خوشحال بلوچستان، مضبوط پاکستان

تحریر : عرفان سعید


بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور پائیدار استحکام کا راستہ نفرت اور انتشار سے نہیں بلکہ تعلیم، امن، جمہوری رویوں، میرٹ، شفافیت اور عوامی فلاح و بہبود سے گزرتا ہے۔

 صوبے کو درپیش مسائل کا حل محض نعروں، سیاسی بیانات یا محرومیوں کے تذکرے میں نہیں بلکہ اس کے لیے ایسی سنجیدہ اور عملی حکمت عملی درکار ہے جو عوام کے بنیادی مسائل حل کرے اورنوجوان نسل کو تعلیم، روزگار اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرے۔ بلوچستان کے پاس بے پناہ قدرتی وسائل، وسیع جغرافیائی اہمیت اور ترقی کے غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔ ان صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اسی وقت اٹھایا جا سکتا ہے جب امن و امان کے قیام، اداروں کی مضبوطی، انتظامی اصلاحات اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے حالیہ بیانات اور مختلف سرکاری و ترقیاتی اقدامات اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ بلوچستان کا مستقبل جمہوری استحکام، تعلیم کے فروغ اور عوامی خدمت میں مضمر ہے۔ بلوچستان کے حقیقی مسائل کو تسلیم کرنا، ان کا حل تلاش کرنا اور عوام کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ صوبے میں احساس ِمحرومی، پسماندگی، تعلیمی مسائل اور ترقیاتی ضروریات جیسے معاملات کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔ ان مسائل کو بنیاد بنا کر مسلح تشدد، دہشت گردی یا علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کا جواز پیش کرنا ہر گز قابلِ قبول نہیں۔ اختلاف ِرائے شہری کا جمہوری حق ہے مگر بندوق کے زور پر اپنی سوچ مسلط کرنے کی کوشش عوامی حقوق کی ترجمانی نہیں۔ دہشت گردی اور نوجوان نسل کو گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش بلوچستان کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں۔ دہشت گردی صرف انسانی جانوں کا نقصان نہیں کرتی یہ سڑکوں، تعلیمی اداروں، مواصلاتی نظام، معاشی سرگرمیوں اور ترقیاتی منصوبوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کو برداشت کرنا پڑتا ہے‘ جو پُرامن اور بہتر مستقبل کے خواہاں ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو صرف سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری سمجھنا درست نہیں۔ حکومت، سیاسی جماعتوں، تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، سول سوسائٹی اور قبائلی عمائدین سمیت معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ اطلاعات اور منفی بیانیے کے مقابلے کے لیے نوجوانوں میں تحقیق، تنقیدی سوچ اور حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کا شعور پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس حوالے سے تعلیم کا فروغ بلوچستان کی ترقی کے لیے سب سے مؤثر اور دیرپا سرمایہ کاری ہے۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے بلوچستان کے طلبہ کو سکالرشپس کی فراہمی جبکہ پنجاب حکومت کی طرف سے صوبے میں تعلیم کے فروغ کے لیے سالانہ ایک ارب روپے فراہم کرنے کا اقدام بین الصوبائی تعاون اور قومی یکجہتی کی قابل قدر مثال ہے۔ اسی طرح بلوچستان حکومت کی جانب سے 80 فیصد سے زائد طلبہ کو 80 فیصد سکالرشپ پر تعلیم فراہم کرنے کی کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوانوں کو مالی مشکلات سے نکال کر اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔امن و امان کے قیام کے لیے پولیس کا مضبوط، خودمختار اور پیشہ ورانہ کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں تربیت مکمل کرنے والے بلوچستان پولیس کے ڈی ایس پیز سے خطاب کرتے ہوئے میرٹ، پیشہ ورانہ آزادی اور سیاسی مداخلت سے پاک ماحول کی فراہمی کے عزم کا اظہار کیا۔ پولیس افسران کی تعیناتیوں اور تبادلوں میں میرٹ کو بنیادی اصول بنانا ایک مثبت اور ضروری اقدام ہے۔ جب سرکاری اداروں میں بھرتیاں اور ذمہ داریاں سیاسی سفارش کے بجائے قابلیت، محنت اور اہلیت کی بنیاد پر دی جا ئیں گی تو ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد مضبوط ہوگا۔

ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی بلوچستان میں امید افزا پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کو دی گئی بریفنگ کے مطابق آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کے تحت 138 منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی مجموعی منظور شدہ لاگت 1984.3 ارب روپے بتائی گئی ہے جبکہ موجودہ مالی سال کے دوران صوبے کے لیے 193 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پانی اور سڑکوں کے شعبوں میں منصوبوں کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بلوچستان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل مختص کیے جا رہے ہیں۔ منگی ڈیم سمیت مختلف آبی منصوبے پینے کے پانی، زراعت اور مستقبل کی ضروریات کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح سڑکوں کی تعمیر سے دور دراز علاقوں کو منڈیوں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔اسی طرح بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں سرکاری مالیاتی ریکارڈ اور بینک کھاتوں کے حسابات میں سامنے آنے والا فرق بھی ایک اہم انتظامی معاملہ ہے۔ مالیاتی گوشواروں اور سٹیٹ بینک کے ریکارڈ میں تقریباً سات ارب 71 کروڑ روپے کا فرق سامنے آنا معمولی بات نہیں۔ سرکاری خزانے سے متعلق حسابات میں شفافیت، درستگی اور بروقت جانچ پڑتال کسی بھی ذمہ دار حکومت کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے محکمہ خزانہ کو مستقل اور مؤثر نظام قائم کرنے کی ہدایت خوش آئند ہے۔ سیکرٹری خزانہ کی جانب سے ماہانہ بنیادوں پر مالیاتی حسابات کی مطابقت یقینی بنانے اور متعلقہ بینکوں اور اکاؤنٹنٹ جنرل کے ساتھ مل کر اختلافات دور کرنے کی یقین دہانی بھی مثبت پیش رفت ہے۔ ان یقین دہانیوں پر عملی طور پر عملدرآمد کیا جانا ضروری ہے تا کہ ذمہ داریوں کا تعین ہو اور مستقبل میں ایسی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔

بلوچستان کا مستقبل مایوسی، انتشار اور تشدد میں نہیں بلکہ امید، تعلیم، محنت، امن اور اجتماعی ترقی میں پوشیدہ ہے۔ حکومت اور عوام ایک ہی منزل کے مسافر ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے اعتماد پر پورا اترے، میرٹ کو یقینی بنائے، وسائل کی منصفانہ تقسیم کرے اور ہر علاقے تک ترقی کے ثمرات پہنچائے جبکہ عوام کا فرض ہے کہ مثبت تنقید، جمہوری جدوجہد اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے صوبے کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو بندوق کے بجائے قلم، نفرت کے بجائے علم اور مایوسی کے بجائے امید کا راستہ دکھانا ہوگا۔ اگر تعلیم کو ترجیح، میرٹ کو بنیاد، شفافیت کو اصول، امن کو مقصد اور عوامی خدمت کو حکمرانی کا معیار بنا لیا جائے تو وہ دن دور نہیں جب بلوچستان ترقی، خوشحالی اور قومی یکجہتی کی ایک روشن مثال بن کر سامنے آئے گا۔ یہی بلوچستان کے عوام کی خواہش، حکومت کی اصل کامیابی اور پاکستان کے مضبوط مستقبل کی ضمانت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اب ایسے نہیں چلے گا !

اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کا ماضی میں تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شہر ِاقتدار میں پہلی مرتبہ اشرافیہ کے غیر قانونی منصوبوں کے خلاف کارروائیاں ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

کرپشن الزامات اور سیاسی محرکات!

وفاقی وزیرچوہدری سالک حسین کی جانب سے پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات نے پنجاب کے سیاسی محاذ پر نئی صورتحال طاری کر دی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس پر پانچ ارب روپے کا نوٹس بھجوادیا ہے۔

کھمبوں سے کچھ آگے بھی سوچیے!

سندھ حکومت آج کل کمال پر کمال کر رہی ہے اور میڈیا ہو یا سوشل میڈیا حیدرآباد اور سکھر چھائے ہوئے ہیں۔ دونوں شہروں نے برسوں سے خبروں کی زینت رہنے والے کراچی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

پختونخوا میں نئی صف بندی ؟

خیبر پختونخوامیں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو چکا ہے۔مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حال ہی میں دئیے گئے سخت بیانات کو محض غصے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

وزیر اعظم کا دورۂ راولا کوٹ

آزاد جموں و کشمیر میں ایک طرف وزیراعظم افتخار گیلانی حکومت کے آئینی اختیارات کے تحفظ، عوامی مسائل کے حل اور آزاد کشمیر کے اداروں پر اعتماد کی بحالی کی بات کرتے دکھائی دیئے تو دوسری جانب پونچھ کی صورتحال، سیاسی اختلافات اور آزاد کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق گردش کرتی اطلاعات نے سیاسی ماحول کو موضوعِ بحث بنائے رکھا۔

گھر کا ماحول، بچوں کی شخصیت کیسے بناتا ہے

بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کی شخصیت کی تعمیر میں گھر کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ گھر بچے کی پہلی درس گاہ اور والدین اس کے پہلے استاد ہوتے ہیں۔