وطن سے محبت
عمیر ابھی ابھی سکول سے واپس آیا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں سکول کا کام کرنے بیٹھ گیا تھا۔
عمیر کو پینٹنگ کرنے کا بہت شوق تھا۔ وہ کاپی نکال کر ایک تصویر میں رنگ بھرنے لگا۔ یہ پنسل کلرعمیر کو بہت پسند تھے کیونکہ یہ اس کے سب سے پیارے دوست اور خالہ زاد اسد نے اس کی سالگرہ کے موقع پر تحفے میں دیے تھے۔
اچانک اس کی نظر پنسل کے اوپر لکھے ہوئے الفاظ میڈ ان ملائشیا پر پڑی تو وہ حیران رہ گیا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے! یہ پنسل کلر تو اسد کے ابو کی فیکٹری میں تیار ہوتے ہیں، تو ان پر کسی دوسرے ملک کا نام کیسے ہو سکتا ہے؟
وہ اسی کشمکش میں تھا کہ اسے پتہ چلا باہر خالہ جان اپنے گھر والوں کے ساتھ آئی ہوئی ہیں۔ وہ سب سے ملا اور خالو جان سے بات کرنے کی نیت سے ان کے پاس بیٹھ گیا۔
مجھے آپ سے ایک بات پوچھنی ہے۔ یہ کلر پنسل آپ کی ہی کمپنی کے ہیں نا؟ عمیر نے خالو سے استفسار کیا۔
ہاں بیٹا! کیوں، ان میں کوئی خرابی ہے کیا؟ خالو نے اچنبھے سے پوچھا۔
نہیں خالو! یہ کلر تو بہت پیارے ہیں۔ یہ مجھے بہت پسند بھی ہیں، لیکن ان پر دوسرے ملک کا نام کیوں لکھا ہے جبکہ یہ ہمارے اپنے ملک میں ہی بنے ہیں؟ عمیر کی زبان پر بالآخر وہ بات آ ہی گئی تھی جس کو جاننے کیلئے وہ بے چین ہو رہا تھا۔
اچھا! تو آپ کو یہ شکایت ہے، لیکن بیٹا بات یہ ہے کہ اگر ہم یہ نہ لکھوائیں تو ہمارے کلرز مارکیٹ کے معیار پر پورا نہیں اتریں گے۔ آپ نے دیکھا ہی ہو گا کہ لوگ خریدتے وقت لیبل دیکھتے ہیں، اگر باہر کے ملک کا ہو تو فوراً خرید لیتے ہیں، خالو نے عمیر کی تشفی کے لیے اس کو تفصیل سے ساری صورتحال کے متعلق آگاہ کیا۔
لیکن خالو! یہ تو بہت بری بات ہے۔ جب ہمارے ملک میں اتنی اچھی چیز بن سکتی ہے تو ہم کیوں کسی اور ملک کا نام استعمال کر رہے ہیں؟ ہمیں تو اپنے ملک کا نام روشن کرنا چاہیے۔ ہمارے ملک کے پڑھے لکھے لوگ اپنے ملک کی خدمت کرنے کی بجائے باہر کے ممالک میں جا کر کام کرتے ہیں۔ ہم لوگ اپنی چیزوں کے ہوتے ہوئے بھی انہیں اپنا نہیں کہتے، تو ہمارا ملک کس طرح ترقی کرے گا؟ خالو کے جواب نے عمیر کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا، وہ حد سے زیادہ جذباتی ہو رہا تھا۔
بیٹا! آپ کی باتیں بالکل درست ہیں، آپ نے سچے پاکستانی ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے۔ میں اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوں۔ آئندہ میں اپنی کمپنی کی چیزوں پر فخر سے میڈ ان پاکستان لکھواؤں گا۔خالو کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا اور وہ حد سے زیادہ شرمندہ بھی ہو گئے تھے۔
ہمارا ملک ہمیں بہت قربانیوں کے بعد ملا ہے، یہی ہماری پہچان ہے۔ وطن سے محبت جذبات تک محدود نہیں رکھنی چاہیے بلکہ اپنے عمل سے بھی ظاہر کرنی چاہیے۔ اللہ پاک ہمارے ملک کو سلامت رکھے۔ آمین! عمیر نے سچے محبِ وطن کی طرح اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
دوسری طرف خالو جان سوچ رہے تھے کہ جب تک عمیر جیسے بچے موجود ہیں ہمارے ملک کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments