نئے صوبوں کا مطالبہ زور پکڑتا ہوا!
پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان میں نئے صوبوں پر بحث و مباحثہ جاری ہے لیکن اس پر بات کرنے سے پہلے کراچی میں ہونے والے ایک دلخراش واقعہ کا ذکر کرتے ہیں جس میں ڈاکٹر عمر، اُن کی اہلیہ اور تین بچیوں کی لاشیں ملیں۔
ابتدائی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ ڈاکٹر عمر ایک خطرناک بیماری میں مبتلا تھے اسی وجہ سے نوکری چھوڑی، اہلِ محلہ بتاتے ہیں کہ گھر واپسی پر آخری تنخواہ ڈاکوؤں نے لوٹ لی، محلے میں چھوٹا سا کلینک کھولا تھا مگر وہ بھی نہیں چل پایا تھا، غرض ایک کے بعد دوسری مصیبت نے اس گھر کا راستہ دیکھ رکھا تھا اور وہ شدید مالی پریشانی کا شکار تھے۔ان کی اہلیہ نے راشن اور علاج کے لیے گھر کا اوون 10ہزار روپے میں بیچنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی نہ بک سکا‘ تاہم پڑوسی نے دوہزار روپے دئیے۔ کئی روز تک تو محلے داروں کو خبر ہی نہ ہوئی کہ یہ خاندان کہاں ہے، جب گھر سے بدبو آنے لگی اور پولیس کو بلایا گیا تو پتا چلا کہ پورا گھرانہ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ ڈاکٹر عمر کے سرہانے فلیٹ کی چابیاں رکھی ہوئی ملیں۔ موت کی اصل وجوہات تو فرانزک رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئے گی لیکن بظاہر غربت و افلاس، بیماری، فاقہ کشی، بھوک اور بے بسی موت کی وجہ معلوم ہوتی ہے۔ متوفی کا تعلق بہاول نگر سے تھا، جب رشتے داروں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عمر سے کسی کا کوئی رابطہ نہیں تھا یہاں تک کہ انہیں تو بچیوں کی پیدائش کا علم بھی نہیں تھا۔ یہ پانچ انسانوں کی نہیں پورے سماج اور حکومت کی بھی موت ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پانچ لوگ مر گئے اور دوسری طرف میڈیکو لیگل ڈپارٹمنٹ کی غفلت کا یہ حال ہے کہ فرانزک نمونوں کو بروقت منتقل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے شواہد ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
آئیے اب سیاسی میدان کی طرف چلتے ہیں جہاں نئے صوبوں کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایم کیو ایم نے ریلی نکالی، اگلے روز نیوز کانفرنس بھی کی، خالد مقبول صدیقی کے مطابق کراچی کے عوام نے نئے انتظامی یونٹس پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے ،انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچنے چاہئیں، انتظامی یونٹس سے سندھ کے دوسرے شہروں کا مستقبل بھی تابناک ہوگا۔خالد مقبول صدیقی نے عوام کو ان کے حقوق دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر حقوق اور مسائل کا حل میسر ہونا چاہیے۔نیوز کانفرنس میں ڈاکٹر فاروق ستار سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ ایم کیو ایم رہنما ؤں نے کہا کہ ریلی حکومت کے خلاف ریفرنڈم تھا۔ فاروق ستارنے کہا کہ سادہ اکثریت سے بھی بل پاس ہوسکتا ہے،مزید کہا کہ آپ نے تو ہمارا ایک گورنر چھینا تھا اب ایم کیو ایم کے چھ گورنر ہوں گے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن کا اس پر فوری ردعمل سامنے آیا اور انہوں نے ایم کیو ایم پر لسانیت اور افراتفری کی سیاست کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس شہر کو بھتہ اور بوری بند لاشیں ایم کیو ایم نے ہی دیں، یہ جماعت پھر سے نفرت بونا چاہتی ہے، ان کی زبان اب ناقابل برداشت ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کے حوالے سے سندھ اسمبلی واضح فیصلہ کرچکی ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات ناصر شاہ نے دعویٰ کیا کہ کراچی کے اردو بولنے والے نئے صوبے کے مخالف ہیں اور انہیں نیا صوبہ نہیں چاہیے۔ ساتھ ہی کہنے لگے کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کی باتوں کو سنجیدہ نہیں لیتی۔ حالانکہ اب تو سب کو یہ بات سمجھ آچکی ہے کہ صوبوں کی بات ایم کیو ایم نہیں بلکہ وہاں سے آئی ہے جہاں سے آنے والی کسی چیز کو مسترد یا رد نہیں کیا جاسکتا۔ پیپلز پارٹی کتنا ہی چیخے چلائے اگر وہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ صوبے بنیں گے تو آج نہیں تو کل صوبوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ جلد یا بدیر یہ ہوکر رہے گا۔ البتہ سوشل میڈیا پر ایم کیو ایم رہنماؤں کی گفتگو کے ٹکڑے زیرگردش اور زبان زدعام ہیں۔ یہ مکالمہ چیئرمین ایم کیو ایم اور سینئر رہنما فاروق ستار کے درمیان ہوا۔ نیوز کانفرنس میں فاروق ستار نے دومنٹ بات کرنے کے لیے مائیک مانگا اور پھر چل سو چل۔ اس دوران خالد مقبول صدیقی کا صبر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا، درمیان میں بھی فاروق ستار نے کئی بار مائیک تھامنے کی کوشش کی جسے خالد مقبول نے بہت سہولت سے روک دیا لیکن نیوز کانفرنس ختم ہونے کے بعد کی گفتگو بھی ریکارڈ ہوگئی جس میں چیئرمین ایم کیو ایم کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ آپ لوگ تو روزانہ پریس کانفرنس کرتے ہو آپ کی دس نیوز کانفرنس کے بعد میں ایک کرتا ہوں، اس میں بھی رکاوٹ ڈالتے ہو۔
سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید بھی سامنے آگئیں، ایکس پر اپنے پیغام میں طنزاً کہاکہ صوبہ بنانے نکلے ہیں ان کی تو آپس میں ہی نہیں بن رہی، مزیدکہاکہ سندھ کی تقسیم کا خواب دیکھنے والے پہلے آپس کے اختلافات تو ختم کرلیں۔ایک ہوشربا خبر یہ بھی ہے اس وقت صوبے میں 41لاکھ سے زیادہ لڑکیاں سکولوں سے باہر ہیں۔ دیہی خواتین میں خواندگی کی شرح 28فیصد سے نیچے ہے۔ تعلیم کے میدان میں جھنڈے گاڑنے کے دعوؤں کے بعد سندھ کی صنفی مساوات سے متعلق رپورٹ کے نتائج کو بلاتبصرہ ہی رہنے دیا جائے تو اچھا ہے۔ آخر سوچ بچار کا کچھ کام عوام کو سپرد بھی تو کیا جانا چاہیے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments