مومن کی شانِ صبر و شکر

تحریر : حافظ اسعد عبید


حضرت صہیب ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن بندہ کا معاملہ بھی عجیب ہے ہر معاملہ اور ہر حال میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ اگر اسے خوشی اور راحت پہنچے تو وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے اور یہ اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ اگر اسے کوئی دکھ اور رنج پہنچتا ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے اور یہ صبر بھی اس کیلئے خیر ہی ہے‘‘ (مسلم شریف)۔

 

اس دنیا میں دکھ اور رنج بھی ہے اور آرام و خوشی بھی، مٹھاس بھی ہے اور تلخی بھی‘ خوشگواری بھی ہے اور ناخوشگواری بھی، مومن کا ایمان ہے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور فیصلہ سے ہوتاہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے بندوں کا یہ حال ہونا چاہیے کہ جب کوئی دکھ اور مصیبت پیش آئے تو مایوسی کا شکار ہونے یا غلط طریقے سے اظہار غم کرنے کے بجائے صبر سے کام لیںاور اس یقین کو دل میں تازہ رکھیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہی دکھوں سے نجات دینے والا ہے۔ اس طرح جب مومن خوشی و شادمانی کے دور سے گزر رہا ہو تو اس کو اپنا کمال اور اپنی قوتِ بازو کا نتیجہ نہ سمجھیں بلکہ یہ ذہن میں رکھیں کہ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے وہ کسی بھی وقت نعمت چھین بھی سکتا ہے اس لیے نعمت ملنے پر شکر ادا کیجیے۔

ان اسلامی ہدایات کا منطقی نتیجہ ایک طرف تو یہ نکلتا ہے کہ خوشی کی حالت میں بھی بندہ خدا سے وابستہ رہتا ہے اور دوسری طرف مصیبتوں اور ناکامیوں سے شکست نہیں کھاتا، مایوسی اور دل شکستگی سے اس کی عملی قوتوں پر بُرا اثر نہیں پڑتا۔ حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اے ابن آدم! اگر تو نے ابتدا ہی سے صدمہ کو برداشت کیا اور میری رضا اور مجھ سے ثواب کی نیت کی تو میں راضی نہیں ہوں گا کہ جنت سے کم اور اس کے سوا کوئی ثواب تجھے دیا جائے۔

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو بندہ کسی جانی یا مالی مصیبت میں مبتلا ہو اور وہ کسی سے اس کا اظہار نہ کرے اور نہ لوگوں سے شکایت کرے تو اللہ کا ذمہ ہے کہ وہ اسے بخش دیں گے۔

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے صاحبزادے حضرت ابراہیم نزع کے وقت آپﷺ کی گود میں تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ عبدالرحمن بن عوف ؓنے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺکیا آپﷺ بھی روتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا اے ابن عوف! یہ رحمت کے آنسو ہیں اس کے بعد پھر آنسو جاری ہو گئے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آنکھیں آنسو بہاتی ہیں، دل غمگین ہے اور ہم زبان سے کوئی بات نہیں کہتے مگر جس سے ہمارا رب راضی ہو۔عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جو رخساروں کو پیٹے، گریبان پھاڑے اور زمانہ جاہلیت کی طرح پکار پکار کر روئے۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مؤمن کی شان یہ ہے کہ وہ صدمہ اور غم ملنے پر صبر کرے۔ زبان پر شکوہ نہ لائے۔ فطرت انسانی میں جذبۂ رحم کی بنا پر آنسو نکل آئیں، یہ صبر کے منافی نہیں۔ لیکن غم کی حالت میں اظہار غم کے ایسے طریقے جو مومن کو شرعی حدود سے باہر لے جائیں کسی بھی طرح جائز نہیں اللہ تعالیٰ ہمیں صدمہ اور مصیبت سے، غم اور رنج سے محفوظ فرمائے اور اگر اس کی مشیت سے یہ غم و رنج پہنچ بھی جائیں تو ہمیں صبر پر ثابت قدم رکھ کر شرعی حدود سے تجاوز کرنے سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کھیلوں کاایشیائی میلہ جاپان مین سج گیا

20ویں ایشین گیمز 2026ء: گرین شرٹش مختلف کھیلوں میں مجموعی طور پر4سے 6 تمغے جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں: افتتاحی تقریب میں سکواش کے کھلاڑی نور زمان اور پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے پرچم تھامے قومی دستے کی قیادت کی: پاکستان کے 7 بہترین شوٹرز این او سی جبکہ پاکستان بیس بال ٹیم سپانسر نہ ملنے کے باعث ایشین گیمز کا حصہ بننے سے محروم رہ گئے

پاکستان کرکٹ کا نیا بحران:محمدرضوان اور امام الحق تنازع

حساس معلومات اور ویڈیوز کے مبینہ لیک ہونے کا معاملہ این سی سی آئی اے اوراعلیٰ عدلیہ تک پہنچ :حتمی فیصلہ فارنزک رپورٹ آنے کے بعد ہوگا، واقعے نے قومی کرکٹ کے اندرونی ڈسپلن اور انتظامی ڈھانچے پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں:ہائیکورٹ سے درخواست خارج ہونے اوررضوان کوایجنسی کے سامنے پیش ہو نے کے حکم کے بعد کھلاڑیوں پر دبائو بڑھ گیا

دانی کی نصیحت

جمعہ کا مبارک دن تھا۔ احمد اپنے بڑے بھائی دانی کے ساتھ جمعہ پڑھنے جا رہا تھا۔ احمد نہا دھو کر صاف ستھرے سفید رنگ کے کپڑے پہنے دانی بھائی کے ساتھ مسجد جارہا تھا کہ راستے میں احمد کا دوست مقیط اسے مل گیا، جو اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا شربت پی رہا تھا ۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

میکس الیگزینڈر:کم عمری میں فیشن ورلڈفتح کرنیوالا

بڑا امتحان

شام ہو چلی تھی۔ بادلوں کی ہلکی سی پردہ داری نے موسم کو دلکش بنا دیا تھا اور باہر ہوا میں پرندوں کی چہچہاہٹ گونج رہی تھی۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

پہاڑوں پر سانس کیوں پھولتاہے؟