیرخدا ؓ کے لخت جگر اور رتبہ صحابیت پر فائز ہیں، جو اس حسب و نسب کی فضیلت کو باعث نجات اُخروی بنا دیتا ہے۔ آپؓ کے فضائل و مناقب میں بہت ساری احادیث وارد ہیں ۔
حضرت ابوہریرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ: حسنین کریمین رضی اللہ عنہما رسول اللہﷺ کے سامنے کشتی کا کھیل، کھیل رہے تھے، اور آنحضرتﷺ فرما رہے تھے: حسنؓ شاباش، جلدی کرو۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاعرض کرنے لگیں: آپﷺ حسنؓ کو ہی کیوں شاباش دے رہے ہیں؟ آنحضرتﷺنے فرمایا کہ: حسینؓ کو جبرائیل امین علیہ السلام کہہ رہے ہیں کہ شاباش حسینؓ! جلدی کرو‘‘ (اسدالغابہ: ج2، ص24)
حضرت اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے کسی کام سے نبی کریمﷺ کا دروازہ کھٹکھٹایا، رسول اللہﷺباہر تشریف لائے تو آپﷺ نے کچھ اوڑھا ہوا تھا، جب میں اپنے کام سے فارغ ہوگیا تو میں نے عرض کیا کہ: یہ کیا ہے جو آپﷺ نے اُٹھا رکھا ہے؟ تو نبی کریم ﷺ نے ہٹایا تو حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپﷺ کی پشت مبارک پر تھے، پھر آپﷺ نے فرمایا کہ: یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں، ا ے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں، پس تو بھی ان سے محبت فرما اور اس سے بھی محبت فرما جو اِن دونوں سے محبت رکھے۔(سنن ترمذی: 3769)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ:رسولِ خدا ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپﷺ کو اہل بیت میں سے کس سے سب سے زیادہ محبت ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ: حسن و حسین رضی اللہ عنہماسے، چنانچہ رسول اللہﷺ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکو فرماتے کہ میرے بچوں کو میرے پاس بلاؤ، پھر آپﷺ انہیں چومتے اور سینے سے لگاتے۔ (جامع ترمذی: 3772)
حضرت یعلیٰ بن مرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں حسینؓ سے ہوں (لہٰذاحسینؓ سے محبت مجھ سے محبت ہے اور حسینؓ سے دشمنی مجھ سے دشمنی ہے) اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرتے ہیں جو حسینؓ سے محبت کرتا ہے۔ (جامع ترمذی:3775)
ایک دفعہ رسول کریمﷺ نماز کیلئے تشریف لائے تو آپﷺ نے اپنے لاڈلوں حضرت حسن یا حضرت حسین رضی اللہ عنہما میں سے کسی کو اٹھایا ہوا تھا، آپﷺ امامت کیلئے آگے بڑھے تو دائیں پاؤں کی جانب نواسے کو بٹھادیا، پھر سجدہ کیا اور لمبا سجدہ کیا۔ آپﷺنے (نماز سے فارغ ہو کر) رخ پیچھے موڑا تو لوگوں نے عرض کی : یارسول اللہﷺ! آپﷺ نے آج جیسا سجدہ کیا ایسا سجدہ پہلے کبھی نہیں فرمایا، کیا کوئی وحی نازل ہوئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، میرا بیٹا مجھ پر سوار تھا، میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ اسے جلدی اتار دوں (المستدرک للحاکم: 4775)
امام حسین ؓ کا علم
حضرت سیدنا امام حسین ؓ میدانِ علم میں بے مثل تھے۔ آپؓ نے شہر علم رسول اللہﷺ اور دروازہ شہر علم امیر المؤمنین حضرت علی ؓ سے علم دین کا بیش بہا خزانہ پایا۔ آپؓ کی علم سے بھر پور گفتگو ایسی دلکش ہواکرتی کہ لوگوں کی یہ خواہش ہوتی کہ آپ ؓ خاموش نہ بیٹھیں بلکہ علم و حکمت کی بہار آتی رہے۔ آپؓنے اپنے جد کریم، حضورنبی کریمﷺ سے،اپنے والدین اور حضرت عمر فاروقؓسے احادیث سنیں اور روایت کیں۔ (الاصابہ ، ج 2 ، ص68)۔ آپؓ کا مْستقل علمی حلقہ مسجدنبوی میں لگا ہوتا، جس میں آپ ؓ لوگوں کو فقہی مسائل سے آگاہ فرماتے تھے۔ آپؓ کے اس علمی حلقے کی شہرت اتنی تھی کہ ایک بار حضرت امیر ِ معاویہؓ سے کسی نے امام حْسین ؓکے متعلق پوچھا تو آپؓ نے فرمایا: مسجد نبوی میں چلے جائو اور جس حلقے میں لوگ یوں مؤدب بیٹھے ہوں گویا اُن کے سروں پر پرندے ہوں تو جان لینا کہ یہی حضرت ِ امام حسین ؓکی مجلس ہے(تاریخ دمشق، ج14، ص 181)۔
شہادت کی شہرت
حضرت امام حسینؓ کی زندگی میں ہی آپؓ کی شہادت کی خبر ہر خاص و عام تک پہنچ چکی تھی۔ سیدنا امام حسینؓ کی شہادت کی یہ خبر حضورﷺ نے خود سیدہ عائشہ صدیقہ، حضرت اُم سلمیٰ، حضرت انس ابن مالک، حضرت اُم فضل بن حارث، ابو امامہ البابلی، انس ابن حارث، زینب بنت جحش، مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہما کو دی اور پھر یہ خبر ان صحابہ کرامؓ سے تابعین نے آگے دی۔ گویا شہادت کی یہ خبر آپؓ کو بھی معلوم تھی، اہل بیت اور صحابہ کرامؓ کو بھی اس کا علم تھا۔
یزید کی بیعت سے انکار
جب حضرت امیر معاویہؓ کا وصال ہوا تو لوگوں نے یزید کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یزید نے اسی وقت ولید بن عتبہ جو مدینہ کا گورنر تھا کو خط لکھا کہ سب لوگوں کو بلاؤ اور میری بیعت لو اوربیعت کی ابتداء حسین ابن علیؓ سے کی جائے۔ اس نے آپؓ کو یزید کا پیغام دیا۔ حضرت امام حسینؓ نے ایک رات کی مہلت مانگی۔ رات کو امام عالی مقامؓ نے حضورﷺ کی قبر انور پر جا کر سلام عرض کیا اور شہر مدینہ چھوڑ کر حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب کے گھر مکہ مکرمہ میں جا کر قیام کرنے کا فیصلہ فرمایا اور کربلا روانگی تک یہیں قیام پذیر رہے۔ جب آپؓ کواہل کوفہ کے لگاتار اور پے در پے خطوط اور بعدازاں حضرت امام مسلم بن عقیلؓ کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد کوفہ آنے کی تجویز پر کوفہ روانہ ہوئے تو اسی اثناء میں کوفہ کے حالات یکسر بدل گئے اور ابن زیاد نے گورنر کے طور پر ذمہ داری سنبھال لی۔ سیدنا امام حسینؓ کے قافلے کو عمرو بن سعد کی قیادت میں ایک لشکر نے روک لیا۔ آپؓ نے عمرو بن سعد کو فرمایا: میں تمہارے سامنے تین باتیں رکھتا ہوں ان میں سے کوئی ایک قبول کرلو۔ (1) ایک صورت تو یہ ہے کہ میرا راستہ نہ روکو، اسلام کے عظیم لشکر سرحدوں پر جو فتوحات میں مصروف ہیں اور جہاد کررہے ہیں، میں جا کر کسی لشکر میں شریک ہو کر جہاد میں بقیہ زندگی گزارتا ہوں۔ (2) دوسری صورت یہ کہ مجھے براہ راست یزید سے گفتگو کرنے دو، میں اس سے پوچھوں گا کہ وہ کس بنیاد پر بیعت کا مطالبہ کرتا ہے۔ (3)مجھے چھوڑ دو میں کہیں دور دراز علاقوں میں چلا جاؤں گا، شہروں میں نہیں رہوں گا۔ عمرو بن سعد نے یہ شرائط ابن زیاد کو لکھ کر بھجوائیں مگر ان میں سے کسی کو قبول نہ کیاگیا بلکہ کہا گیا کہ سب سے پہلے یزید کیلئے امام حسینؓ سے بیعت لی جائے گی۔ امام حسینؓ نے فرمایا: ’’خداکی قسم ایساکبھی نہیں ہو سکتا‘‘۔
واقعہ کربلا
حضرت امام حسین ؓیزید کی بیعت سے انکار پر واقعہ کربلا کا آغاز ہوا اور یکے بعد دیگرے اہل بیت اطہار کے جوانوں کو شہید کیا گیا۔ چھوٹے بڑے 17 اصحاب صرف اہل بیت رسولﷺ میں سے شہید کر دیئے گئے۔ بقایا آپؓ کے اصحاب تھے۔ اہل بیت میں سے صرف سیدنا امام زین العابدینؓ بچے۔آپ کی شہادت ،روز عاشورہ، دس(10) محرم الحرام سنہ اکسٹھ(61) ہجری کو ہوئی۔
شہداء کی تعداد
واقعہ کربلا کے سلسلہ میں مؤرخین کے درمیان کافی اختلاف ہے، بعض مؤرخین نے امامؓ کی فوج کو 72 تک محدود کیا ہے۔ ان لوگوں نے صرف کربلا میں صبح عاشور سے لے کر عصر عاشور تک کے شہداء کو مانا ہے۔ جو لوگ اس تعداد سے زیادہ کے قائل ہیں، ان لوگوں نے ہر اس شہید کو شہدائے کربلا کے زمرے میں شمار کیا ہے جو بالواسطہ یا بلا واسطہ جنگ کربلا سے منسلک تھے، مثلاً مسلم ابن عقیلؓ کربلا میں شہید نہیں ہوئے، انہیں امامؓ نے سفیر کی حیثیت سے کوفہ روانہ کیا تھا۔ اسی طرح بعض نصرانی دربارکوفہ و شام میں مسلمان ہو کر یزید پر نفرین کرنے لگے تو یزید نے ان کو قتل کروایا۔ پھر وہ بچے جو عصر عاشور خیموں کی پامالی میں شہید ہوئے یا راہ کوفہ و شام میں شہید ہوئے۔ یہ تقریباً 140 ناموں کی فہرست ہے۔ بعض کتب 108 نام اور بعض میں کم یا زیادہ نام ملتے ہیں۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کی عبادات
آپؓ خاندانِ نبوت کے چشم و چراغ اور باغِ نبوت کے مہکتے پھول تھے۔ جس ماحول میں آپؓ نے پرورش پائی، اس سے پاکیزہ اور اچھے ماحول کا تصور ممکن ہی نہیں، چنانچہ آپؓ اخلاق، اعمال، صوم و صلوٰۃ، حج و زکوٰۃ، صدقہ و خیرات، اُمورِ خیر اور عبادات میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپؓ کی عبادت کے بارے میں چندروایات حسب ذیل ہیں:
علامہ ابن اثیرجزری رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ:حضرت سیدناحسین ؓکثر ت سے نمازپڑھتے،روزے رکھتے،حج کرتے،صدقہ وخیرات کرتے اورتمام بھلائی کے کاموں کوکرتے تھے۔ (اسدالغابہ، ج2، ص28)
سیدناامام زین العابدین ؓ نے فرمایا:میرے ابوجان حضرت سیدناامام حسین ؓ دن اوررات میں ہزار رکعت نفل اداکرتے تھے۔(عقدالفرید،ج3،ص114)
سیدناامام شعبی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں نے دیکھاحضرت سیدناامام حسین ؓ رمضان المبارک میں مکمل قرآن کریم ختم کیاکرتے تھے۔(سیراعلام النبلاء،ج4،ص410)
آپ ؓکوحج کابہت شوق تھا، مروی ہے کہ آپ ؓ نے 25حج پیدل کئے۔(ابن عساکر،ج14،ص180)
شہزادہ کونین کا نام و نسب
نام: حسینؓ، کنیت: ابوعبداللہ، القاب: سبط رسول اللہ اور ریحانۃ الرسول ہیں۔
والد: سیدنا علی المرتضیٰؓ بن ابوطالب ، والدہ: حضرت سیدہ فاطمہ ؓ بنت رسول اللہﷺ ہیں۔
ولادت:آپؓ کی ولادت ہجرت کے چوتھے سال 5شعبان المعظم کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ حضورﷺ نے آپؓ کے دائیں کان میں اذان دی اوربائیں کان میں تکبیر پڑھی، اپنے مبارک لعاب سے گھٹی عطا کی اور آپؓ کا نام حسینؓ رکھا اور آپؓ کو اپنا بیٹا کہا ،ساتویں دن ایک بکری سے عقیقہ کیااورآپؓ کی والدہ سے فرمایا ان کا سر منڈواکربالوں کے برابرچاندی خیرات کرو۔ (اسدالغابہ، ج2،ص24،25،26)
حلیہ مبارک: امام ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ ’’ امام حسینؓ کا جسم مبارک نبی اکرمﷺ کے جسم مبارک کے ساتھ مشابہت رکھتا تھا‘‘ (البدایہ والنہایہ: ج6، ص150)۔حضرت علیؓ سے بھی روایت ہے کہ ’’امام حسنؓ کا جسم مبارک نصف اعلیٰ میں سر سے لے کر سینہ تک آنحضرتﷺ سے بہت زیادہ مشابہ تھا اور امام حسینؓ کا جسم مبارک نصف اسفل میں سینہ سے لے کر پاؤں تک آنحضرتﷺ سے بہت زیادہ مشابہ تھا۔ (جامع ترمذی: 3779)
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی سخاوت
حضرت سیدناعلی بن عثمان ہجویری رحمہ اللہ علیہ اپنی مشہور و معروف کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت سیدنا امام حسین ؓ سے ایک آدمی نے سوال کیا،آپ ؓنے فرمایا : بیٹھ جا ؤ !ہمارا وظیفہ آنے والا ہے، جیسے ہی وظیفہ پہنچے گا آپ کو دے دیا جائے گا۔ابھی تھوڑی ہی دیرہوئی تھی کہ حضرت سیّدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف سے ایک ایک ہزار دینار کی پانچ تھیلیاں پہنچ گئیں۔ تھیلیاں پہنچانے والوں نے عرض کیا کہ سیدنا امیر معاویہ ؓنے معذرت کی ہے کہ یہ تھوڑی سی رقم ہے، اسے قبول فرمالیں ،سیّدنا امامؓنے ساری رقم اس غریب آدمی کے حوالے کر دی اور اس سے معذرت چاہی۔(کشف المحجوب،ص77)
حضرت سیدناامام حسین ؓ کے مکان پرایک فقیرمدینہ کی گلیوں سے ہوتاہواپہنچا تو دروازے پردستک دی اوراشعارکی صورت میں کہنے لگا:جس نے آپ ؓسے امید رکھی اورجس نے آپ ؓ کے دروازے پردستک دی وہ کبھی ناامیدنہیں ہوا۔آپ ؓ جودوسخاوت کا چشمہ ہیں۔آپ ؓ گھرمیں نمازپڑھ رہے تھے۔بعدازاں دروازے پر تشریف لائے تودیکھاایک دیہاتی کھڑاہے جس کی شکل غربت اوربھوک کااعلان کررہی تھی،آپ ؓ نے اپنے غلام قنبرسے فرمایا:ہمارے خرچ میں سے کتنامال بچا ہوا ہے؟عرض کی :دوسودرہم ہیں جوآپؓ کے حکم کے مطابق آپؓ کے اہلخانہ پرخرچ کرنے ہیں۔ فرمایا:جاؤسب لے آؤکیونکہ وہ شخص آیاہے جومیرے گھروالوں سے زیادہ ان درہموں کاحقدارہے۔چنانچہ آپؓ نے وہ درہم اس فقیرکودے دیے اورفرمایا:یہ لے لواوران کے کم ہونے پرمیں تم سے معافی چاہتاہوں،ہمیں ہرحال میں مہربانی ہی کاحکم ہے،یہ کم ہیں اگراورزیادہ ہوتے تووہ بھی تمہیں دے دیتا۔ فقیرنے درہم لیے اورآپؓ کودعائیں دیتااورتعریفیں کرتاہواخوشی سے رخصت ہو گیا۔(ابن عساکر،ج14،ص185)
سلام
طبع میں کیا، تیغ بُراں میں روانی چاہئے
گل فشانی تا کجا، اب خوں فشانی چاہئے
بستۂ زنجیر محکومی! خبر بھی ہے تجھے
مہر و مہ پر تجکو عزم حکمرانی چاہئے
مرقد شہزادۂ اکبر سے آتی ہے صدا
حق پہ جو مٹ جائے، ایسی نو جوانی چاہئے
شاہ فرماتے ہیں ’’جا لے جا خدا کے نام پر‘‘
موت جب کہتی ہے اکبر کی جوانی چاہئے
عمر فانی سے تو برگ کاہ تک ہے بہرہ مند
مرد کو ذوق حیات جاودانی چاہئے
کون بڑھتا ہے لہو تھوڑا سا دینے کیلئے
اے عزیزو! دین کی کھیتی کو پانی چاہئے
جن کے سینوں میں ہو سوزِ تشنگانِ کربلا
ان جواں مردوں کی تلواروں میں پانی چاہئے
جوش! ذکر جرأت مولا پہ شیون کے عوض
رخ پہ شان و فخر و ناز کامرانی چاہئے
(جوش ملیح آبادی)
شہید ِ کربلا
حکایتِ غمِ ہستی تمام کہتا ہوں
میں دِل کی بات بہ فیضِ امامؓ کہتا ہوں
عزیمت اُن کی ہے آئینۂ ضمیر نُما
اُنہیں سلام بہ صد احترام کہتا ہوں
ہے لازوال کچھ ایسا حسین ؓ کا کردار
اُسے بہار بقائے دوام کہتا ہوں
عبادتِ شبِ آخر وہ پورِ حیدرؓ کی
جسے وقارِ قعود و قیام کہتا ہوں
اُنہی کے در کو سمجھتا ہوں بابِ استقلال
اُنہی کے گھر کو میں دارالسلام کہتا ہوں
یہ انتساب ہے سرمایۂ ثبات مرا
کہ خود کو آلِ نبیؐ کا غلام کہتا ہوں
یہ حوصلہ بھی ہے تائب ، عنایت ِ شبیرؓ
جو حرفِ حق میں سرِ بزمِ عام کہتا ہوں
(حفیظ تائب)
جب اصغر معصوم کی گردن پہ لگا تیر
جب اصغر معصوم کی گردن پہ لگا تیر
اور شاہ کے بازو میں بھی پیوست ہوا تیر
ہاتھوں پہ تڑپنے لگا بچہ بھی جو کھا تیر
شہہ نے کہا اس پیاسے کو تھا مارنا کیا تیر
کب ہم نے کہا تھا کہ زبردستی سے لیں گے
اتنا ہی کہا ہوتا کہ ہم پانی نہ دیں گے
یہ جانتے تو خیمے سے لاتے نہ اسے ہم
تم نے ہمیں محجوب کیا بانو سے اس دم
یہ کہتے تھے ملعونوں سے بادیدہ پرنم
جو ہاتھوں یہ معصوم تڑپ کر ہوا بے دم
فرمایا اسے پہلوئے اکبر میں لٹا کر
تم ڈریو نہ اب ہم بھی یہیں سوتے ہیں آکر
بن ماں تم اکیلے کبھی سوئے نہیں اصغر
جنگل میں اکیلا تمہیں چھوڑونگا میں کیوں کر
پھر قبلے کی جانب یہ کہا ہاتھ اٹھا کر
سب فانی ہیں تو باقی ہے اے خالق اکبر
کیا کیا ہوئے مجھ پر ہیں ستم اہل جفا سے
پر پاؤں نہیں میرا ڈگا راہ رضا سے
(میر خلیق)
کام آئے تری راہ میں انصار بھی سارے
اور بیٹے جو زینب کے تھے بیٹوں سے بھی پیارے
وہ دونوں مری آنکھوں کے آگے گئے مارے
سرپر مرے سر بیٹوں نے مسلم کے بھی مارے
گر کوئی میرا یار و مددگار نہیں ہے
جز تیری مدد کچھ مجھے درکار نہیں ہے
(میر خلیق)