چڑیا: ہمارے آنگن کی چہچہاتی مہمان
قدرت نے زمین کو بے شمار خوبصورت مخلوقات سے آراستہ کیا ہے، جن میں پرندے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہی پرندوں میں ایک ننھی سی چڑیا بھی شامل ہے، جو صدیوں سے انسان کے قریب رہنے والی مخلوق سمجھی جاتی ہے۔
کبھی گھروں کے آنگن، چھتوں، درختوں اور کھیتوں میں اس کی چہچہاہٹ ہر وقت سنائی دیتی تھی، مگر جدید شہری زندگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے اس معصوم پرندے کی تعداد کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔
گھریلو چڑیا، جس کا سائنسی نام ’’Passer domesticus‘‘ہے، دنیا کے سب سے عام پرندوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 14 سے 16 سینٹی میٹر جبکہ وزن 24 سے 40 گرام کے درمیان ہوتا ہے۔ نر چڑیا کے گلے پر سیاہ دھبہ اور سر پر سرمئی رنگ نمایاں ہوتا ہے، جبکہ مادہ چڑیا بھورے اور ہلکے رنگ کی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے دونوں کو آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔
چڑیا کی خوراک میں اناج، مختلف اقسام کے بیج، گھاس کے دانے، چھوٹے کیڑے مکوڑے، نرم پھل اور گھروں سے ملنے والے خوراک کے ذرات شامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پرندہ زرعی ماحول میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ یہ فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کئی کیڑوں کو کھا کر قدرتی توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
گھریلو چڑیا عموماً گھروں کی چھتوں، روشندانوں، عمارتوں کی دراڑوں، درختوں کی شاخوں اور کھیتوں کے قریب اپنا گھونسلہ بناتی ہے۔ یہ سال میں دو سے چار مرتبہ انڈے دیتی ہے اور ایک بار میں عموماً تین سے چھ انڈے ہوتے ہیں۔ تقریباً دس سے چودہ دن بعد ان انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں، جن کی پرورش نر اور مادہ دونوں مل کر کرتے ہیں۔
چڑیا کو حیاتیاتی تنوع کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی موجودگی اس بات کا اشارہ ہوتی ہے کہ ماحول نسبتاً صحت مند اور متوازن ہے۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا کے کئی شہروں میں اس کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق درختوں اور سبزہ زاروں میں کمی، جدید طرزِ تعمیر میں گھونسلہ بنانے کی جگہوں کا فقدان، کیڑے مار ادویات کا بے دریغ استعمال، فضائی آلودگی اور شور کی بڑھتی ہوئی سطح اس کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔
چڑیوں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ہر سال 20 مارچ کو’’ ورلڈ اسپیرو ڈے‘‘ منایا جاتا ہے۔ اس دن دنیا بھر میں عوام کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اگر ہم درخت لگائیں، چڑیوں کیلئے پانی اور دانے کا انتظام کریں تو اس خوبصورت پرندے کی چہچہاہٹ دوبارہ ہمارے آنگنوں کی رونق بن سکتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments