کام کی جگہ پر خواتین کے حقوق
’’ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھا کریں‘‘(سورۃ النور) قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک تفصیلی جائزہ ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘( صحیح بخاری، صحیح مسلم)
آج کے دور میں خواتین معاشی سرگرمیوں کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔ دفاتر، ہسپتال، تعلیمی ادارے، کارخانے، ہر جگہ خواتین اپنی صلاحیتوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایک تلخ حقیقت بھی سامنے آئی ہے، اور وہ ہے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کیے جانے کا مسئلہ۔ یہ نہ صرف ایک سماجی برائی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بھی ایک سنگین گناہ ہے۔ اسلام نے چودہ سو سال پہلے عورت کو وہ عزت، تحفظ اور وقار عطا کیا جس کا تصور اس دور کی دنیا میں موجود نہ تھا۔ اس مضمون میں ہم قرآن کریم اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روشنی میں اس موضوع کا جائزہ لیں گے۔
اسلام میں عورت کی عزت و وقار
اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور دونوں انسانی وقار کے حامل ہیں۔ سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 59 میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو حکم دیا کہ ’’آپ اپنی ازواج، بیٹیوں اور مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، تاکہ وہ پہچانی جائیں اور انہیں اذیت نہ دی جائے‘‘۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ عورت کو ہر قسم کی اذیت اور تکلیف سے بچانا اسلامی تعلیمات کا اہم مقصد ہے، اور پردے کے احکام کی اہم حکمتوں میں عورت کی عزت، عفت اور اذیت سے حفاظت بھی شامل ہے۔اسی طرح سورۃ النساء کی آیت نمبر 19 میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ’’عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو‘‘۔ یہ حکم عمومی ہے اور اس میں گھر سے باہر کام کی جگہ پر بھی حسن سلوک کا اصول شامل ہے، کیونکہ قرآن کا اصول ’’معاشرت بالمعروف‘‘ یعنی نیکی و بھلائی کے ساتھ برتاؤ، کسی خاص مقام تک محدود نہیں بلکہ ہر اس جگہ پر لاگو ہوتا ہے جہاں مرد و عورت کا آپس میں واسطہ پڑے۔
نگاہ کی حفاظت: ہراسمنٹ کی
روک تھام کی پہلی اسلامی بنیاد
بہت سی صورتوں میں ہراسمنٹ کی ابتدا نظر کی بے احتیاطی سے ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآن کریم نے سورۃ النور کی آیات نمبر 30 اور 31 میں مردوں اور عورتوں دونوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عزت کی حفاظت کریں۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ یہ حکم انسان کے دل کی پاکیزگی کیلئے زیادہ مناسب ہے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام نے مسئلے کی جڑ یعنی نگاہ کی بے احتیاطی پر ہی توجہ دی، تاکہ آگے چل کر ہراسمنٹ جیسا رویہ جنم ہی نہ لے۔
زبان اور رویے سے تکلیف کی ممانعت
نبی کریم ﷺنے مسلمان کی تعریف ہی اس بنیاد پر بیان فرمائی کہ وہ اپنی زبان اور ہاتھ سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچائے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘ ( صحیح بخاری: 10، صحیح مسلم: 40)۔ یہ حدیث اس بات کی بنیادی دلیل ہے کہ کسی بھی انسان، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، کو زبانی آزار (فقروں، اشاروں، بے جا تبصروں) یا جسمانی آزار (بدتمیزی، غیر ضروری قربت) کے ذریعے تکلیف پہنچانا اسلامی اخلاق کے منافی ہے۔ کام کی جگہ پر ہراسمنٹ، چاہے وہ زبانی ہو یا کسی بھی دوسری شکل میں، اسی اصول کی خلاف ورزی ہے۔
تنہائی اور بے جا اختلاط کی ممانعت
ہراسمنٹ کے بیشتر واقعات ایسی صورت حال میں پیش آتے ہیں جہاں غیر ضروری تنہائی یا بے تکلفانہ ماحول موجود ہو۔ اسلام نے اس دروازے کو بھی بند کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’کوئی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ ہرگز تنہائی اختیار نہ کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم موجود ہو‘‘(صحیح بخاری، بیروت، ج 6، حدیث: 5233؛ صحیح مسلم، بیروت، ج 2، حدیث: 1341)۔یہ حکم دراصل ایک احتیاطی تدبیر ہے۔ اس کا مقصد کسی پر بدگمانی کرنا نہیں بلکہ ایسے ماحول کا خاتمہ کرنا ہے جس میں غلط رویے پروان چڑھنے کا امکان ہو۔
مدد کا اسلامی جذبہ
اسلام نے ہمیشہ کمزور طبقے، بالخصوص بیوہ اور مسکین عورتوں کی مدد کو نہایت اعلیٰ مقام دیا ہے، اور اسی جذبے کو کام کی جگہ پر ماتحت خواتین کے ساتھ حسن سلوک سے جوڑا جا سکتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ بیوہ اور مسکین کی خبرگیری کرنے والا شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے (صحیح بخاری، بیروت، ج 7، حدیث: 6007، صحیح مسلم، بیروت، ج 4، حدیث: 2982)۔ یہ حدیث اس بات کی طرف رہنمائی دیتی ہے کہ طاقتور کا فرض کمزور کا استحصال کرنا نہیں بلکہ اس کی معاونت اور تحفظ کرنا ہے۔ ادارے میں سربراہ، مینیجر یا سینئر اسٹاف کی حیثیت رکھنے والے افراد پر یہ ذمہ داری اور بھی زیادہ عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اختیار کو کسی خاتون ملازمہ کے استحصال کیلئے استعمال نہ کریں، بلکہ اسے ایک محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کریں۔
تمسخر کی ممانعت
ہراسمنٹ کی ایک عام شکل طنز، فقرے بازی اور تمسخر بھی ہے۔ قرآن کریم نے سورۃ الحجرات کی آیات نمبر 11 اور 12 میں واضح حکم دیا کہ کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے، ممکن ہے کہ مذاق اڑائے جانے والے اللہ کے نزدیک بہتر ہوں۔ اسی طرح ایک دوسرے پر عیب نہ لگاؤ اور برے القاب سے نہ پکارو۔ ان آیات کا اطلاق مرد و عورت دونوں پر یکساں ہوتا ہے اور یہ اصول کام کی جگہ کے ماحول کو باوقار اور محفوظ بنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
خلاصہ کلام
اسلام نے عورت کو کوئی ثانوی مخلوق نہیں بلکہ باعزت انسان قرار دیا، جس کا وقار، عزتِ نفس اور تحفظ اسی طرح لازم ہے جیسے کسی بھی دوسرے انسان کا۔ کام کی جگہ پر خواتین کا ہراساں کیا جانا نہ صرف ایک سماجی جرم ہے بلکہ اسلامی اخلاقیات کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ادارہ، ہر فرد اور پورا معاشرہ ان تعلیمات کو اپنا کر ایک ایسا ماحول تشکیل دے جہاں خواتین باوقار انداز میں، بغیر کسی خوف کے، اپنا کردار ادا کر سکیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments