پختونخوا میں نئی صف بندی ؟

تحریر : عابدحمید


خیبر پختونخوامیں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو چکا ہے۔مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حال ہی میں دئیے گئے سخت بیانات کو محض غصے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

 یہ اس وقت کی سیاسی مایوسی کا اظہار ہے جب وہ فیصلہ سازی کے مرکزی دھارے سے باہر کر دئیے گئے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعدمولانا نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اور صدر کو قومی مفادات سے متعلق فیصلے اجتماعی مشاورت کے ذریعے کرنے چاہئیں۔انہوں نے صدر کی جانب سے قانونی طریقہ کار کی پیروی نہ کرنے پر تنقید بھی کی۔ انہوں نے متعدد بار زور دیا کہ پارلیمنٹ سب سے بالا ہے اور کسی اور جگہ فیصلے کر کے پارلیمنٹ پر مسلط کرنے کی مخالفت کی۔ یہ بیان بازی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان کی موجودہ حکومت کی فیصلہ سازی کی شفافیت اور آئینی حیثیت پر گہری تشویش ہے۔مختلف حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مولانا طویل عرصے تک مقتدرہ کے پسندیدہ رہے لیکن اب انہیں نظام سے باہر اور غیر متعلق محسوس ہو رہا ہے اور صدارتی عہدے کا ان سے کیاگیا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا جس کی وجہ سے وہ سخت بیانات کے ذریعے سیاسی طور پر دوبارہ متحرک ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاہم مولانا کی تنقید پی ٹی آئی کی مکمل حمایت کے مترادف نہیں ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کاکہناہے کہ ان کی تنقید اصلاح کی نیت سے ہے اور یہ اداروں کے خلاف نہیں بلکہ پالیسیوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جے یو آئی کے 250ارکان کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے اپنے اور اپنی جماعت کے قومی دفاع کے حوالے سے مؤقف کا دفاع کیاہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے ووٹروں اور حامیوں کا مولانا اور مقتدرہ کی کشیدگی کے بارے میں رویہ بہت پیچیدہ ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا صوبے میں تیرہ سالہ اقتدار عملًا ختم ہو گیا ہے اور اوراسمبلی کو غیر فعال کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کیلئے مولانا کی جانب سے مقتدرہ اور وفاقی حکومت پر تنقید کرنا اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا مطالبہ کرنا کسی حد تک ان کیلئے آواز اٹھانے کے مترادف ہے جس کا ان کی جانب سے خیرمقدم تو کیاجارہا ہے لیکن عدم اعتماد پھر بھی برقرار ہے۔اعتماد نہ کرنے کی وجہ تاریخی تجربات میں پوشیدہ ہے۔ سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ مولانا طویل عرصے تک مقتدرہ کے ساتھ تعاون پر مبنی رشتہ رکھتے تھے اور ماضی میں کئی اہم آئینی ترامیم اور سیاسی فیصلوں میں حصہ لیا؛چنانچہ پی ٹی آئی کے حامیوں کواب بھی شبہ ہے کہ مولانا کی موجودہ سخت پوزیشن اقتدار سے باہرہونے کے بعد کا شوروغوغا ہے، اگر کل کلاں انہیں دوبارہ اقتدار میں شامل ہونے کا موقع مل گیا تو وہ اپنا مؤقف تبدیل کر لیں گے۔ مولانا نے ماضی میں پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان ثالثی کی کوشش کی تھی جو اُن کے سیاسی مؤقف کی لچک کو ظاہر کرتا ہے تاہم یہ بھی پی ٹی آئی کے بنیادی حامیوں کے لیے مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں۔ اے این پی کی ناراضگی کو بھی وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ بنیادی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے طریقہ کار پر ہے۔

ایمل ولی کے امریکہ میں دیئے گئے بیانات پر مقتدرہ اور دیگر حلقوں کی جانب سے شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت وفاقی حکومت اور مقتدرہ کیلئے خیبرپختونخوا میں تین محاذکھل گئے ہیں، ایک پی ٹی آئی کا ہے، دوسری طرف جے یوآئی کی ناراضگی چل رہی ہے اور اب اے این پی بھی اس لڑائی میں کود پڑی ہے۔ یہاں سوال اٹھایاجارہا ہے کہ کیا خیبرپختونخوا میں کوئی نئی صف بندی ہورہی ہے؟مختلف قسم کے سوالات ہیں جن کے جوابات آنے والے دنوں میں ان تینوں جماعتوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں سے مل جائیں گے۔

 خیبرپختونخوا میں گورنر راج جس بنیاد پر لگایاگیا تھا وہ مختلف تھی اور جو کام یہاں کئے جارہے ہیں وہ اس سے یکسر مختلف ہیں۔ پشاور سمیت مختلف اضلاع میں تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کردیئے گئے ہیں۔ پشاور شہر کھنڈر کا منظر پیش کررہاہے۔ ان تجاوزات کی زد میں جمعیت علمائے اسلام کا مرکز بھی آگیا ہے۔ جے یوآئی کی جانب سے اسے سیاسی انتقام قراردیاجارہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے بیانات اس لئے بھی تندوتیز ہیں اور پشاورمیں ان کی جانب سے کی جانے والی تقریر پر شدید ردعمل آرہا ہے۔ یوں لگ رہاہے کہ آنے والے دن جے یوآئی کیلئے مزید سخت ثابت ہوسکتے ہیں۔یہاں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا زیروٹالرنس اور ونس فار آل جیسی اصطلاحات کے ساتھ جے یو آئی اور اے این پی کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں تو کیا وہ پی ٹی آئی کے ساتھ ایک صفحے پر نہیں آجائیں گی؟یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ ان تینوں جماعتوں کا شمار اس صوبے کے بڑے سٹیک ہولڈرز میں ہوتا ہے۔یہ تینوں جماعتیں ایک صفحے پر آ جاتی ہیں تب بھی ان کے اہداف اور مفادات مشترک ہونے کے بجائے مختلف ہوں گے۔ پی ٹی آئی کا واحد مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے جبکہ اے این پی اور جے یو آئی نظام میں واپس آنا چاہتی ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب اس صوبے میں پی ٹی آئی کا توڑ نکالا جائے۔ مارچ میں سینیٹ کے انتخابات بھی آرہے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی معطل ہے۔ گورنر راج چھ ماہ کیلئے ہوتا ہے اور یہ طویل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اگر مارچ 2027 ء تک اسمبلی بحال نہیں ہوئی تو خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات کا انعقاد بھی مشکل ہوسکتا ہے۔ وفاقی حکومت اس وجہ سے بھی دہری مشکلات کا شکار نظرآتی ہے۔ اگر گورنر راج ختم کیاجاتا ہے تو ان سے یقینی طورپر پوچھا جائے گا کہ پھر لگایاکیوں تھا، اور اگر ختم نہیں کیا جاتا تو سینیٹ انتخابات کا کیا بنے گا؟معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نااہل قراردیئے جاتے ہیں تو کیا ایوان میں قائد حزب اقتدار پی ٹی آئی سے ہی ہوگا یا پھر کسی دوسری جماعت سے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر ابھی تک اس حوالے سے کوئی بات چیت نہیں کی جارہی۔ پاکستان تحریک انصاف کے پاس معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو نااہل کردیئے جانے کی صورت میں فی الوقت کوئی لائحہ عمل نہیں۔ پی ٹی آئی اس وقت انتشار کا شکار ہے اور پارلیمانی ارکان اور تنظیم کے مابین اختلافات چل رہے ہیں۔ اس سے قبل ان سطورمیں بتایاگیاتھا کہ سہیل آفریدی کی نااہلی کی صورت میں تین نام بانی پی ٹی آئی کو پیش کئے جاسکتے ہیں جن میں سے جس نام کی بھی وہ منظوری دیں گے اس بات کا امکان ہے کہ وہ تمام حلقوں کیلئے قابل قبول ہوں گے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ کوئی نام ابھی تک سامنے آبھی چکا ہوجس کا مناسب وقت پر اعلان کیاجائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اب ایسے نہیں چلے گا !

اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کا ماضی میں تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شہر ِاقتدار میں پہلی مرتبہ اشرافیہ کے غیر قانونی منصوبوں کے خلاف کارروائیاں ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

کرپشن الزامات اور سیاسی محرکات!

وفاقی وزیرچوہدری سالک حسین کی جانب سے پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات نے پنجاب کے سیاسی محاذ پر نئی صورتحال طاری کر دی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس پر پانچ ارب روپے کا نوٹس بھجوادیا ہے۔

کھمبوں سے کچھ آگے بھی سوچیے!

سندھ حکومت آج کل کمال پر کمال کر رہی ہے اور میڈیا ہو یا سوشل میڈیا حیدرآباد اور سکھر چھائے ہوئے ہیں۔ دونوں شہروں نے برسوں سے خبروں کی زینت رہنے والے کراچی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

خوشحال بلوچستان، مضبوط پاکستان

بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور پائیدار استحکام کا راستہ نفرت اور انتشار سے نہیں بلکہ تعلیم، امن، جمہوری رویوں، میرٹ، شفافیت اور عوامی فلاح و بہبود سے گزرتا ہے۔

وزیر اعظم کا دورۂ راولا کوٹ

آزاد جموں و کشمیر میں ایک طرف وزیراعظم افتخار گیلانی حکومت کے آئینی اختیارات کے تحفظ، عوامی مسائل کے حل اور آزاد کشمیر کے اداروں پر اعتماد کی بحالی کی بات کرتے دکھائی دیئے تو دوسری جانب پونچھ کی صورتحال، سیاسی اختلافات اور آزاد کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق گردش کرتی اطلاعات نے سیاسی ماحول کو موضوعِ بحث بنائے رکھا۔

گھر کا ماحول، بچوں کی شخصیت کیسے بناتا ہے

بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کی شخصیت کی تعمیر میں گھر کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ گھر بچے کی پہلی درس گاہ اور والدین اس کے پہلے استاد ہوتے ہیں۔