علم و روحانیت کا آفتاب حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی ؒ
آپؒ صرف ایک صاحبِ کرامت صوفی بزرگ ہی نہیں بلکہ جلیل القدر مفسر، محدث، فقیہ، مصنف، مربی اور مصلحِ امت بھی تھے
اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات اپنے علم، عمل، دعوت اور روحانی اثرات کے باعث غیر معمولی مقام رکھتی ہیں۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ علیہ انہی عظیم ہستیوں میں سے ہیں، جنہوں نے پانچویں اور چھٹی صدی ہجری کے پُرآشوب دور میں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں امت مسلمہ کی علمی، فکری اور اخلاقی رہنمائی فرمائی۔ آپؒ نے شریعت و طریقت، علم و عمل اور اصلاحِ ظاہر و باطن کے امتزاج سے ایک ایسی ہمہ گیر اصلاحی تحریک برپا کی جس کے اثرات صدیوں تک قائم رہے۔ آپؒ صرف ایک صاحبِ کرامت صوفی بزرگ ہی نہیں بلکہ جلیل القدر مفسر، محدث، فقیہ، مصنف، مربی اور مصلحِ امت بھی تھے۔ بغداد میں آپؒ کی علمی، تدریسی اور دعوتی خدمات نے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا۔اس مضمون میں آپؒ کی حیات و خدمات کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔
اسم گرامی والقابات
امام ذہبیؒ لکھتے ہیں: آپ شیخ، امام، جلیل القدر عالم، زاہد، عارف باللہ، مقتدائے اہلِ سلوک، شیخ الاسلام، اولیاء کرام کے عَلَم بردار اور محی الدین تھے۔ آپؒ کا اسمِ گرامی ابو محمد عبدالقادر بن ابی صالح عبداللہ بن جنگی دوست الجیلی الحنبلی تھا۔(سیرأعلام النبلاء، ج20 )
نسب نامہ
امام ابوالمحاسن یوسف بن تغری ظاہری حنفی نے آپؒ کا نسب نامہ حسب ذیل لکھا ہے، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی، بن ابوصالح موسیٰ بن عبداللہ بن یحییٰ الزاہد بن محمد بن داؤد بن موسیٰ بن عبداللہ بن موسیٰ الجون بن عبداللہ المحض بن حسن المثنّٰی بن امام حسن مجتبیٰ بن حضرت علی المرتضیٰؓ بن ابو طالب۔ اس طرح آپ ؒ حسنی سیّد ہیں اور خاندانِ نبوت کے معزز فرد، ہاشمی، قرشی اور علوی ہیں۔ (النجوم الزاھرہ، ج5، ص371)
ولادت
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ جیلان میں 491 ہجری میں پیدا ہوئے (ایضاً)۔ آپ ؒ کی والدہ فاطمہ بنت ابی عبداللہ صومعی ایک صالحہ و عابدہ خاتون تھیں، آپ کے نانا ابو عبداللہ صومعی زہد و تقویٰ میں معروف تھے۔
مدرسہ ابوسعید
علامہ ابن کثیرلکھتے ہیں:شیخ ابو سعید مخرمی نے ایک مدرسہ تعمیر کیا تھا، جس کی نگرانی بعد میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے سپرد کر دی۔ آپؒ اسی مدرسے میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے، انہیں دین کی تعلیم دیتے اور ان کی اصلاح فرماتے تھے۔ لوگوں نے آپؒ سے بے شمار فوائد حاصل کیے۔(البدایہ والنہایہ، ج12)۔
بغدادآمد
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ حصولِ علم کیلئے جوانی میں بغداد تشریف لائے، جو اس دور میں علومِ اسلامیہ کا عظیم مرکز تھا۔ آپؒ نے قاضی ابو سعید مبارک بن علی مخَرِّمی، شیخ حماد بن مسلم الدباس، ابو الوفاء علی بن عقیل حنبلی، ابو الخطاب محفوظ بن احمد کلوذانی، ابو زکریا یحییٰ تبریزی،ابو غالب محمد بن حسن باقلانی،ابو محمد جعفر السراج،ابو عثمان اسماعیل الاصبہانی،ابو البرکات طلحہ العاقولی، ابو طالب عبدالقادر بن محمد یوسف، ابو النعیم محمد بن علی الفارسی سے اکتساب فیض کیا۔ (سیر ۃعلام النبلاء ،ج 20،ص439)
خوف خدا
امام شرف الدین سعدی شیرازی ؒ نقل کرتے ہیں : حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو حرمِ کعبہ میں اس حال میں دیکھا گیا کہ آپ نے کنکریوں پر سر رکھا ہوا تھا اور انتہائی عجز و نیاز کے ساتھ بارگاہِ رب العزت میں عرض کر رہے تھے:اے میرے رب! مجھے بخش دے، اور اگر میں تیرے نزدیک سزا کا مستحق ہوں تو روزِ قیامت مجھے نابینا اٹھانا ،تاکہ میں نیک بندوں کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ (گلستانِ سعدی، ص: 54)
علمی مقام
امام موفق الدین ابن قدامہؒفرماتے ہیں:ہم نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو ان شخصیات میں پایا جنہیں بغداد میں علم، عمل اور فتویٰ کی بادشاہت عطا کی گئی تھی۔ آپؒ کی علمی بصیرت کا یہ عالم تھا کہ نہایت پیچیدہ اور مشکل فقہی مسائل کا بھی سہل، جامع اور اطمینان بخش جواب ارشاد فرماتے۔ آپؒ نے تقریباً 33 برس تک تدریس اور افتاء کے ذریعے دین اسلام کی خدمت انجام دی۔ اس عرصے میں آپؒ کے فتاویٰ جب عراق کے ممتاز علماء کے سامنے پیش کیے جاتے تو وہ آپؒ کی فقاہت، وسعتِ علم اور قوتِ استدلال پر حیران رہ جاتے تھے۔ (بہجۃ الاسرار، ص 225)
اولیاء اللہ کے سردار
امام احمد رضا خان قادری ؒ لکھتے ہیں : غوث اپنے زمانے کے تمام اولیاء کا سردار ہوتا ہے، جبکہ حضرت عبدالقادرؒکو ایسی غوثیتِ کبریٰ عطا ہوئی جو اپنے دور تک محدود نہیں بلکہ آپؒ کو اولیائے امت میں ایک منفرد اور جامع روحانی مقام حاصل ہے۔اس میں شک نہیں کہ حضور سیدنا غوثِ اعظم ؒ کا مرتبہ نہایت اعلیٰ و ارفع ہے۔(فتاویٰ رضویہ)۔
شریعت وطریقت کے جامع
سید احمد رفاعی ؒ کا فرمان ہے:حضرت شیخ عبدالقادرؒ وہ ہیں کہ شریعت کا سمندر اُن کے دائیں جانب اور حقیقت کا سمندر ان کے بائیں جانب ہے، جس میں سے چاہیں فیض حاصل فرمائیں۔ ہمارے اس زمانے میں سید عبدالقادر کا کوئی ثانی نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 28، ص 396)
روحانی تربیت
حضرت شیخ عبدالقادر ؒ صرف علمی معلومات کی منتقلی پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ طلبہ کی روحانی اور اخلاقی تربیت کو بھی لازمی قرار دیتے تھے۔ آپؒ کے نزدیک علم اور عمل، شریعت اور طریقت، ظاہر اور باطن ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔آپؒ فرمایا کرتے تھے:علم بغیر عمل کے دیوانگی ہے اور عمل بغیر علم کے معتبر نہیں۔(الفتح الربانی، مجلس 39)،اسی اصول کے تحت آپ کے حلقہ درس میں قرآن و حدیث، فقہ اور اصول کے ساتھ ساتھ اخلاص، تقویٰ، خوفِ خدا، توکل اور حسنِ اخلاق کی تربیت بھی دی جاتی تھی۔
ازواج واولاد
آپؒ نے تقریباً پچاس برس کی عمر میں ازدواجی زندگی کا آغاز فرمایا،آپؒ کی چار ازواج تھیں۔اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو کثیر اولاد سے نوازا۔ آپؒ کی اولاد کی تعداد 49تھی، جن میں20 بیٹے اور باقی صاحبزادیاں تھیں۔
وعظ و ارشاد
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی علمی، روحانی اور اصلاحی خدمات میں وعظ و ارشاد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ آپؒ نے ایسے دور میں دعوت و اصلاح کا فریضہ انجام دیا جب اسلامی معاشرہ سیاسی انتشار، اخلاقی زوال، مذہبی بے راہ روی اور دنیا پرستی کے مختلف فتنوں کا شکار تھا۔ آپؒ کے واعظ نے نہ صرف عوام الناس بلکہ علماء، امراء، حکمرانوں اور اہلِ اقتدار کو بھی متاثر کیا۔ آپ ؒکا خطاب علم و حکمت، اخلاص و درد اور قرآن و سنت کی روشنی سے مزین ہوتا تھا۔
اسلوبِ خطابت
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ ایک بے مثال خطیب اور مؤثر واعظ تھے۔ آپؒ کی گفتگو میں علمی گہرائی، روحانی تاثیر اور اخلاص کا ایسا امتزاج تھا جو سامعین کے دلوں پر براہِ راست اثر پذیر ہوتا تھا۔ آپؒ تصنع، تکلف اور لفظی آرائش کے بجائے سادہ، جامع اور دل نشین انداز اختیار فرماتے تھے۔امام ذہبی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت شیخ عبدالقادرؒ بڑے واعظین میں سے تھے۔ انہیں غیر معمولی قبولیت حاصل تھی اور ان کے کلام میں دلوں پر گہرا اثر پیدا کرنے کی قوت تھی۔(سیراعلام النبلاء، ج 20، ص 439)
وفات وتدفین
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی نے 90 برس کی طویل عمر پائی، 10 ربیع الآخر 561ھ کو وصال فرمایا، آپؒ کومدرسہ ابوسعیدکے احاطے میں دفن کیا گیا(سیراعلام النبلاء)۔
بنیادی تعلیمات
آپؒ کی بنیادی تعلیمات حسب ذیل ہیں۔ (1)تم پر قرآن و سنت کو لازم پکڑنا ضروری ہے، کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والی راہ ہے۔ (2)اپنے دل اور اپنے وجود کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو، اس سے پہلے کہ توبہ کا دروازہ بند ہو جائے۔(3)جب تمہارے اندر حقیقی تقویٰ پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے خیر کے تمام دروازے کھول دیتا ہے۔ (4)دنیا کو اپنے ہاتھ میں رکھو، اپنے دل میں جگہ نہ دو۔ (5)اچھا اخلاق تمہیں اللہ تعالیٰ کے قریب اور اس کی مخلوق کا محبوب بنا دیتا ہے۔ (6) دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنے دلوں کو اخلاقی برائیوں سے پاک کرو۔ (7) ہر وہ طریقہ جس کی تائید قرآن و سنت سے نہ ہو، مردود ہے۔ (8)دین کی بنیاد حلال روزی اختیار کرنا اور حرام سے بچنا ہے۔ (9)عمل کرنے والا عالم اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر اس کی حجت ہے۔(الفتح الربانی)۔ (10)بندوں پر ظلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کثرتِ عبادت کو قبول نہیں فرماتا(غنیۃ الطالبین )۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی حیات و خدمات اس حقیقت کی آئینہ دار ہیں کہ اخلاص، علمِ نافع اور اتباعِ شریعت سے وابستہ شخصیات زمان و مکان کی حدود سے بلند ہو کر تاریخ کا رخ متعین کرتی ہیں۔ آپؒ نے علم و عرفان، دعوت و اصلاح اور شریعت و طریقت کے حسین امتزاج کے ذریعے امتِ مسلمہ کی فکری و روحانی رہنمائی فرمائی اور ایک ایسی پائیدار علمی و تربیتی روایت قائم کی، جس کے اثرات آج بھی نمایاں ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments