اختلاف رہے مگر جمہوریت کمزور نہ ہو

تحریر : طلحہ ہاشمی


کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ واقعے میں شہادتیں بھی ہوئی ہیں، کچھ دہشت گرد جہنم واصل ہوئے اور ایک دہشت گرد زخمی حالت میں پکڑا گیاجس نے نہ صرف اپنے جرم کا اعتراف کیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ اس کا تعلق افغانستان سے ہے۔

 اب یہ بات ہر ایک پر واضح ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث تنظیموں کو براہ راست افغان طالبان رجیم کی حمایت اور مدد حاصل ہے اور طالبان رجیم کو بھارت کی ہر قسم کی سپورٹ مل رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ وہی افغانستان ہے جس کے 40 لاکھ سے زائد شہریوں کو پاکستان نے دہائیوں تک بڑے فخر سے اپنا مہمان بنائے رکھا۔ ان افغانوں نے پاکستان کے طول و عرض میں کاروبار کیا اور پاکستان نے انہیں بہتر سے بہتر مواقع فراہم کیے۔ اب وہی افغانستان ہمارے خلاف بھارت کا ساتھ دے رہا ہے۔ افغان طالبان کو یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت کبھی مسلمانوں کا ہمدرد یا ساتھی نہیں ہوسکتا۔

 اب ایک نظر سیاسی منظر نامے پر بھی ڈال لیتے ہیں جہاں بلاول بھٹو زرداری کی قومی اسمبلی میں تقریر کا سایہ سندھ اسمبلی کے اجلاس پر چھایا رہا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے اپنے خطاب میں ایم کیو ایم پاکستان پر تنقید کی اور انہیں مشورہ دیا کہ اگر وفاقی حکومت، وزیراعظم ایم کیو ایم کے مطالبات نہیں مانتے، انہیں بار بار لالی پاپ دیتے ہیں تو ایم کیو ایم کب تک لالی پاپ پر گزارا کرے گی، اسے تو وفاقی حکومت چھوڑ دینی چاہیے، ساتھ ہی سوال بھی پوچھا کہ ایم کیو ایم کے لیے کراچی زیادہ اہم ہے یا یہ کرسیاں زیادہ اہم ہیں؟ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے بلاول بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے جواب دیا کہ چیئرمین پی پی پی سندھ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے صدرمملکت کا استعفیٰ لائیں ہماری طرف سے دو وفاقی وزرا کا استعفیٰ حاضر ہے، پی پی پی چیئرمین سینیٹ کا استعفیٰ رکھیں، دو گورنرز کا استعفیٰ رکھیں۔ انہوں نے سندھ میں پی پی پی کی مقبولیت کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ پی پی پی کی حکومت الیکٹ ایبلز کے مرہون منت ہے، اگر آج ان الیکٹ ایبلز کو آزاد الیکشن لڑنے کا شوق ہوجائے تو اگلے پانچ منٹ میں پیپلز پارٹی کی حکومت گرجائے گی۔بجٹ پر تنقید کے دوران اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ سندھ میں حکومتی بصیرت غائب ہوتی نظر آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر اس بجٹ کو کامیاب بجٹ کہتی ہے تو معلوم نہیں ان کے پاس ناکام بجٹ کی تعریف کیا ہوگی۔بقول ان کے، کرپشن کے بغیر سندھ میں کوئی کام نہیں ہوتا، سرکاری افسران کمیشن لیتے ہیں اور اسے اپنا حق بھی سمجھتے ہیں۔اپوزیشن لیڈر نے سانحہ گل پلازہ کمیشن کی رپورٹ بھی منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ علی خورشیدی کی تنقید کے دوران وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، سعید غنی اور ان کے پیچھے بیٹھے پی پی پی اراکینِ اسمبلی اور سپیکر مسکراتے رہے۔مگروزیراعلیٰ مراد علی شاہ کہاں چوکنے والے تھے، انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کی رپورٹ تیار ہے اور اسے عوام کے سامنے لانے میں حکومت کو کوئی اعتراض نہیں، ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے لیکن انہوں نے ایم کیو ایم کو سانحہ بلدیہ فیکٹری بھی یاد دلایا اور کہا کہ کراچی میں ایک بڑا سانحہ ہوا تھا، فیکٹری میں آگ یونہی تو نہیں لگی ہوگی، کوئی تو اس کا ذمہ دار ہوگا۔ استعفے کی بات پر مراد علی شاہ نے دفاعی انداز اختیار کیا اور کہا کہ ہم تو کسی کو استعفیٰ دینے کا نہیں کہہ رہے۔ ایم کیو ایم پر طنز بھی کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی وفاق کا حصہ نہیں ہے لیکن اپنی بات منوا کر رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی ہر زبان بولنے والے اس ایوان کا حصہ ہیں، کوئی اور اسمبلی یہ دعویٰ نہیں کرسکتی۔ اس دھرتی کو اسی طرح تسلیم کیا جانا چاہیے۔وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بجٹ کے کئی فوائد بھی ایوان کے سامنے رکھے اورصوبے کی ترقی کے لیے سب کے متحد ہونے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔یہ دیکھ کر اچھا لگاکہ ایک دوسرے کی بات کو سنا گیا اور پھر اس کا جواب دیا، یہی رویہ جمہوریت کو نہ صرف مضبوط کرتا ہے بلکہ چور دروازوں سے سیاست میں نقب لگانے والوں کو روکنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ضرورت صرف اس کی ہے کہ ایک دوسرے سے اختلاف رکھیں، تنقید کریں لیکن جمہوریت کے لیے یک جان ہوجائیں۔

ادھرکراچی کے ایک شہری کا بلوچستان میں اندوہناک قتل بھی آجکل موضوع بحث ہے۔ علی مرتضیٰ اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ہمراہ کوئٹہ گھومنے گیا، واپسی پر راستہ بھٹک کر دشت کے علاقے میں چلا گیا جہاں ان کی گاڑی پر فائرنگ ہوگئی، علی مرتضیٰ جاں بحق ہوگیا، اس کی اہلیہ زخمی ہوئیں۔ دوسری طرف سندھ میں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کی وارداتیں جاری ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں سال کے چھ ماہ میں 69افراد کو قتل کیا جاچکا ہے، ان میں 57خواتین شامل ہیں۔ ہم انہی سطور میں متعدد بار کاروکاری قرار دے کر قتل کیے جانے کے واقعات کو بیان کرتے رہے ہیں اور ایک بار پھر حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ قانون پر سختی سے عمل کرائے۔

ایسا لگتا ہے کہ شرمیلا فاروقی کا کراچی کو پیرس قرار دینا خود اُن کے ذہن پر سوار ہوگیا ہے، انہوں نے ایک بار پھر فرانس کا ذکر کیا، جہاں شدید گرمی میں راحت پانے کے لیے غیرمحفوظ مقامات پر نہانے کے دوران 40سے زائد افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ بقول شرمیلا فاروقی اگر ایسا واقعہ کراچی میں ہوتا تو لوگ وزیراعلیٰ کے استعفے کا مطالبہ شروع کردیتے۔ ہمارا توان سے یہی کہنا ہے کہ آپ نے کراچی کو پیرس کہا لوگ اسے آپ کی معصومانہ خواہش کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اچھے خواب دیکھتے رہنا چاہیے، رات گئی بات گئی! اب بار بار کیوں عوام کو کراچی اور پیرس کا موازنہ یاد دلاتی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بھوکوں کو کھانا کھلانا، عظیم اسلامی فریضہ

نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’بہترین صدقہ یہ ہے کہ تو کسی بھوکے کوپیٹ بھر کھانا کھلائے‘‘(حدیث مبارکہ) ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے افضل اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایاکھانا کھلانا، ہر شخص کو سلام کرنا خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو (بخاری، مسلم) ’’ بیوہ اور مسکین کی مدد کیلئے دوڑ دھوپ کرنے والا ایسا ہے جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں دوڑ دھوپ کرنے والا‘‘(حدیث)

اہل علم کی اخلاقی ذمہ داریاں

اہل علم کیلئے ضروری ہے کہ تقویٰ اختیار کریں اور ہر خاص وعام کو نصیحت کریں، لوگوں کی توہین نہ کریں، انہیں عزت دیں تاکہ ان کی عزت ہو

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت

آپ ؓ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام ؓ میں ہوتا ہے

مسائل اور ان کا حل

کاسٹک سوڈا کا استعمال سوال :کیاصفائی کرنے والی اشیا میں کاسٹک سوڈا کا استعمال جائز ہے؟(سرفرازحمید کراچی)

سندھ طاس معاہدہ اسلام آباد میں بڑی بیٹھک

بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرکے پاکستان کے حصے کے دریاؤں پر آبی جارحیت کرنا چاہ رہا ہے اور چناب سمیت دیگر دریاؤں پر نئے آبی منصوبوں کو تیز کر رہا ہے ۔

سنگین جرائم کے خلاف مجوزہ بل، سپیکر کے تحفظات یا اختلافات؟

گزشتہ دنوں پنجاب میں عادی مجرموں اور سماج مخالف رویوں کی روک تھام کے لیے مجوزہ قانون سازی اہم ایشو بن گئی۔