شفقت ورحمت ۔۔۔۔اسلام کا آفاقی پیغام !
’’پھر وہ ان لوگوں میں سے ہوتا ہے جو ایمان لائے ایک دوسرے کو صبر اور رحم کرنے کی وصیت کرتے رہتے ہیں‘‘(سورۃ البلد: 17) اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’جو لوگوں پررحم نہیں کرتا اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرئے گا‘‘(الحدیث) ’’اللہ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں، ان میں سے ایک رحمت پوری مخلوق میں تقسیم کی اور باقی ننانوے رحمتیں اپنے پاس رکھی ہیں‘‘( صحیح مسلم )
دین اسلام میں اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کے بارے میں بہت واضح احکامات دیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ صرف اس کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی بھی قسم کا شرک نہ کیا جائے۔ اللہ کی مخلوق یا اس کے بندوں کا حق یہ ہے کہ ان کے ساتھ احسان، حسن خلق، شفقت اور رحمت سے پیش آیا جائے۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں۔ ان میں سے ایک رحمت پوری مخلوق میں تقسیم کی اور باقی ننانوے رحمتیں اپنے پاس رکھی ہیں‘‘ ۔ اس حدیث سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اللہ اپنی مخلوق کیلئے کتنا مہربان اور مشفق ہے، اس کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت و شفقت سے پیش آئیں اور ایک دوسرے سے اچھا سلوک کریں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے اندر بے شمار خوبیوں میں سے ایک نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ آپس میں نہایت رحیم وکریم اور شفیق و مہربان تھے۔ قرآن کریم نے اس پر یوں شہادت دی ہے: محمد رسول اللہﷺ کے صحابہ ؓکافروں پر سخت اور آپس میں رحمدل ہیں‘‘۔
مسلمان رحمدل ہوتا ہے اور رحم کرنا اس کی عادت ہوتی ہے۔ جو مسلمان رحمدل نہیں وہ ایمان کی لذت سے محروم ہے۔ ایسے مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے ایمان کا جائزہ لے اور اپنی اصلاح کرے۔ ایمان کی لذت سے آشنا مسلمان خود بھی رحم کرتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی تاکید کرتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایمان والوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’پھر وہ ان لوگوں میں سے ہوتا ہے جو ایمان لائے ایک دوسرے کو صبر اور رحم کرنے کی وصیت کرتے رہتے ہیں، یہی لوگ دائیں جانب والے یعنی سعادت مند ہوتے ہیں‘‘ (سورۃ البلد: 17،18)۔ کسی شخص کا رحمدل ہونا، دوسروں کے غم اور پریشانی پر اس کا تڑپ اٹھنا، مشکل میں لوگوں کے کام آنا اس کے عمدہ ایمان اور اعلیٰ اخلاق کی نشانی ہے۔
اقرع بن حابسؓ بنو تمیم کے بڑا سردار تھے۔ ایک وقت آیا کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ اللہ کے رسولﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں آپﷺ کے نواسے سیدنا حسن بن علیؓ آتے ہیں۔ یہ چھوٹی عمر کے تھے اور اللہ کے رسولﷺ کو بے حد محبوب تھے۔ آپﷺ نے سیدنا حسنؓ کو اپنے سینے سے لگاکر ان کا منہ محبت سے بار بار چوما۔ اقرع بن حابسؓ یہ منظر دیکھ رہے تھے، کہنے لگے: میرے دس بچے ہیں، میں نے تو کبھی ان کو نہیں چوما۔ اللہ کے رسولﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا: ’’جو لوگوں پررحم نہیں کرتااللہ بھی اس پر رحم نہیں کرے گا‘‘۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کیلئے حالات سازگار ہوں، لوگ اس کے ساتھ محبت کریں، اس کی عزت و احترام کریں اور اس کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں تو اسے چاہئے کہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک عورت کو محض اس لیے عذاب ہوا کہ اس نے ایک بلی کو باند ھ کر رکھا، جس وجہ سے وہ بھوکی پیاسی مر گئی۔ اللہ کی طرف سے اسے روز قیامت کہا جائے گا: تو نے باندھ کر اسے کھانا دیا نہ پانی دیا، نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ زمینی جانور یا دیگر چیزیں کھا کر گزارا کر لیتی۔ چنانچہ اسے جہنم کی طرف روانہ کر دیا جائے گا۔ بظاہر دیکھا جائے تو بلی ایک عام سی مخلوق سمجھی جاتی ہے، ہم اسے کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے مگر یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق تو ہے۔ اس پر رحم کرنا بھی ضروری ہے۔ احادیث میں یہ واقعہ بھی مذکور ہے کہ بنی اسرائیل کے دور میں ایک پیاسا کتا کنوئیں کے قریب کھڑا پیاس سے ہانپ رہا تھا۔ قریب تھا کہ وہ گرمی کی حدت اور پیاس کی شدت سے مر جاتا اتنے میں فاحشہ کا وہاں سے گزر ہوا۔ اس نے جب کتے کو اس حالت میں دیکھا تو کنوئیں سے پانی نکال کر اسے پلایا اللہ کو اس فاحشہ کا یہ عمل اتنا پسند آیا کہ اسی عمل کی برکت سے ہی اسے معاف کر دیا۔
اسلام ایک ایسا خوبصورت دین ہے جو ہمیں صرف کلمہ گو بہن بھائیوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہمیں کافروں کے ساتھ بھی نرمی کا اور حسن سلوک کا حکم دیتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ گزر رہا تھا۔ آپﷺ جنازے کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ عرض کیا گیا اے اللہ کے رسولﷺ! یہ تو یہودی کا جنازہ ہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یہودی ہے تو کیا ہوا؟ کیا یہ انسان نہیں؟۔
برادران اسلام!ہم نبی اکرم ﷺ کے ماننے والے ہیں۔ ان کی شان تو یہ ہے کہ آپﷺ نے امت کو پرندوں اور حیوانوں کے ساتھ بھی شفقت اور پیار کرنے کا سبق دیا ہے۔ جانوروں کی اہمیت اور خصوصیت بیان کرنے کیلئے کیا یہ بات ہی کافی نہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دو سو آیات میں جانوروں کا ذکر فرمایا ہے جبکہ کچھ سورتوں کے تو نام ہی جانوروں اور پرندوں کے نام پر رکھے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں نبی کریمﷺ کی تعلیمات بھی ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہیں۔ آپﷺ نے اپنی اُمت کو یہ تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ بے زبان جانوروں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں: ہم ایک مرتبہ اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ کسی غزوہ میں شرکت کیلئے سفرکر رہے تھے۔ راستہ میں ایک جگہ پڑائو کیا۔ اللہ کے رسولﷺ حاجت کیلئے تشریف لے گئے۔ اسی دوران ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بہت خوبصورت بچے تھے۔ ہم نے اس کے بچوں کو پکڑ لیا۔ چڑیا نے بچوں کو ہمارے پاس دیکھا تو پھڑپھڑاتے ہوئے آئی، وہ باربار چکر لگا رہی تھی۔ اتنے میں اللہ کے رسولﷺ تشریف لے آتے ہیں۔ آپﷺ نے چڑیا کو دیکھا تو ارشاد فرمایا: ’’اس چڑیا کے بچوں کو اٹھا کر کس نے اسے مصیبت اور اذیت میں ڈال رکھا ہے، اس کے بچے واپس کر دو‘‘۔ ہم نے حکم کی تعمیل کی اور بچوں کو چھوڑ دیا۔ یقیناً یہ اللہ کے رسولﷺ کی پرندوں کے ساتھ شفقت تھی۔ اگر کسی آدمی کے بچوں کو گرفتار کر لیا جائے تو اسے کتنی تکلیف ہوتی ہے؟ اسی طرح پرندوں کو بھی بطور خاص ماں کی ممتا کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ ماں بے چین ہو جاتی ہے۔ اس کا سکون ختم ہو جاتا ہے۔
اللہ کے رسولﷺ تو سراپا رحمت ہی رحمت تھے۔ صرف انسانوں پر نہیں بلکہ کائنات کے تمام باسیوں اور دونوں جہانوں کیلئے رحمت تھے۔ اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے: ’’ہم نے آپﷺ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا ہے‘‘۔ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے پیارے نبیﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے والدین، بہن بھائیوں، عزیز و اقارب، دوست و احباب، پڑوسیوں اور محلے داروں کیلئے سراپا رحمت و شفقت بن جائیں۔ ان کے ساتھ وہی سلوک کریں جو ہمارے نبی کریمﷺ کیا کرتے تھے۔ اگر ہم یہ عمل کر لیں تو اس سے نہ صرف ہماری آخرت بہتر ہو گی بلکہ ہمارے لیے زندگی آسان ہو جائے گی، ہمارے لیے خیروبرکت کے دروازے کھل جائیں گے، رزق میں برکت ہو گی، دلوں سے کدورتیں دور ہو جائیں گی اور دنیا بھی جنت بن جائے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments