گولڈن گیٹ برج
اسپیشل فیچر
یوں تو سان فرانسسکو میں دلچسپی کے مراکز سیکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں گویا کہ شہر Big City With A Big List of Attractions کی حقیقی تصویر معلوم ہوتا ہے جن میں میوزیم، پارک، شاپنگ ایریا اور پہاڑی علاقے اپنی بے پناہ رنگینیوں کے ساتھ سیاحوں کے لیے اپنے بازو دراز کیے ہوئے ہیں لیکن جب بھی اور جہاں بھی سان فرانسسکو کا ذکر آئے گا وہاں گولڈن گیٹ برج کا ذکر ضرور آئے گا یوں سمجھئے کہ سان فرانسسکو کی پہچان کا تاج گولڈن گیٹ برج نے اپنے سر پر سجا لیا ہے۔ گولڈن گیٹ برج دنیا میں سب سے زیادہ سیاحوں کی نگاہوں کا مرکز ہے اور دنیا میں جس معلق پل کی سب سے زیادہ تصاویر بنائی گئی ہیں وہ گولڈن گیٹ برج ہی ہے۔ یہ پل 1937ء میں چار برس کے عرصہ میں پایہ تکمیل کو پہنچا اور اسی سال 27 مئی کو اسے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا اور اسی سال مئی میں اس پل کی 75 سالہ تقریبات منائیں گئیں۔ اسے انجینئروں کے ہنر کا نچوڑ کہا جاتا ہے۔ اس پل کی ڈیزائننگ جوزف سٹراس نے کی۔ جوزف انجینئر کے علاوہ ایک شاعر بھی تھا۔ جب یہ پل مکمل ہو گیا تو جوزف نے ایک نظم لکھی جس کا عنوان تھا The Mighty Task is Done.۔جہاں پر خلیج فرانسسکو کا آغاز ہوتا ہے۔ بالکل اسی جگہ یہ عظیم پل بنایا گیا ہے۔ یہ جنوب میں واقع میرن (Marin County) کو شمال میں سان فرانسسکو سے ملاتا ہے۔ اس پل کی لمبائی 8981 فٹ یعنی 1.7 میل ہے۔ اس کے ایک ستون سے دوسرے ستون کا فاصلہ 4200 فٹ ہے۔ اس کے ستونوں کی لمبائی 746 فٹ اور چوڑائی 90 فٹ ہے۔ پانی کی سطح سے پل کا درمیانی فاصلہ 220 فٹ ہے تاکہ سمندری جہاز اس پل کے نیچے سے آرام سے گزر سکیں۔ اس پل کی چھ لین ہیں۔ شمالاً جنوباً قومی ہائی وے نمبر 101 اور ریاست کے لیے فورینا کی ہائی وے نمبر ایک اسی پل کے اوپر ے گزرتی ہیں۔ اس پل کی مصروفیات کا یہ عالم ہے کہ روزانہ پونے دو لاکھ گاڑیاں یہاں سے گزرتی ہیں۔ امریکہ کی سول انجینئرنگ کی سوسائٹی نے اس پل کو جدید دنیا کا ایک عجوبہ بلکہ شاہکار قرار دیا ہے اس پل کے اطراف میں پیدل چلنے والوں اور سائیکل پر سفر کرنے والوں کے لیے بھی جگہ مخصوص کی گئی ہے۔ امریکہ کی تعمیرات کے مستند ادارے ’’امریکن انسٹیٹیوٹ آف آرکی ٹیکس‘‘ کے مطابق سب سے زیادہ پسند کی جانے والی تعمیرات میں گولڈن گیٹ برج کا پانچواں نمبر ہے۔ اس پل کے چار سالہ دور تعمیر میں 11 کارکن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 19 کارکنوں کو بچایا گیا تھا۔ کیونکہ نیچے کی طرف ایک مضبوط جال بچھا دیا گیا تھا۔ اس لیے وہ 19 مزدور گرے ضرور لیکن خوش قسمتی سے جال نے ان کو اپنی آغوش میں لے لیا اور اس طرح یقینی موت کے منہ میں جانے سے بچ گئے۔