مسجد کے آداب
شام کا وقت تھا، سورج ڈھل رہا تھا اور اذان سے پہلے کا پرسکون ماحول ہر دل کواپنی طرف کھینچ رہا تھا ۔
محلے کے چند بچے کھیل کھود چھوڑ کر مسجد کی طرف آئے مگر ان کے انداز میں وہ سنجیدگی نہیں تھی جو اس جگہ کے شایان ِ شان ہو۔
مسجد کے امام ، مولانا فاروق صاحب نہایت نرم مزاج اور بردبار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ بچوں سے سختی کی بجائے محبت سے بات کرنا پسند کرتے تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ بچے ڈانٹ سے نہیں بلکہ اچھے انداز سے سیکھتے ہیں۔
عاصم ، قاسم ، اعظم اور نعیم مسجد میں داخل ہوئے۔ اُنھوں نے وضو کیا مگر ان کی توجہ عبادت کی بجائے ایک دوسرے سے باتیں کرنے پر مرکوز ہو گئی ۔ یار آج میں نے ایسا شاٹ مارا کہ گیند سیدھی چھت پر جاگری ، عاصم نے فخر سے کہا ۔ قاسم نے فوراً ہنستے ہوئے جواب دیا، وہ تو تم نے خود ہاتھ سے چھت کے اوپر پھینکی تھی۔ یہ مذاق آہستہ آہستہ بحث میں بدل گیا ۔ اعظم نے عاصم کی بات کا مذاق اڑایا تو عاصم کو غصہ آگیااور بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی ۔
نماز کے بعد مولانا فاروق صاحب نے بچوں کو اپنے پاس بلایا ۔ ان کے چہرے پر غصہ نہیں بلکہ شفقت تھی۔ اُنھوں نے نرمی سے پوچھا ، بیٹا ! کیا تم جانتے ہو کہ مسجد میں آنے کا مقصد کیا ہے ؟ عاصم نے نظریں جھکا کر کہا ، نماز پڑھنے کیلئے آنا۔
مولانا صاحب نے مسکرا کر کہا: بالکل، اور نماز صرف جسم کا عمل نہیں بلکہ دل کی حاضری بھی ضروری ہے ۔ جب تم مسجد میں آتے ہو تو تم اللہ کے گھر میں آتے ہو ۔ یہاں شور ، لڑائی یا فضول باتیں مناسب نہیں ۔ قاسم نے شرمندگی سے کہا: ہم بس مذاق کر رہے تھے ۔ مولانا نے جواب دیا: مذاق اپنی جگہ مگر ہر جگہ کا ایک ادب ہوتا ہے ۔نبی کریمﷺ نے فرمایا: مساجد اللہ کا گھر ہیں، ان میں ذکر ِ الٰہی اور عبادت کے سوا کسی چیز کو پسند نہیں کیا جاتا۔ بچے خاموشی سے سنتے رہے ۔
اعظم نے سوال کیا: اگر کوئی بچہ مسجد میں شور کرے تو کیا کریں ؟ مولاناصاحب نے جواب دیا ، رسول اللہﷺ نے ہمیں سکھایا ہے کہ نرمی سے سمجھائو ، سختی سے نہیں ۔ پھر اُنھوں نے بچوں کو مسجد کے آداب سکھانا شروع کیے۔ مسجد میں داخل ہوتے وقت دعا پڑھو، دائیں پائوں سے داخل ہوں، وضو کی حالت میں رہو، صفیں سیدھی رکھو اور سب سے اہم خاموشی اور ادب اختیار کرو۔
عاصم نے پوچھا: اگر ہمیں کوئی ضروری بات کرنی ہو تو کیا کریں؟ مولانا نے کہا، ضرورت کے تحت دھیمی آواز میں بات کی جاسکتی ہے ، مگر فضول باتوں سے گریز کرنا چاہیے ۔ اگلے دن بچے مسجد آئے تو ان کے چہروں پر سنجیدگی تھی۔ نماز کے بعد مولانا نے دیکھا کہ بچے خاموشی سے تسبیح پڑھ رہے ہیں۔ انھیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ۔ چند دن گزرے اور بچوں کے رویے میں واضح تبدیلی نظر آنے لگی ۔ وہ اب وقت پر مسجد آتے ، خاموشی سے بیٹھتے ، اور اگر کوئی بچہ شور کرتا تو اسے نرمی سے سمجھاتے ۔
مولانا فاروق صاحب یہ سب دیکھ رہے تھے ۔ ان کے چہرے پر اطمینان تھا ۔ ایک دن اُنھوں نے بچوں کو دوبارہ اپنے پاس بلایا اور کہا ، آج میں تمھیں ایک خوبصورت بات بتانا چاہتا ہوں ۔نبی کریمﷺ نے فرمایا : جو شخص مسجد کے آداب کا خیال رکھتا ہے، اللہ اس کے درجات بلند کرتا ہے ۔
وقت گزرتا گیا اور وہی بچے جو کبھی مسجد میں شور کرتے تھے، اب دوسروں کیلئے مثال بن گئے تھے۔ ایک دن جمعہ کے خطبہ میں مولانا فاروق صاحب نے کہا ، اگر ہم اپنے بچوں کو مسجد کے آداب سکھا دیں، تو ہمارا معاشرہ خود بخود بہتر ہو جائے گا ۔
بچے آخری صف میں بیٹھے مسکرا رہے تھے ۔ انھیں احساس ہوچکا تھا کہ مسجد صرف عبادت کی جگہ نہیں بلکہ تربیت کا مرکز بھی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments