قومی کھیل کی بحالی اور نئے ٹیلنٹ کا امتحان
جنوبی کوریا ہاکی ٹیم کا دورہ پاکستان:گرین شرٹس نے مہمان ٹیم کو پہلے تین میچوں میں شکست دے کر ہاکی ٹیسٹ سیریز اپنے نام کی
پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان اسلام آباد میں کھیلی گئی چار میچوں پر مشتمل ہاکی ٹیسٹ سیریز قومی کھیل کی بحالی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی ہے۔ سیریز کے ابتدائی تین میچوں میں شاندار کارکردگی اور مسلسل فتح کے ساتھ پاکستان نے نہ صرف سیریز 1-3 سے اپنے نام کی، بلکہ یہ ثابت کیا کہ ایشیائی سطح پر پاکستانی ہاکی کا جادو ایک بار پھر سر چڑھ کر بول سکتا ہے۔ اگرچہ سیریز کے آخری اور چوتھے میچ میں جنوبی کوریا نے 2-6 کے بھاری مارجن سے کامیابی حاصل کی، لیکن اس کے پیچھے پاکستان ہاکی فیڈریشن(پی ایچ ایف)کا ایک جرات مندانہ اور دور اندیشانہ فیصلہ شامل تھا،پاکستان ہاکی مینجمنٹ نے چوتھے میچ میں مستقبل کی تیاری کے پیش نظر انڈر 21 کھلاڑیوں کو موقع دیا تاکہ نوجوان ٹیلنٹ کو بین الاقوامی سطح پر تجربہ حاصل ہو سکے۔
چاروں میچز کا مختصر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیریز کے آغاز سے ہی پاکستان نے جارحانہ ہاکی کا مظاہرہ کیا۔ پہلے تینوں میچوں میں قومی سینئر کھلاڑیوں نے ڈومیننٹ کھیل پیش کرتے ہوئے حریف ٹیم کو ہر شعبے میں مات دی۔ پہلے میچ میں دفاعی کنٹرول اور بہترین فیلڈ گولز کے ذریعے فتح حاصل کی گئی، دوسرے میچ میں پینلٹی کارنرز کو گولز میں بدلنے کی صلاحیت نمایاں رہی، جبکہ تیسرے میچ میں حریف پر مسلسل دبائو برقرار رکھ کر سیریز میں 0-3 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر لی گئی۔
سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے جنوبی کوریا کو 1-3 سے شکست دی، جس میں قومی ٹیم کی جانب سے سفیان خان نے پینلٹی کارنرز پر 2 گول اور کپتان ابوبکر محمود نے 1 گول اسکور کیا، جبکہ جنوبی کوریا کی طرف سے جی ہون یانگ نے واحد گول بنایا۔ دوسرے ٹیسٹ میچ میں بھی پاکستان نے 1-3 سے کامیابی حاصل کی۔ اس مقابلے میں جنوبی کوریا کے سن دین نے پہلا گول کر کے برتری قائم کی تھی، تاہم پاکستان کے عبدالرحمن نے 1 گول کر کے مقابلہ برابر کیا اور کپتان ابوبکر محمود نے مزید 2 پینلٹی کارنر گولز داغ کر ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرایا۔ سنسنی خیز تیسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے جنوبی کوریا کو 3-4 سے ہرا کر سیریز میں 0-3 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر لی، اس میچ میں جنوبی کوریا کی جانب سے کم ہیونگ جن، یانگ جی ہون اور کم یونگ بوک نے ایک ایک گول کیا، جبکہ پاکستان کی طرف سے زکریا حیات، رانا وحید اشرف، عبدالرحمن اور حنان شاہد نے ایک ایک گول اسکور کیا۔
سیریز کا چوتھے اور آخری ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے انڈر 21 ٹیم کو میدان میں اتارنے کا اہم تجربہ کیا۔ اگرچہ نوجوان کھلاڑیوں کو تجربہ کار کورین سائیڈ کے ہاتھوں 2-6 سے شکست کا سامنا کرنا پڑاجس میں جنوبی کوریا کی جانب سے یانگ جی ہن، او سییانگ، لم ڈوین، کم ہائن کانگ اور کم یانگ بک نے گول کیے جبکہ پاکستان کے ایم احمد اور غلام مصطفی ہی گیند کو جال کی راہ دکھا سکے۔ تاہم اس میچ کا مقصد محض فتح نہیں بلکہ جونیئر کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح کا ایکسپوژر دینا تھا۔
انفرادی اور اجتماعی کارکردگی کے نقطہ نظر سے، اس سیریز نے ٹیم کے اہم اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو کھل کر سامنے لایا ہے۔ سینئر ٹیم کے تجربہ کار کھلاڑیوں نے ابتدائی تین میچوں میں اٹیکنگ ہاکی اور مضبوط پینلٹی کارنر ڈیفنس کا مظاہرہ کیا، جو عالمی سطح پر پاکستان کیلئے اکثر کمزوری ثابت ہوتا رہا ہے۔ دوسری جانب آخری میچ میں انڈر 21کے ایم احمد اور غلام مصطفی کی جانب سے کیے گئے گولز اس بات کا ثبوت ہیں کہ جونیئر سطح پر خام ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان نوجوان کھلاڑیوں کو دبائوکے تحت کھیلنے کا مزید موقع دیا جائے تاکہ وہ اپنی تکنیکی خامیاں، جیسے کہ دفاعی خلا اور گیند کا سست تبادلہ، دور کر سکیں۔
ہاکی ٹیسٹ سیریز میں پاکستان قومی ٹیم کے جارحانہ کھیل اور شاندار کارکردگی پر انفرادی اعزازات پاکستان ہی کے ڈرامائی اور بہترین کھیل پیش کرنے والے کھلاڑیوں کے نام رہے، جن میں سیریز کا بہترین کھلاڑی(پلیئر آف دی سیریز)حیات زکریا کو قرار دیا گیا جبکہ سیریز کے بہترین گول کیپر کا اعزاز پاکستان کے نوجوان گول کیپر منیب الرحمان نے اپنے نام کیا۔ اس کے علاوہ پینلٹی کارنر اور ڈریگ فلکنگ کے ماہر کپتان ابوبکر محمود اور سفیان خان بہترین سکورر اور ٹاپ اسکورر کے طور پر نمایاں رہے، جن کی متواتر گول اسکورنگ کی بدولت پاکستان نے جنوبی کوریا کے خلاف اس چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں حتمی فتح اور برتری حاصل کی۔
مجموعی طور پریہ سیریز پاکستان ہاکی کے مستقبل کیلئے انتہائی سودمند ثابت ہوئی ہے۔ تین ،ایک سے سیریز کی فتح نے سینئر ٹیم کے اعتماد کو بحال کیا ہے، جبکہ آخری میچ میں جونیئرز کو آزمانے کا فیصلہ مستقبل کی بینچ سٹرینتھ (Bench Strength)کو مضبوط کرنے کی جانب ایک عملی قدم ہے۔ اگر پاکستان ہاکی فیڈریشن اسی حکمتِ عملی پر کاربند رہتے ہوئے جونیئر اور سینئر کھلاڑیوں کا متوازن امتزاج برقرار رکھتی ہے، تو قومی ہاکی ٹیم بہت جلد بین الاقوامی اور ایشیائی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
حالیہ ہاکی سیریز میں فتح کے بعد انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن(ایف آئی ایچ)کی عالمی رینکنگ کے مطابق پاکستان ایک درجہ ترقی کے بعد عالمی رینکنگ میں(2549.86 پوائنٹس) کے ساتھ 12ویں پوزیشن پرآگیا۔ جنوبی کوریا عالمی رینکنگ میں 23ویں پوزیشن پر چلا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments