جماعت اسلامی نے لانگ مارچ کیوں مؤخرکیا؟
پی ٹی آئی اپنے بانی کی صحت اور جیل ملاقاتوں کو جواز بناتے ہوئے 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کیلئے مُصر ہے اور ان کی لیڈر شپ اس حوالہ سے اپنی تیاریوں کے دعوے کررہی ہے۔
تاہم پنجاب کی بات کی جائے تو یہاں پی ٹی آئی وہ احتجاجی ماحول طاری کرنے میں کامیاب نظر نہیں آ تی جو کسی سیاسی جماعت کی جانب سے احتجاج کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ یہاں سے پی ٹی آئی کے کوئی بڑے قافلے اسلام آباد روانہ ہو سکیں ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب کی سطح پر پی ٹی آئی کے پاس مؤثر لیڈر شپ نہیں۔ پی ٹی آئی کے کارکن اوراراکین اسمبلی میں سے بعض زیر حراست اور نظر بند ہیں اوربعض منظر سے غائب ہیں۔دوسری جانب صوبائی سطح پر انتظامی مشینری نے پہلے بھی اقدامات کر رکھے تھے اور اب وفاقی حکومت نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کی حکومت پنجاب کی درخواست بھی منظور کر لی ہے جبکہ راولپنڈی میں فوج کو تعینات کیا جائے گا۔ راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کے دستے 5 اکتوبرتک تعینات رہیں گے۔ وفاقی وزرا خصوصاً وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے بیانات سے بھی یہ واضح ہے کہ اس مرتبہ کسی احتجاجی کو اسلام آباد پہنچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اب تک کے حالات اور حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو پی ٹی آئی کی جانب سے اتنی تیاریاں دیکھنے میں نہیں آ رہیں جتنی کہ حکومت اور امن و امان کے ذمہ دار اداروں کی جانب سے سامنے آئی ہیں۔
اس پر ماہرین اور تجزیہ کار اپنے اپنے انداز میں تجزیے کرتے دکھائی دے رہے ہیں تاہم اس نکتے پر ان کااتفاق نظر آتا ہے کہ حکومت اسلام آباد لانگ مارچ کی روایت کو ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے اور اس کو بنیاد پی ٹی آئی کے 27ستمبر کے لانگ مارچ کو بنایا گیا ہے۔ ویسے بھی زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو پی ٹی آئی کے موبلائزیشن کا انحصار پنجاب کی بجائے خیبر پختونخوا پر ہے جہاں ان کی حکومت اور پارٹی کی مضبوط جڑیں ہیں اور جس طرح حکومت پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو ناکام بنانے کے لیے عزم نظر آ تی ہے اسی طرح پی ٹی آئی اور خصوصاً وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور وہاں کی تنظیم اس لانگ مارچ کی کامیابی کو اپنی بقا کیلئے ناگزیر سمجھ رہی ہے۔ لہٰذا سخت تنائو کی کیفیت ہے جو ہر آنے والے دن بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ لیکن یہ تنائو اگر ٹکرائو میں تبدیل ہوتا ہے تو اس کے اثرات ملک میں جاری سسٹم کے حوالہ سے اچھے نہیں ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے بعض حلقوں میں یہ رائے بھی نظر آ رہی ہے کہ اس حد تک نہ جایا جائے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی جانب سے ایسے سگنلز آ رہے ہیں جن میں وہ بات چیت کا عندیہ دیتے اور مذاکرات سے تنازعات کے حل کی بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور اپنے احتجاجی مارچ کو پُرامن رکھنے کی بات کرتے نظر آ رہے ہیں۔ لیکن پی ٹی آئی کا اصل مسئلہ اس کے پاس مشترکہ حکمت عملی کے فقدان کا ہے۔ احتجاج کی عملاً قیادت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے پاس چلی گئی ہے جو اپنے جذباتی بیانات اور ریاست کے حوالہ سے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ شاید یہ مارچ ان کے لیڈر کی ریلیف سے زیادہ ان کے اپنی سیاسی بقا کا مسئلہ ہے اور وہ اپنے صوبہ کے عوام کی بجائے جیل میں بند اپنی لیڈر شپ کے سامنے سرخرو ہونا چاہتے ہیں ۔ اس صورتحال سے پی ٹی آئی کی اپنی لیڈر شپ بھی خوفزدہ نظر آ تی ہے۔
حکومت نے اپنی طے شدہ حکمت عملی کے تحت جماعت اسلامی کے احتجاج اور خصوصاً لانگ مارچ کو مؤخر کروا لیا ہے اور اس میں جہاں وزیراعظم شہبازشریف کی یقین دہانی ان کی سیاسی سوچ کی آئینہ دار ہے وہاں ان کی مذاکراتی ٹیم خصوصاً احسن اقبال اور رانا ثنا اللہ کا بڑا کریڈٹ ہے کہ انہوں نے جماعت اسلامی کی لیڈر شپ سے مذاکراتی عمل جاری رکھا اوران کی جانب سے وزیراعظم شہبازشریف کو کی جانے والی سفارش پر عمل درآمد ہوا۔ جماعت اسلامی کی لیڈر شپ کا بھی یہ کریڈٹ ہے کہ اس نے پٹرولیم لیوی کے خلاف اپنے احتجاجی عمل کو اس عوامی مسئلہ تک محدود رکھا اور اپنے دھرنوں کو قانون کے تابع رکھا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے ایک موقع پر عندیہ دیا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کے احتجاج میں شامل ہو سکتے ہیں لیکن حقائق یہی ہیں کہ جے یو آئی ہو یا جماعت اسلامی یہ حکومت کے خلاف تو سرگرم عمل نظر آتی ہیں لیکن پی ٹی آئی کے احتجاج میں شرکت سے بوجوہ گریزاں رہیں گی۔اسلام آباد میں ہونے والے غیر معمولی اقدامات بارے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں وہ شرپسند عناصر اپنا مذموم کھیل بھی کھیل سکتے ہیں جس کے شواہد بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی صورت میں سامنے ہیں۔
ایک جانب ریاست الرٹ نظر آ رہی ہے تو دوسری جانب حکومت اپنے انداز میں اس لانگ مارچ کو ناکام بنانے کیلئے سرگرم ہے اور اب جماعت اسلامی کا لانگ مارچ مؤخر ہونے کا دبائو بھی پی ٹی آئی پر ہے۔ ماہرین کی رائے ہے کہ اسی حکمت عملی کو آگے بڑھاتے ہوئے اپوزیشن خصوصاً پی ٹی آئی کے ان عناصر سے بات چیت ہونی چاہئے جو ڈائیلاگ کے خواہاں ہیں۔ اطلاعات تو ایسی ہیں کہ وزیر داخلہ اور اپوزیشن کے درمیان پس پردہ جاری مذاکراتی عمل میں ڈیڈ لاک آنے کے بعد وزیراعظم شہبازشریف اپنی ٹیم کو اس محاذ پر متحرک بنانا چاہتے ہیں اور انہوں نے اس ضمن میں ہدایات بھی دی ہیں اور کہا ہے کہ اپوزیشن اور پی ٹی آئی کے سنجیدہ افراد سے ضرور بات کریں اور انہیں حالات سے آگاہی کے ساتھ ایسا طرز عمل اختیار کرنے سے پرہیز کا مشورہ دیں جس سے ان کا مزید سیاسی نقصان ہو۔ ریاست کی رٹ کو مقدم رکھنے کا فیصلہ اٹل ہے اس پر کمپرومائز نہیں ہوگا، لہٰذا یہ عمل آگے جلتا ہے اس حوالہ سے آنے والے بہتر گھنٹوں کو فراہم قرار دیا جا سکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments