چڑیا: ہمارے آنگن کی چہچہاتی مہمان

تحریر : اسد بخاری


قدرت نے زمین کو بے شمار خوبصورت مخلوقات سے آراستہ کیا ہے، جن میں پرندے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہی پرندوں میں ایک ننھی سی چڑیا بھی شامل ہے، جو صدیوں سے انسان کے قریب رہنے والی مخلوق سمجھی جاتی ہے۔

 کبھی گھروں کے آنگن، چھتوں، درختوں اور کھیتوں میں اس کی چہچہاہٹ ہر وقت سنائی دیتی تھی، مگر جدید شہری زندگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے اس معصوم پرندے کی تعداد کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔

گھریلو چڑیا، جس کا سائنسی نام ’’Passer domesticus‘‘ہے، دنیا کے سب سے عام پرندوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 14 سے 16 سینٹی میٹر جبکہ وزن 24 سے 40 گرام کے درمیان ہوتا ہے۔ نر چڑیا کے گلے پر سیاہ دھبہ اور سر پر سرمئی رنگ نمایاں ہوتا ہے، جبکہ مادہ چڑیا بھورے اور ہلکے رنگ کی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے دونوں کو آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔

چڑیا کی خوراک میں اناج، مختلف اقسام کے بیج، گھاس کے دانے، چھوٹے کیڑے مکوڑے، نرم پھل اور گھروں سے ملنے والے خوراک کے ذرات شامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پرندہ زرعی ماحول میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ یہ فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کئی کیڑوں کو کھا کر قدرتی توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

گھریلو چڑیا عموماً گھروں کی چھتوں، روشندانوں، عمارتوں کی دراڑوں، درختوں کی شاخوں اور کھیتوں کے قریب اپنا گھونسلہ بناتی ہے۔ یہ سال میں دو سے چار مرتبہ انڈے دیتی ہے اور ایک بار میں عموماً تین سے چھ انڈے ہوتے ہیں۔ تقریباً دس سے چودہ دن بعد ان انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں، جن کی پرورش نر اور مادہ دونوں مل کر کرتے ہیں۔

چڑیا کو حیاتیاتی تنوع کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی موجودگی اس بات کا اشارہ ہوتی ہے کہ ماحول نسبتاً صحت مند اور متوازن ہے۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا کے کئی شہروں میں اس کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق درختوں اور سبزہ زاروں میں کمی، جدید طرزِ تعمیر میں گھونسلہ بنانے کی جگہوں کا فقدان، کیڑے مار ادویات کا بے دریغ استعمال، فضائی آلودگی اور شور کی بڑھتی ہوئی سطح اس کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔

چڑیوں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ہر سال 20 مارچ کو’’ ورلڈ اسپیرو ڈے‘‘ منایا جاتا ہے۔ اس دن دنیا بھر میں عوام کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اگر ہم درخت لگائیں، چڑیوں کیلئے پانی اور دانے کا انتظام کریں تو اس خوبصورت پرندے کی چہچہاہٹ دوبارہ ہمارے آنگنوں کی رونق بن سکتی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کفایت شعاری اپنائیں،گھریلو اخراجات کم کریں

مہنگائی کے موجودہ دور میں گھر کا بجٹ متوازن رکھنا ایک اہم ذمہ داری بن چکا ہے۔ آمدنی محدود ہو اور اخراجات بڑھتے جائیں تو گھر کا نظام چلانا مشکل محسوس ہوتا ہے۔

خشک موسم اور جلد کے مسائل

موسم میں تبدیلی کا اثر صرف ہمارے لباس، خوراک اور روزمرہ معمولات پر نہیں پڑتا بلکہ ہماری جلد بھی اس تبدیلی سے متاثر ہوتی ہے۔

آج کا پکوان:حیدرآبادی بریانی

اجزا: چکن : ایک کلو ۔دہی :ایک کپ۔ادرک لہسن پیسٹ : دو چمچ۔ہری مرچ پیسٹ :ایک چمچ۔لیمن جوس:دو چمچ۔لال مرچ پاؤڈر :ایک چمچ۔دھنیا پاؤڈر ایک چمچ۔زیرہ پاؤڈر: ایکچمچ۔گرم مصالحہ پاؤڈر: ایک چمچ۔

رئیس امروہوی قلمروئے سخن کے اہم فرمانروا

آج 38ویں برسی حسنِ فکر و تصور اور شعورِ ادب و ادراک کے ساتھ ان کا ابلاغ و اظہار بھی بہت حسین تھا رئیسؔ کی موت کسی کلاسیکی یونانی ڈرامے کا آخری سین معلوم ہوتی ہے‘ اس سین میں ڈرامے کا ہیرو علم وادب کے ساتھ اپنی بے پایاں محبت کا اظہار کرتے ہوئے جان دے دیتا ہےرئیس امروہوی سیاسی قطعہ نگاری کے با وا آدم تھے ‘ ایک بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں کوئی شاعر بھی اس میدان میں اُن کا حریف نہیں ہے

فیض احمد فیض کی انفرادیت

فیض احمد فیض کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں عالمی سطح پر حریتِ فکر کو موضوع بنایا۔ فلسطین ہو یا لبنان، یا افریقہ میں جبریت اور سامراجی نظام کا پھیلا ہوازہر، وہ اس کے خلاف فکری ہی نہیں عملی طور پر بھی پیش پیش نظر آتے رہے۔

کھیلوں کاایشیائی میلہ جاپان مین سج گیا

20ویں ایشین گیمز 2026ء: گرین شرٹش مختلف کھیلوں میں مجموعی طور پر4سے 6 تمغے جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں: افتتاحی تقریب میں سکواش کے کھلاڑی نور زمان اور پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے پرچم تھامے قومی دستے کی قیادت کی: پاکستان کے 7 بہترین شوٹرز این او سی جبکہ پاکستان بیس بال ٹیم سپانسر نہ ملنے کے باعث ایشین گیمز کا حصہ بننے سے محروم رہ گئے