عقیدہ آخرت
اسپیشل فیچر
کسی تہذیب کی خوبیاں اور خامیاں پرکھنے کے لیے اس کے بنیادی عقائد و نظریات سمجھنا ضروری ہیں۔اسلامی تہذیب کے بنیادی عقائد پانچ ہیں ۔عقیدۂ توحید،عقیدۂ رسالت، ملائکہ پر ایمان، آسمانی کتابوں اور آخرت پر ایمان۔ آخرت سے مراد دَارِ آخرت ہے،اس کا قرآن کریم میں دارالقرار ،دارالحیوان اور عقبیٰ کے نام سے ذکر کیا گیا ہے ۔عقیدۂ آخرت سے مراد ایک ایسا جہاں ہے جس میں انسان مرنے کے بعدقیامت کے روز دوبارہ اٹھایا جائے گا اور پھر اُسے اپنے تمام اعمالِ نیک وبد کا بدلہ دیا جائے گا یعنی یا تو جنت کا فیصلہ سنا دیا جائے گا یا پھر دوزخ کا۔آخرت سے مراد یہی ہے کہ ایک ایسا دن جس میں اللہ تعالیٰ کھرے کھوٹے ،نیک وبد ،اَچھے بُرے ،کافر ومومن ،نَمازی بے نَمازی ،ظَالم و مظلوم سمیت تمام انسانوں کا دو ٹوک فیصلہ سنائے گا ۔ہم اپنی آنکھوں سے اس جہاں میں دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ انتہائی شریف ہوتے ہیں اور اُن میں اللہ کے خوف کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ انسان تو کیا ،کسی جانور کو بھی ایذا پہنچانے کا تصور نہیں کرسکتے ،جب کہ کئی لوگ اس کے برعکس حد درجہ موذی ،شرارتی اور ظالم ہوتے ہیں کہ جن کے ظلم وستم سے دنیا تنگ ہوجاتی ہے ۔لوگوں کی اِس بھیڑ میں ایسے انسان بھی ہیں جو اللہ کے احکامات کا تصورکرکے ہرقسم کے گناہ سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ،جب کہ ایسے افراد بھی نظرآتے ہیں جو ان خیالات کو دقیانوسی قرار دے کر شتر بے مہار زندگی گزارتے ہیں ،جس میں وہ ہر طرح کی قانونی،اخلاقی،مذھبی،سماجی اور تہذیبی حد بندیوں سے آزاد ہو کراپنی خواہشات کی تسکین کوہی زندگی کا مقصد بناکردنیا کی رنگینیوں میں جانوروں کی طرح مست رہتے ہیں ۔غفلت ،فریب اور بے بنیاد اُمیدیںاُنہیں چاروں طرف سے گھیرے رکھتی ہیں،سراب جیسی اُمیدیں اُنہیں آخرت سے دھوکے میں ڈالے رکھتی ہیںاور بُرے اعمال اُن کے دل زنگ آلود کردیتے ہیں ۔چناں چہ نفس کی پُوجا میں وہ اس قدر آگے نکل جاتے ہیں جس میں وہ حلال وحرام ،جائزو ناجائز،پاکی ناپاکی ،انسانیت وحیوانیت اورعدل وظلم کافرق بھی بھول جاتے ہیں،اُن کا مطمحِ نظر صرف یہی ہوتا ہے کہ ہمارامطلب کس طرح پورا ہوگا اور بس!یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے،’’وہ دُنیاوی زِندگی کا صِرف ظَاہری رُخ جانتے ہیں،اور آخرت کے بارے میں اُن کا حال یہ ہے کہ وہ اُس سے بالکل غافل ہیں۔‘‘(آیت 7۔سورہ روم)یہ دُنیا سزا وجزا کا جہاں نہیں ہے ،کیوں کہ نیک وبَد اعمال کا بدلہ یا پورا بدلہ اس دُنیا میں نہیں ملتا،دوسری طرف عدل وانصاف اور عقل کا یہ تقاضا بھی ہے کہ نیک وبد ،اَچھا اور بُرا، ظَالم اور مظلوم برابر نہ رہیں ،بلکہ ہر عمل کی جزا یا سزا ضرور مِلنی چاہیے تاکہ مظلوم کی بھرپور دادرسی ہواور ظالم کیفرکردار کو پہنچے ،جیسا کہ قرآن حکیم نے خود یہ مضمون سورۂ مومن میں وضاحت سے فرمایا ہے،’’بینا اور نابینا اور (ایک)وہ لوگ جو اِیمان لائے اور اُنھوں نے اچھے کام کیے اور (دوسرے) بَدکِردار باہم برابر نہیں ہوسکتے،تم لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہو،قیامت تو ضرور ہی آکر رہے گی (تاکہ ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلہ مل جائے)اس کے آنے میں کِسی طرح کا شَک ہے ہی نہیں،مگر اَکثر لوگ اِیمان نہیں لاتے۔‘‘(آیات 58-59۔سورۃ المُومن)اس لیے ضروری ہوا کہ اس کائنات کے بعد کوئی ایسا عَالَم ہو جس میں ہر چھوٹے بڑے اور اچھے بُرے عَمل کا حِساب اور اُس کی جزا یا سزاانصاف کے مطابق ملے ،اسی کو قرآن کریم کی اصطلاح میں ’’روزجزا‘‘، ’’قیامت‘‘ یا ’’آخرت ‘‘ کہا جاتا ہے ۔اسلام اور تمام آسمانی صحیفوں میں اس عقیدے کی تعلیم اور تَصوّرموجود ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے،’’جِس دِن سَب لوگ اللہ کے سامنے آموجود ہوں گے ،اُن کی کوئی بات اللہ تعالیٰ سے مَخفی نہ رہے گی ،آج کے روز کس کی حکومت ہوگی ؟بس اللہ ہی کی ہوگی جو یِکتا اور غالب ہے ،آج ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا،آج کِسی پر ظُلم نہیں ہوگا ،اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والے ہیں۔‘‘(آیات 16-17،سورۃ الغافر) اسلامی عقائد میں یہی(عقیدۂ آخرت) وہ انقلابی عقیدہ ہے جس نے دُنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دی اور جس نے آسمانی تعلیم پر عمل کرنے والوں کو پہلے اخلاق واَعمال میں اور پھر دُنیا کی سیاست میںاقوام عالم کے مقابلے میں نمایاں برتری دلائی اور امتیازی مقام دلوایا،یہ عقیدہ بھی عقیدۂ توحید ورسالت کی طرح تمام انبیائے کرام اور تمام شریعتوںمیں مشترک اور متفق علیہ چلا آرہا ہے۔عقیدۂ آخرت ہی وہ عقیدہ ہے جس پر پورا عمل کرنے کی وجہ سے اسلام کی اَوّلین صدیوں میں ایسا پاک باز معاشرہ وجود میں آیا کہ جن کا چال چلن دیکھ کر غیر مسلم طبقہ اسلام کا گرویدہ ہوجاتا اوروہ لوگ دِل وجان سے اسلام قبول کرلیتے تھے ۔عقیدۂ آخرت ہی وہ عقیدہ ہے جو دُنیامیں اَمن وسلامتی کا ضامن ہے ،اس سے نہ صرف یہ کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہوسکتا ہے بلکہ دُنیا جنت نظیر بن سکتی ہے ،کیوں کہ جب ہر انسان کو آخرت میں جواب دہی کا خوف ہوگا تو اس کی کسی کی بھی جرم کی طرف جانے کی ہمت نہیں ہوگی ،یعنی جرائم کے سد باب کے لیے یہ عقیدہ آج کی دنیا کے لیے ہر چیز سے پہلے ضروری ہے تاکہ دُنیا اس کی برکتوں کااپنی آنکھوںسے مشاہدہ کرسکے ،مگر یہ تب ہوگا جب ہر انسان اس پر آمادہ ہو ۔دُعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت پر غیرمتزلزل ایمان نصیب فرمائے ۔(آمین)