مراعات کا قانون تنقید کی زد میں

تحریر : عابدحمید


خیبرپختونخوا اسمبلی نے ایک ایسا بل پاس کردیا ہے جس میں اراکینِ اسمبلی کو لاتعداد مراعات اور صحافیوں کے خلاف کارروائی کیلئے سپیکر کو وسیع تر اختیارات دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

 یہ بل چند ماہ قبل پیش کیاگیاتھا جسے شدید تنقید کے بعد کمیٹی کے حوالے کردیاگیا مگراب اس میں مزید ترامیم کرکے اس بل کو نہ صرف منظور کرلیاگیا ہے بلکہ اس پر گورنر نے دستخط بھی کردیئے ہیں اوراس قانون کا گزٹ اعلامیہ بھی جاری کردیاگیا ہے جس کے مطابق خیبرپختونخوا کے اراکین اسمبلی اور ان کے شریک حیات کو بھی بلیو پاسپورٹ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس کی تعداد بھی چار سے آٹھ کردی گئی ہے جو ایم پی ایز کو ملیں گے۔ اراکین اسمبلی کو جسٹس آف پیس کے اختیارات بھی دیئے گئے ہیں۔اس قانون میں صحافیوں کے حوالے سے سخت سزائیں اور جرمانے تجویز کئے گئے ہیں۔مثلاً یہ کہ وہ اسمبلی کی کسی بھی کارروائی کو چلانے کیلئے سپیکر کی اجازت کے پابند ہوں گے۔گزٹ اعلامیے کے مطابق کسی بھی رکن اسمبلی کو دھمکانے،حملہ کرنے یا راستہ روکنے پر چھ ماہ قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ کیاجائے گا۔ اسمبلی اجلاس یا کمیٹی میں رکن کی توہین یا رکاوٹ ڈالنا بھی قابلِ سزا عمل قرار دیاگیا ہے۔ اسمبلی یا کمیٹی کے سامنے سوال کا جواب دینے سے انکارپر دو ماہ قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ عائد کیاجاسکے گا۔اسمبلی کارروائی کی جھوٹی یا مسخ شدہ رپورٹ شائع کرنا بھی قابلِ سزا جرم تصور ہو گا۔اسمبلی کی جعلی رپورٹ،کارروائی یا سرکاری دستاویزشائع کرنے پر بھی چھ ماہ قید ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازیں اسمبلی یا سپیکر کے قانونی احکامات نہ ماننے پر تین ماہ قید او ر دس لاکھ روپے جرمانہ کیا جاسکتا ہے جبکہ اجازت منسوخ ہونے کے باوجود میڈیا نمائندے کے اجلاس میں شرکت کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسمبلی اور کمیٹیاں کسی بھی شخص یا ریکارڈ کو طلب کرسکیں گی۔سپیکر کے کردار یا غیر جانبداری پر الزام لگانا جرم قرار دیاگیا ہے۔ سپیکر کے خلاف اب مواد شائع کرنے پر تین ماہ قید یا جرمانہ بھی کیاجاسکتا ہے۔ سب سے دلچسپ شق یہ ہے کہ اسمبلی یا کمیٹی کی کارروائی سرکاری اشاعت سے پہلے شائع کرنے پر بھی سزا مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح اسمبلی میں سوال کا جواب آنے سے پہلے شائع کرنا بھی جرم قرار پایا ہے۔ تحریک التوا اسمبلی میں پیش ہونے سے پہلے شائع کرنے پر بھی کارروائی کی جاسکے گی۔

 خیبرپختونخواسے تعلق رکھنے والی صحافی تنظیموں بالخصوص خیبریونین آف جرنلسٹس نے اس قانون کی مذمت کی ہے اور اس حوالے سے لائحہ عمل بنانے کااعلان کیا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ویژن کے مطابق جو جماعت آزادیٔ اظہار کے حق کی سب سے بڑا داعی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، جو سٹیٹس کو توڑنے کی دعویدار تھی اس نے ایسا قانون خاموشی کے ساتھ کیوں منظور کیا جس کی کانوں کان کسی کو خبرنہ ہوئی ؟ایسا قانون کیوں منظور کیاگیا کہ صحافی اسمبلی کی کسی بھی قسم کی کارروائی کورپورٹ نہ کرسکیں ؟سپیکر اور اراکین اسمبلی کو لامحدود مراعات اور اختیارات کیوں دیئے گئے ؟ بانی پی ٹی آئی اگر جیل میں نہ ہوتے تو وہ اس قسم کے قانون کی اجازت دیتے؟اگرچہ پیکا ایکٹ کابانی بھی پی ٹی آئی کو ہی سمجھا جاتا ہے لیکن خیبرپختونخوا اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ قانون بھی اس سے کم نہیں۔ کیا یہ قانون مراعات سے زیادہ صحافت کا گلا دبانے کیلئے اس لئے منظور کیاگیا کہ خیبرپختونخوا میں مبینہ مالی بے قاعدگیوں کی خبریں آرہی ہیں؟ کیا خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ختم ہوگئی ہے؟کیا قبائلی اضلاع میں امن وامان آگیا ہے؟ کیا قبائلی اضلاع سمیت دیگرعلاقوں کی پسماندگی ختم ہوگئی ہے؟کیا وفاق کے ذمہ واجب الادا رقوم، جن کا صوبائی حکومت ہر وقت ذکر کرتی ہے، وصول کرلی گئی ہیں؟ان سب سوالات کے جوابات نفی میں ہیں۔ آخر صوبائی حکومت کو ایسی کیا مشکل آن پڑی کہ ایسا قانون عجلت میں اور خاموشی سے پاس کیاگیا؟ 

 سب سے افسوسناک پہلویہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بھی اس میں برابر کی شریک ہیں۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ( ن)،جے یو آئی سمیت اسمبلی میں موجود تمام اپوزیشن اراکین اس قانون کی حمایت کررہے ہیں۔ یہاں محمود و ایاز ایک صف میں کھڑے ہیں، لیکن جب بات عوام کے حقوق اور انہیں سہولیات فراہم کرنے کی آئے تو چائے کی پیالی میں طوفان اٹھادیاجاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے اپنے ووٹرز اور سپورٹرز اس بل کو تنقید کانشانہ بنارہے ہیں۔ ووٹرز کی جانب سے پوچھا جارہاہے کہ اتنی رازداری برتنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ وہ کہہ رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں دیاجاسکا لیکن اپنے لئے تاحیات مراعات لینے کیلئے حکومت اور اپوزیشن سب کیسے اکٹھے ہوگئے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان کی جانب سے پہلے تو اس قانون سے انکار کیاگیا بعدازاں وضاحت پیش کی گئی کہ یہ قوانین پہلے سے موجود تھے لیکن ان میں اب ترامیم کرکے انہیں مؤثر بنایاگیا ہے لیکن یہ توجیح بھی بودی ہے، یہاں یہی ایک سوال بار بار اٹھتا ہے کہ آخر ایسے قانون کی ضرورت کیوں پڑی؟غریب عوام کیلئے سرکاری ریسٹ ہاوسز کے دروازے تو بند ہیں لیکن اراکین اسمبلی کرکٹ ہاؤس اور سرکاری ریسٹ ہاؤس مفت استعمال کرسکیں گے۔ عوام کی جان ومال تو محفوظ نہیں لیکن اراکین اسمبلی کو بی کیٹیگری کی سکیورٹی دی جائے گی اور اگرزیادہ خطرہ ہوا تو اے کیٹیگری کی سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ ایک طرف عوام بھوکوں مررہے ہیں تو دوسری جانب اراکین اسمبلی کی تنخواہیں اور درجنوں مراعات کتنی بڑھیں گی اس کا تعین فنانس کمیٹی کرے گی، یعنی اب ایم پی ایز کی فکس تنخواہ یا مراعات نہیں کمیٹی جب چاہے اضافے کی سفارش کردے اور جتنا دل چاہے اضافہ کردے۔ اگراس قسم کے قوانین کسی اور جماعت کی طرف سے آئے ہوتے تو یقینا پی ٹی آئی کی جانب سے اس پر بھر تنقید کی جاتی لیکن سٹیٹس کو توڑنے والی جماعت نے خود ایسے قوانین متعارف کروادیئے ہیں جوآنے والے دنوں میں اس جماعت کیلئے بوجھ بن جائیں گے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے گورنر کے اختیارات میں بھی کمی کردی ہے۔ ترمیمی بل کے تحت اب چیئرمین پبلک سروس کمیشن کا تقرر گورنر وزیراعلیٰ کی مشاورت سے کریں گے۔ اسی طرح انتظامی امورمیں گورنر وزیراعلیٰ یا کابینہ کے مشورے کے مطابق عمل کریں گے۔ گورنر کا عہدہ ویسے بھی علامتی رہ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت کیاگورنر کو دی جانے والی مراعات میں بھی کمی کرے گی یا نہیں ؟شاید ایسا نہ ہوکیونکہ اس دوران جب صوبائی حکومت اراکین اسمبلی کی مراعات میں بے تحاشا اضافہ کررہی ہے، گورنر کی مراعات میں کمی کرکے اپنے لئے نیا تنازع پیدا نہیں کرنا چاہتی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم

لاہور ہائی کورٹ میں اصلاحات ،جدید عدالتی نظام اور فوری انصاف کا نیا باب:دوسالہ دور میں عدالتی ،انتظامی ،ڈیجیٹل اور انفراسٹرکچر اصلاحات کی نئی تاریخ رقم

انمول رشتہ

فراز اپنے چھوٹے بھائی سرمد سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ وہ جہاں بھی جاتا، سرمد کا خیال رکھتا اور اپنی ہر چیز اسے دیتا لیکن اس قدر پیار کے باوجود، سرمد کی کچھ عادات فراز کو سخت ناپسند تھیں۔

خوبانی: صحت بخش پھل

گرمیوں کے موسم میں آنے والے مزیدار پھلوں میں خوبانی ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ اپنے سنہری زرد رنگ، خوشبودار ذائقے اور نرم گودے کی وجہ سے یہ بچوں اور بڑوں سب کی پسندیدہ ہوتی ہے۔

قلعہ بران :رومانیہ کا پراسرار تاریخی شاہکار

رومانیہ کے خوبصورت پہاڑی سلسلے کارپیتھین کے دامن میں واقع قلعہ بران دنیا کے مشہور تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

فوقی نے اک چوزہ پالا

فوقی نے اک چوزہ پالا،چوں چوں چوں چوں کرنے والا

نصیحت آموز باتیں

٭…ہمیشہ سچ بولیں۔