انمول سبق
اذان ہوئے پورا ایک گھنٹہ بیت چکا تھا مگر سہیل بدستور صوفے پر ٹیک لگائے ٹی وی اسکرین پر کارٹون سے محظوظ ہو رہا تھا۔ گھر کے کاموں میں مصروف اس کی والدہ نے دو بار ادھر سے گزرتے ہوئے اسے نماز کی یاد دلائی۔
پہلی بار تو اس نے بات ہوا میں اڑا دی، لیکن جب دوسری بار گزرتے ہوئے انہوں نے دیکھا کہ اٹھنے کے آثار تک نہیں ہیں، تو ان کے لہجے میں سختی در آئی: ’’سہیل! کیا تم وقت گزرنے کے بعد نماز ادا کرنے کیلئے اٹھو گے؟‘‘
ماں کی سخت ٹوک پر سہیل ریموٹ صوفے پر پٹخ کر جھنجھلاہٹ سے بولا:اوہ امی! ابھی صرف تین ہی تو بجے ہیں، میں وقت ختم ہونے سے پانچ منٹ پہلے نماز پڑھ لوں گا، اور ایک دن نہیں بھی پڑھوں گا تو کیا ہو جائے گا۔
بیٹے کی لاپرواہی پر والدہ افسوس سے سر ہلاتی ہوئی چلی گئیں۔ دل میں کسک اٹھنے پر انہوں نے پکا ارادہ کر لیا کہ آج شام وہ سہیل کے والد سے ضرور بات کریں گی تاکہ وہ اسے راہِ راست پر لائیں۔
شام ڈھلی تو سہیل کے ابوگھر لوٹے۔ رات کے کھانے پر جب بیگم نے سارا احوال گوش گزار کیا تو انہوں نے گہری سانس لی اور بولے:تم اس بات کی فکر نہ کرو، اب اس کو سنبھالنا میرا کام ہے۔
اگلے دن شام کا وقت تھا جب سہیل کسی کام سے والد کے پاس آیا۔ والد صاحب صوفے پر نیم دراز کتاب پڑھ رہے تھے۔ بیٹے کے آنے کے باوجود انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے وہیں کھڑے رہنے کو کہہ دیا۔ پانچ منٹ بیت گئے تو سہیل کے اندر بے چینی اٹھنے لگی۔ وہ آگے بڑھ کر ابو کا کندھا ہلاتے ہوئے بولا: ابو! خدارا پہلے میری بات سن لیں، کتاب اس کے بعد پڑھ لیجیے گا۔لیکن والد نے کان دھرنے کی زحمت نہ کی۔
اب کی بار سہیل غصے سے ان کے سامنے آ بیٹھا اور بولا: ابو! مجھے آپ سے نہایت ضروری بات کرنی ہے، یہ کیا رویہ ہے؟ والد نے سرد مہری سے کہا:میں نے کہا نا کہ میں پوری رات گھر ہوں، تمہاری بات تھوڑی دیر بعد سن لوں گا۔ اس وقت مصروف ہوں اور زیادہ مسئلہ ہے تو کل آ جانا۔ آج بات نہ بھی ہو سکی تو کوئی مسئلہ نہیں ، کل ہو جائے گی۔
یہ بے توجہی دیکھ کر سہیل دنگ رہ گیا۔ وہ دلبرداشتہ ہو کر اپنے والد کی جانب خفا نظروں سے دیکھنے لگا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ جو شفیق باپ اس کی ہر بات پر جان چھڑکتے تھے، وہی اسے نظر انداز کر رہے ہیں۔ غم سے اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے اور وہ لڑکھڑاتے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔ والد نے خاموشی سے اپنے روٹھے ہوئے بیٹے کو جاتے دیکھا۔
اگلی صبح ناشتے کی میز پر جب سہیل کے ابو نے دیکھا کہ رونے کے باعث اس کی آنکھیں سوجی ہوئی ہیں، تو انہوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دھیمے لہجے میں کہا:کیا بات ہے میرے بچے! آپ کچھ اداس نظر آ رہے ہیں؟
سہیل خفا نظروں سے بولا:اگر آپ اپنی مصروفیت چھوڑ کر میری بات سن لیتے تو مجھے اچھا لگتا؟ آپ جانتے ہیں میں آپ سے کس قدر محبت کرتا ہوں! کیا کوئی اپنا بلائے تو اسے یوں نظر انداز کیا جاتا ہے؟۔والد نے گہری سانس لے کر محبت بھری نظروں سے دیکھا اور بولے:میرے بچے! ذرا سوچو، وہ ذات جو ہمیں ستر ماؤں سے بھی بڑھ کر پیار کرتی ہے، جب دن میں پانچ بار ہمیں بلاتی ہے اور ہم ہر بار اس کی پکار کو دنیا کی رنگینیوں کی خاطر نظر انداز کر دیتے ہیں، تو کیا ہمارا خالق ہم سے ناراض نہیں ہوتا ہو گا؟ عارضی مصروفیت کو بمشکل دس منٹ کیلئے ترک کر کے اس پروردگار کی پکار کا جواب دینا زیادہ اہم ہے یا دنیا کے فانی کاموں کو فوقیت دینا؟۔
باپ کی بات کو سن کر سہیل چند لمحوں تک حیرت سے ان کا منہ تکتا رہا، پھر شرمندگی سے اس کی پلکیں جھک گئیں اور وہ خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا۔ اس صبح والد نے زندگی کا جو انمول سبق اسے سکھایا تھا، وہ تاحیات یاد رکھنے کے لیے کافی تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments