وزیر اعظم کا دورۂ راولا کوٹ

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد جموں و کشمیر میں ایک طرف وزیراعظم افتخار گیلانی حکومت کے آئینی اختیارات کے تحفظ، عوامی مسائل کے حل اور آزاد کشمیر کے اداروں پر اعتماد کی بحالی کی بات کرتے دکھائی دیئے تو دوسری جانب پونچھ کی صورتحال، سیاسی اختلافات اور آزاد کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق گردش کرتی اطلاعات نے سیاسی ماحول کو موضوعِ بحث بنائے رکھا۔

 وزیر اعظم افتخار گیلانی نے 3 نومبر کو راولاکوٹ کا دورہ ایسے وقت میں کیا جب پونچھ ڈویژن کے دو اضلاع، راولاکوٹ اور سدھنوتی میں عوامی بے چینی، احتجاج اور معمولاتِ زندگی میں رکاوٹوں کے معاملات زیرِ بحث ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران کمشنر آفس راولاکوٹ میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام سے بریفنگ لی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ان کے دورہ راولاکوٹ کا مقصد زمینی حقائق کا جائزہ لینا اور مقامی آبادی کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ 

وزیراعظم کے دورہ راولاکوٹ کو محض ایک سرکاری دورہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ علاقے کی سیاسی اور سماجی حساسیت کے پیش نظر حکومت کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ عوامی شکایات کو کس حد تک سنجیدگی سے سنتی اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرتی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے مسائل کا ازالہ بھی ہے۔ دوسری جانب احتجاج کرنے والے حلقوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ عوامی زندگی، تعلیمی اداروں اور طبی سہولتوں کو متاثر کیے بغیر اپنے مطالبات متعلقہ فورمز پر پیش کریں اور جن میں سے بیشتر مطالبات منظور بھی ہو چکے ہیں۔یہ دورہ حکومت کے لیے عوامی اعتماد کی بحالی کا ایک موقع بھی ہے۔ اب نگاہیں اس پر ہوں گی کہ راولاکوٹ میں ہونے والی ملاقاتوں اور بریفنگ کے نتیجے میں کیا عملی پیش رفت سامنے آتی ہے۔ 

دورہ راولاکوٹ سے قبل وزیراعظم افتخار گیلانی نے واضح کیا کہ تیرہویں آئینی ترمیم کے تحت آزاد کشمیر اسمبلی کو حاصل اختیارات میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے آزاد کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے سے متعلق اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئینی ترامیم کا راستہ قانون ساز اسمبلی اور جمہوری مشاورت سے ہو کر گزرتا ہے۔ وزیراعظم نے کالعدم مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس سے وابستہ عناصر پر گزشتہ پانچ ماہ کے دوران تشدد اور بدامنی میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے اور ذمہ داروں کے احتساب پر زور دیا اور کہا کہ ان حالات میں کس طرح مذاکرات کئے جا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم افتخار گیلانی نے درست نکات کی نشاندہی کی لیکن سیاسی لوگوں نے عوام کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا ہوتا ہے بلکہ مسائل کا حل تلاش کرنا ہوتا ہے۔ کیا پونچھ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں معمولاتِ زندگی کی بحالی کے لیے محض حکومتی بیانات کافی ہوں گے یا اس کے لیے سیاسی مکالمے اور اعتماد سازی کی نئی کوششیں بھی درکار ہوں گی؟ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے پیچیدہ سیاسی معاملات کا دیرپا حل سیاسی قوتوں کو ساتھ بٹھائے بغیر ممکن نہیں۔

 29 اکتوبر کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے صدر محمد نجیب خان اور وزیراعظم افتخار گیلانی کی ملاقات بھی سیاسی و انتظامی اہمیت کی حامل رہی۔ ملاقات میں آزاد کشمیر میں تجارت کے فروغ، سیاحت کی ترقی، اہم شاہراہوں کی تکمیل، صحت و تعلیم کی سہولتوں میں بہتری اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر گفتگو ہوئی۔ اس ملاقات کو صرف ایک رسمی ملاقات سمجھنا درست نہیں۔ آزاد کشمیر کو درپیش مالی مشکلات، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور روزگار کے محدود مواقع کے تناظر میں وفاقی حکومت کی معاونت اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم عوام اب یقین دہانیوں کے بجائے عملی پیش رفت دیکھنا چاہتے ہیں۔ سیاحت کے فروغ کی بات ہو یا شاہراہوں کی تعمیر، ان منصوبوں کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنا ضروری ہیں۔وزیراعظم افتخار گیلانی نے آئینی اختیارات کے تحفظ اور عوامی اعتماد کی بحالی کا مؤقف اختیار کیا ہے جبکہ وفاقی حکومت نے ترقیاتی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔آزاد کشمیر کی سیاست میں اب صرف بیانات کی گونج نہیں بلکہ عملی نتائج کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اپنے سو روزہ پروگرام، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی ریلیف کے وعدوں کا حساب دینا ہوگا جبکہ اپوزیشن کو بھی پارلیمانی ذمہ داریوں کے ذریعے عوامی مسائل اجاگر کرنے ہوں گے۔آزاد کشمیر کے عوام اب سیاسی محاذ آرائی کے بجائے استحکام، روزگار، انصاف اور ترقی چاہتے ہیں۔ یہی وہ کسوٹی ہے جس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو پرکھا جائے گا اور اس کیلئے دونوں نے مظفرآباد میں اپنا قیام بڑھانا ہو گا۔

آزاد کشمیر کی سیاست میں بیرون ملک آباد کشمیریوں کا کردار بھی اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ ان کی سیاسی دلچسپی اور آزاد کشمیر کے معاملات پر اظہارِ رائے اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ قیادت ان کے مسائل اور تجاویز کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر کا دورہ برطانیہ گزشتہ ہفتے کی اہم سیاسی سرگرمیوں میں شامل رہا ہے۔ شاہ غلام قادر برطانیہ میں پارٹی کارکنوں اور حامیوں سے ملاقاتیں کرکے انتخابی کامیابی پر ان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں تارکین وطن کے مسائل، آزاد کشمیر کی سیاسی صورت حال اور مستقبل میں جماعتی رابطوں کو مزید مؤثر بنانے پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اب ایسے نہیں چلے گا !

اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کا ماضی میں تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شہر ِاقتدار میں پہلی مرتبہ اشرافیہ کے غیر قانونی منصوبوں کے خلاف کارروائیاں ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

کرپشن الزامات اور سیاسی محرکات!

وفاقی وزیرچوہدری سالک حسین کی جانب سے پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات نے پنجاب کے سیاسی محاذ پر نئی صورتحال طاری کر دی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس پر پانچ ارب روپے کا نوٹس بھجوادیا ہے۔

کھمبوں سے کچھ آگے بھی سوچیے!

سندھ حکومت آج کل کمال پر کمال کر رہی ہے اور میڈیا ہو یا سوشل میڈیا حیدرآباد اور سکھر چھائے ہوئے ہیں۔ دونوں شہروں نے برسوں سے خبروں کی زینت رہنے والے کراچی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

پختونخوا میں نئی صف بندی ؟

خیبر پختونخوامیں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو چکا ہے۔مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حال ہی میں دئیے گئے سخت بیانات کو محض غصے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

خوشحال بلوچستان، مضبوط پاکستان

بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور پائیدار استحکام کا راستہ نفرت اور انتشار سے نہیں بلکہ تعلیم، امن، جمہوری رویوں، میرٹ، شفافیت اور عوامی فلاح و بہبود سے گزرتا ہے۔

گھر کا ماحول، بچوں کی شخصیت کیسے بناتا ہے

بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کی شخصیت کی تعمیر میں گھر کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ گھر بچے کی پہلی درس گاہ اور والدین اس کے پہلے استاد ہوتے ہیں۔