گلوبل وارمنگ کے تباہ کن اثرات سامنے آنے لگےتھویٹس گلیشیئر کے انہدام نے ساحلی علاقوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دیزمین کا جنوبی قطب، جو صدیوں سے برف کے عظیم ذخائر کا محافظ سمجھا جاتا تھا، آج موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے۔ انٹارکٹیکا میں موجود ''تھویٹس گلیشیئر‘‘ جسے دنیا بھر کے ماہرین ''ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ کے نام سے جانتے ہیں، تیزی سے پگھلنے کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس گلیشیئر کی برفانی تہہ مکمل طور پر ٹوٹ گئی تو دنیا بھر میں سمندری سطح خطرناک حد تک بلند ہو سکتی ہے، جس سے ساحلی شہر، جزائر اور کروڑوں انسان متاثر ہوں گے۔ یہ صورتحال نہ صرف ماحولیاتی بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ انسان کو یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ قدرت کے نظام میں بے احتیاطی کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔انٹارکٹیکا کا ''ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ مکمل تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے اور سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ رواں سال اپنی پوری برفانی تہہ بھی کھو سکتا ہے۔ تھویٹس گلیشیئر دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئرز میں شمار ہوتا ہے اور اس کا رقبہ تقریباً برطانیہ کے برابر ہے۔ اگر یہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا تو سمندروں کی سطح میں حیران کن حد تک 26 انچ (65 سینٹی میٹر) اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے دنیا کے ساحلی علاقوں میں تباہی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ اب محققین کا کہنا ہے کہ گلیشیئر کو سہارا دینے والی تیرتی ہوئی برفانی دیوار چند مہینوں میں ٹوٹ کر بکھر سکتی ہے۔تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف برف کی ایک عظیم دیوار ہے جو گلیشیئر کے مشرقی کنارے سے جڑی ہوئی ہے اور برف کے سمندر میں بہاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔یہ حفاظتی برفانی رکاوٹ 1,150 فٹ (350 میٹر) سے زیادہ موٹی ہے اور 580 مربع میل (1,500 مربع کلومیٹر) رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، جو تقریباً گریٹر لندن کے برابر بنتا ہے۔ تاہم، انٹارکٹیکا کے گرد سمندروں کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے یہ برفانی قلعہ تیزی سے پتلا ہوتا جا رہا ہے۔ برٹش انٹارکٹک سروے کے بحری جغرافیائی ماہر ڈاکٹر رابرٹ لارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اس برفانی تہہ کا ٹوٹ جانا ''بہت زیادہ امکان ہے کہ اسی سال کسی وقت واقع ہو جائے‘‘۔اگرچہ سائنسدان نہیں سمجھتے کہ تھویٹس گلیشیئر کا مکمل انہدام فوری طور پر ہونے والا ہے، لیکن متعدد مطالعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف تباہی کے دہانے پر ہے۔ لائیو سائنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر لارٹر نے کہا کہ گلیشیئر کے سامنے موجود برفانی تہہ کا آخری حصہ ٹوٹ کر بکھرنے کے قریب ہے۔ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ یہ برفانی تہہ کس طرح ٹوٹے گی، لیکن یہ یقینی طور پر ختم ہو جائے گی۔ اس بڑی تبدیلی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گرم پانی برف کے نیچے بہہ کر اسے اندر سے پتلا کر رہا ہے۔ایک حالیہ مہم میں برفانی تہہ میں سوراخ کر کے کیے گئے مطالعے سے معلوم ہوا کہ تھویٹس کے نیچے موجود پانی گرم ہو رہا ہے، جو اس کے پگھلنے کے عمل کو تیز کر رہا ہے اور اس کی ساخت کو کمزور بنا رہا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ برفانی تہہ میں نئی دراڑیں تیزی سے پیدا ہو رہی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ دراڑیں اب ''گراؤنڈنگ لائن‘‘ کے ساتھ ساتھ بن رہی ہیں، یعنی وہ مقام جہاں تیرتی ہوئی برف نیچے موجود چٹان سے ملتی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برف کے اندرونی حصوں کی طبعی حالت بدل چکی ہے اور اب یہ تہہ خود کو توڑ رہی ہے کیونکہ برف اس اہم ''پننگ پوائنٹ‘‘ سے ٹکرا رہی ہے۔ڈاکٹر لارٹر کے مطابق اس وقت یہ برفانی تہہ گلیشیئر سے الگ ہو کر ٹوٹ رہی ہے، اور اس کی اندرونی ساخت زیادہ سے زیادہ کمزور اور نازک ہوتی جا رہی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کی ترتیب وار (سیریز) میں آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ دراڑیں اور شگاف مسلسل بڑھ رہے ہیں۔جنوری 2020ء سے جنوری 2026ء کے درمیان محققین نے پایا کہ تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف کی بہاؤ کی رفتار تین گنا بڑھ کر سالانہ 2,000 میٹر سے کچھ زیادہ ہو گئی ہے۔اس سال کے آغاز کے ابتدائی پانچ مہینوں میں یہ برفانی تہہ مزید تیزی سے حرکت کرنے لگی ہے۔صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ ڈاکٹر لارٹر نے نیو سائنٹسٹ کو بتایا کہ برٹش انٹارکٹک سروے نے اس برفانی تہہ کیلئے پہلے ہی ایک ''تعزیتی (obituary) پریس ریلیز‘‘ تیار کر لی ہے۔اگر تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف اسی سال ڈاکٹر لارٹر کی پیشگوئی کے مطابق ٹوٹ جاتا ہے تو بہت سے سائنس دانوں کو خدشہ ہے کہ یہ پورے ''ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ کی تباہی کے عمل کو مزید تیز کر سکتا ہے۔برفانی تہہ کی سہارا دینے والی مخالف قوت ختم ہونے کے بعد بعض ماہرین کا خیال ہے کہ گلیشیئر سمندر کی طرف اپنی رفتار اور تیزی سے بڑھنا شروع کر دے گا۔آخرکار یہ صورت حال گلیشیئر کے مکمل انہدام تک پہنچ سکتی ہے۔تاہم، چاہے یہ چند دہائیوں میں ہو یا چند صدیوں میں، ڈاکٹر لارٹر کا کہنا ہے کہ تھویٹس گلیشیئر کا ٹوٹنا یقینی ہے۔ اگر ہم 2050ء تک نیٹ زیرو (کاربن اخراج) بھی حاصل کر لیں، تب بھی یہ گلیشیئر ختم ہو جائے گا۔ یہ سمندر کی سطح میں 65 سینٹی میٹر (26 انچ) اضافہ کرے گا اور دنیا کے کئی حصوں کیلئے اس سے نمٹنا انتہائی مشکل ہو گا۔یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے آئس شیٹ ماہر ڈاکٹر ڈینیئل گولڈکہتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر لارٹر سے اتفاق کرتے ہیں کہ تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف اس سال کے دوران تباہی کے دہانے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیٹلائٹ تصاویر میں یہ ایسے لگتا ہے جیسے برف کے بہت سے ٹکڑے ہوں جو محض اکٹھے تیر رہے ہوں۔ تھویٹس کے برفانی شیلف کا ختم ہونا لازمی طور پر اس طرح کی تیز رفتار تباہی کو جنم نہیں دے گا جیسا کہ بعض سائنسدان پیش گوئی کرتے ہیں۔تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف کے علاقے میں تو کچھ بڑے تبدیلیاں ضرور ہوں گی، لیکن مجموعی طور پر تھویٹس گلیشیئر پر اس کا اثر کچھ حد تک زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔اسے ''ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ کا لقب کیوں دیا گیا؟تھویٹس گلیشیئر جو رقبے میں تقریباً برطانیہ یا امریکی ریاست فلوریڈا کے برابر ہے کو ''ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض مقامات پر اس کی برف کی موٹائی 2ہزار میٹر تک ہے۔ اگر یہ گلیشیئر مکمل طور پر منہدم ہو جائے تو عالمی سطح پر سمندروں کی سطح میں 65 سینٹی میٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ اضافہ کئی ساحلی آبادیوں کو پانی میں ڈبو دے گا، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو اپنے گھروں سے ہجرت کر کے محفوظ اندرونی علاقوں کی طرف جانا پڑے گا۔