گشف المحجوب
اسپیشل فیچر
حضرت سَیّد علی ہجویریؒ المعروف داتا گنج بخش نے تِشنگانِ علم و معرفت کے لیے ایک ایسی کتاب تصنیف کی جو راہِ سلوک کے مسافروں کے لیے تاقیامت مینارۂ نور کا درجہ رہے گی۔ اس کتاب میں انہوںنے اسلامی تَصوّف کے اِسرار و رَموز دِل کَش پیرائے میں وضاحت کے ساتھ بیان فرمادیے۔ اس کے علاوہ غیر اسلامی تَصوّف و نظریات جو اُمت مُسلِمہ کے عقائد میں درآئے تھے، ان کی نشان دہی بھی فرمادی تاکہ کوئی راہِ سلوک کا مسافر بے خبری میں راہ حق سے بھٹک نہ جائے۔ یہ دینی خدمتِ عظمیٰ صدقۂ جاریہ کا مقام رکھتی ہے اور تاقیامت آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ یہ کتاب عوام الناس کے لیے بھی اتنی ہی مفید ہے جتنی خواص کے لیے، کیوں کہ یہ اسلام کے پیغامِ مُحبت اور سلامتی کے پرچار کا دل نواز مُرقّع ہے۔اس کتاب کی بدولت پاک وہند میں تَصوّف اور رُوحانیت نے بڑا فروغ پایا۔ حقیقی تَصوّف سے عوام کو روشناس کرانے میں اس کتاب نے بڑا اہم اور نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی وجہ سے کَشف المحجوب علم وتَصوّف پر حضرت داتا صاحبؒ کی ایک شہرۂ آفاق تصنیف مانی گئی ہے۔ جو موضوع اور متن کے اعتبار سے بُلند پایہ اور اَنمول خزینہ ہے۔ اس کتاب کو تَصوّف کے آئین کا درجہ حاصل ہے۔ اس نابغۂ روز گار کتاب میں خود حضرت داتا صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ، ’’میں نے یہ کتاب علمِ حقیقت و عرفان کے بارے میں اپنے ایک رفیق حضرت ابو سعید ہجویری کے سوالات کے جوابات میں تحریر کی ۔‘‘ اور اس کتاب کے نام کی وضاحت کرتے ہوئے آپ ؒ نے لکھا ہے کہ، ’’میں نے اس کتاب کا نام کشف المحجوب(یعنی پردوں کا اُٹھانا، حجابات کا اُٹھانا) رکھا ہے کہ اس نام سے ہی اہلِ علم و فکر جان لیں کہ اس سے کیا مراد ہے۔‘‘کشف المحجوب شریعت و طریقت کے قواعد و ضوابط ، اِسرار و رَموز اورصوفیانہ فِکر و نظر کے متعلق ہر دور میں عظیم تخلیق قرار دی گئی ہے۔یوں تو تَصوّف کے مسائل و مضامین کی تدوین میں کشف المحجوب سے پہلے اور بعد میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مثلاًالرعایہ لحقوق اﷲ۔ کتاب اللمع، التعرف لمذہب اہل تصوف، قوت القلوب، الرسالۃ القشیریہ، طبقات الصوفیہ للسلمی بہت پہلے لکھی گئی ہیں۔ جب کہ احیاء علوم الدین، فتوح الغیب، الغنیہ، صفتہ الصفوۃ ، تذکرہ الاولیا، عوارف لمعارف، گلشن راز، مثنوی معنوی، فتوحات مکیہ اور فصوص الحکم وغیرہ اس کے بعد لکھی گئیں مگر ان سب کتابوں کے درمیان کشف المحجوب امتیازی حیثیت کی حامل ہے۔ یہ کتاب جامعیت، اختصار اور واضح اسلوب بیان کے ساتھ مختلف مسائل پر مجتہدانہ انداز سے بھر پور نقد و بحث کرتی ہے۔ کشف المحجوب کے علمی مرتبہ کی وضاحت ذیل کے اقوال سے ہوتی ہے۔سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء ؒ فرماتے ہیں، ’’اگر کسی کا پیر نہ ہو تو وہ اس کتاب کا مطالعہ کرے تو اُسے پیر مل جائے گا‘‘۔ یعنی یہ کتاب پیر کادرجہ رکھتی ہے۔(دُاّرّنظامی۔ ملفوظات خواجہ نظام الدین اولیاؒ)مولانا عبدالرحمٰن جامیؒ کشف المحجوب کے متعلق فرماتے ہیں، ’’یہ کتاب اس فن کی مشہور و معتبر کتابوں میں سے ہے۔‘‘(نفحات الانس) شاہ جہاں کے بیٹے شہزادہ دار اشکوہ جو مشہور بزرگ میاں میر لاہوری ؒ کے شاگرد تھے اپنی کتاب میں فرماتے ہیں،’’یہ مُرشَد کامل ہے اور تَصوّف کی کتابوں میں اس خوبی کی کتاب تصنیف نہیں ہوئی۔‘‘ (سفینۃ الاولیأ)’’اسے دَرجہ اَوّل کی کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔‘‘ (ملک الشعراء محمد تقی بہار: سبک شناسی) روس کے مُحقّق پروفیسر زوکوفسکی جنہوں نے اس کتاب کا اَوّلین ترجمہ روسی زبان میں کیا ،کتاب کے مقدمے میں تحریر فرماتے ہیں،’’فارسی میں تصوف کے موضوع پر یہ قدیم ترین کتاب ہے۔‘‘ (محمد لوی عباس۔ مقدمۂ کِشف المحجوب ژوکوفسکی )کشف المحجوب کو صوفیائے کرام کے مشہور و مستند تذکروں اور تَصوّف کی معتبر کتابوں کا ماخذ و مَصدر ہونے کا شرف حاصل ہے۔ خواجہ فرید الدین عطارؒ نے اپنی معروف کتاب’’تذکرۃ الاولیا‘‘ میں کَشف المحجوب سے استفادہ کیا ہے اور صوفیائے متقدمین کے اقوال معمولی سے رد وبدل کے ساتھ نقل کیے ہیں۔ اکثر مقامات پر شیخ فریدالدین عطار نے حضرت داتا صاحبؒ کی عبارتوں سے بغیر حوالے کے استفادہ کیا ہے، البتہ دو مقامات پر حضرت داتا صاحبؒ کا نام لے کر ان کے اقوال نقل کیے ہیں۔مولانا جامی رحمتہ اﷲ نے اپنی بلندپایہ کتاب ’’نفحات الانس‘‘ میں بعض بزرگوں کے حالات کشف المحجوب سے اخذ کیے ہیں۔خواجہ شرف الدین یحییٰ منیری (782 ہجری) اپنے مکتوبات میں کشف المحجوب کی عبارتیں سند کے طور پر نقل کرتے ہیں۔مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمتہ اﷲ علیہ کے ملفوظات کے مجموعے’’لطائف اشرفی‘‘ میں متعدد مقامات پر کشف المحجوب کے حوالے ملتے ہیں۔حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز ؒ نے اپنی تصانیف میں جابجا کشف المحجوب کے حوالے دیے ہیں۔برصغیر میں بزرگانِ چُشت جن دو کتابوں کو نصاب تعلیم و تربیت کے طور پر اہتمام سے پڑھاتے رہے وہ عوارف المعارف اور کشف المحجوب ہیں، ان میں سے کشف المحجوب کو رفتہ رفتہ زیادہ اہمیت حاصل ہوتی گئی۔ حضرت نظام الدین اولیائؒ نے اسے مُرشدِ بَرحق کا لقب دیا اور برصغیر سے باہر شیخ فرید الدین عطار ؒ نے اپنی کتاب تذکرۃ الاولیاء میں کشف المحجوب سے واضح استفادہ کیا جب کہ خواجہ محمد پارسا اور خواجہ یعقوب چرخیؒ نے اپنی کتابوں میں کشف المحجوب کے حوالوں سے اپنے مؤقف کی تائید کی ہے۔کشف المحجوب کا اَدبی اسلوب نگارش سہل ممتنع کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ رواں اور سُبک ہے۔ ثقیل، نامانوس اور سوقیانہ الفاظ و عبارات سے پاک ہے، عام فہم، سادہ اور تقریباً ایک ہزار سال گزرنے کے باوجود آج بھی پُرکشش ہے۔کشف المحجوب کی پزیرائی ہر مکتب فکر میں ہوئی۔ حضرت نظام الدین اولیاء ؒ نے تو اسے مرشدِ کامل کا درجہ دیا۔ شرف الدین یحییٰ منیریؒ جہانگیر اشرف سمنانی داراشکوہ قادری جیسے اہل قلم و دانش اس کتاب کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان رہے۔ صوفی مکتب فکر کے علاوہ دیگر مکاتب فکر بھی اس کتاب کی اہمیت کے قائل ہیں۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے جانشین، جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر میاں طفیل محمد نے کچھ کتابوں کے تراجم بھی کیے۔ جس میں خصوصاً سید علی ہجویریؒ کی شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب کا ترجمہ شامل ہے۔ کشف المحجوب دنیا کی بڑی بڑی لائبریریوں کی زینت ہے۔ امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی ہی نہیں دنیا کی اعلیٰ درس گاہوں میں شعبہ اسلام و تَصوّف میںپڑھائی جاتی ہے۔فارسی میں لکھی جانے والی اس کتاب کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔حضرت داتا گنج بخش ؒ علم وفضل میں مجتہدانہ شان رکھتے تھے۔ وہ صاحب صحو، صاحبِ مُقام اور صاحبِ مسلک صوفی تھے اور تَصوّف کے مدونین فن میں ان کا نام امام قشیری ؒ و عبدالرحمن سلمیؒ کے بعد اور امام غزالی ؒ و شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ سے پہلے آتا ہے لہٰذا ان کی تعلیمات نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ آپ کی کتاب کشف المحجوب حقیقت میں علوم تَصوّف کا ایک جامع اور مختصر انسائیکلوپیڈیا ہے۔ حضرت داتا گنج بخش ؒ نے اس میں تَصوّف کی شرعی حیثیت بیان کرنے کے بعد اس کی مختصر اور جامع تاریخ پر قلم اُٹھایا اور اسے اپنے زمانے تک بیان کیا ہے۔ صوفیاء کے مختلف فرقوں پر بحث و تنقید کی ہے بعد ازاں تصوف کی رسوم، حقائق اور اخلاق پر فصول تحریر کی ہیں اور آخر میں اس کی 65 اصطلاحات کی تشریح قلم بند کی ہے۔